دھرتی پُران۔۔۔(19)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چاند کی بُڑھیا دیکھ رہی تھی
پہلے اُبھرے کئی سمندر
پھر کچھ اونچے اونچے پربت
کچھ ایسے بھی، جن کے منہ سے
آگ کے شعلے نکل رہے تھے
پھر بادل گھر گھِر کر آئے
پانی کی بوچھاڑیں برسیں
ٹھنڈک سی محسوس ہوئی، تو
چین کا سانس لیا دھرتی نے
دریا، ندیاں، نالے
اُس کے مَٹ میلے آکار پہ، جیسے (آکار : جسم)
شریانوں سے پھوٹ بہے

٭
دھرتی کے یہ رنگ بدلتے
موسم بڑھیا دیکھ رہی تھی

٭
چاند کی بڑھیا اونگھ گئی کچھ دیر کو، لیکن

جب جاگی ، تو اُس نے دیکھا
دھرتی بالکل بدل گئی تھی
بُُڑھیا تو پہچان نہ پائی اس دھرتی کو
جس کی صورت
روزانہ دیکھا کرتی تھی
عینک کے موٹے شیشوں کو
پلو سے کچھ صاف کیا
تو دیکھا اس نے ۔۔۔۔
سبز گھنے جنگل، نیلے ساگر لہراتے
ندیاں، نالے، جھیلیں،دریا
برفانی تودے
جھر جھر کرتے فواروں سے
ابل ابل کر گرتے جھرنے
گھاس، جھاڑیاں
دور دور تک پھیلے میدانوں میں چرتے
مال مویشی
ہوا میں اُڑتے پنکھ پکھیرو
اور ۔۔۔ دو پائے

٭
چونک گئی کچھ
کچھ گھبرائی
چاند کی بڑھیا
یہ کیسی مخلوق تھی، جس نے
مِل جُل کر رہنا سیکھا تھا
گاؤں، بستیاں، کھیت، طویلے
نہریں، سڑکیں، بیل گاڑیاں، گھوڑے ہاتھی
بھیڑ بکریاں، گائیں، بھینسیں
جن کو اس دو پائے کی مخلوق نے اپنے بس میں کر کے
اپنی خدمت کرنے کا فن سکھلایا تھا

٭
چاند کی بڑھیا دیکھ رہی تھی
اک خط اُبھرا دھرتی کے سینے پر، جس کو
اس کے بیٹوں نے کھینچا تھا
چین کی سرحد پر لمبی دیوار
جسے وہ
اپنی عینک کے شیشوں سے
بنتے بنتے دیکھ رہی تھی

٭

یہ تو بڑھیا نے دیکھا، پر دیکھ نہ پائی
وہ آڑی ، ترچھی، بے ہنگم سی ریکھائیں
جو دھر تی کے بیٹے مل کر
سرحد سرحد کھینچ رہے تھے
دھرتی کے سینے کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے
بانٹ رہے تھے

یہ جاپا ن ہے، یہ امریکا
یہ بھارت ہے
عرب دیس کی یہ سرحد ہے
یہ افریقہ، یہ یورپ ہے
مہا دیپ،یہ بڑے بڑے ٹکڑے دھرتی کے (مہا دیپ : بر اعظم)
جن میں لاکھوں لوگ، قبیلے
نسل، رنگ اور قومیت کی بنیادوں پر
اپنی ماں کو بانٹ رہے تھے
مہا دیپ سب اک جیسے تھے
لیکن ان کے اندر جو ریکھائیں تھیں، وہ
سرحد سرحددھرتی ماں کو کاٹ رہی تھیں
چاند کی بڑھیا یہ سب بالکل دیکھ نہ پائی

٭

صدیاں گزریں
بڑھیا خوش تھی
دھرتی ماں کے بیٹے ماں کی گود میں پل کر
بڑے ہوئے تھے
ماں کی گود ہری تھی
بیٹوں کی دنیا آباد تھی۔۔۔اس میں چکا چوندھ تھی
بستی بستی بسی ہوئی تھی
خوش خوش بڑھیا
خوش خوش دھرتی

٭
صدیاں گزریں
چاند کی بڑھیا روز زمیں کو
چاند کے کالے آسمان پر
چڑھتے اترتے دیکھ رہی تھی

٭

یہ کیسا طوفان تھا، جو اک
چھتری کی مانند ہوا میں اونچا اٹھتا
شعلوں میں ملبوس کسی راون سا جلتا
میلوں اونچا
دور خلا تک
چاند کی جانب لپک رہا تھا؟

٭
بڑھیا کچھ بھی سمجھ نہ پائی
دھرتی کے بیٹوں نے کس دوزخ کے بھوت کو
خوابیدہ جِنات کی بوتل کے زنداں سے کھینچ نکالا؟

٭
ایک دو، دس بیس، سینکڑوں
ایسے ہی طوفان اٹھے ، تو
بڑھیا نے گھبرا کر اپنا پہلو بدلا

آنکھیں میچیں
اپنی عینک کے شیشوں کو توڑ دیا
بھنا کر بولی
یہ نا خلف تو ماں کی عزت کو لوٹیں گے
اپنا گھر برباد کریں گے
دھرتی جل کر آگ کا گولہ بن جائے گی
ایسی قیامت؟ یہ پرلَے کا منظر
کیسے میری بوڑھی آنکھیں دیکھ سکیں گی؟
میں بڑھیا اندھی کی اندھی ہی اچھی ہوں
کبھی نہیں دیکھوں گی اب دھرتی کی جانب

٭

چاند کی بڑھیا نے دھرتی کی سمت دیکھنا
چھوڑ دیا ہے!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *