میرے جگنو سارے روٹھ گئے۔۔۔رمشا تبسّم

مجھے جگنو پسند تھے
کسی درخت کی شاخ پر بیٹھے جگنو
یونہی لگتے تھے کہ
آسمان کے تارے ٹہنیوں پر سج گئے
انکی روشنی سے میری آنکھیں چمک اُٹھتیں
پھر وہ میری آنکھوں پر فدا ہو جاتا
اور میں اس کے فدا ہونے پر شرما جاتی
وہ اکثر شام مجھے کہتا
چلو جگنوؤں سے مل کر آتے ہیں
کسی شوقِ وصل کے دریا کنارے
محبت کی دھن سنتے ہوئے
تمہیں جگنو دکھاتا ہوں
میں ہمیشہ ہی نادان، نا سمجھ
اسکے پیچھے چل دیتی
یہ جانتے ہوئے بھی کہ
اب جگنوؤں کا یہاں سے گزر نہیں
کوئی شوقِ  وصل کا دریا نہیں
کوئی روشنی اب سلامت نہیں
وہ کسی درخت کے نیچے
بیٹھا کئی کئی  گھنٹے
میرے بالوں میں
جگنو سجانے کی باتیں کرتا
کبھی جگنوؤں کو
میرے ماتھے کی بِندیا بناتا
تو کبھی کانوں کے بُندے
جگنوؤں کی غیر موجودگی میں
اسکی محبت کی باتیں
مجھے روشن کردیتی
اسکی باتوں کے جگنوؤں کی چمک
میرے چہرے سے ہو کر
اسکی آنکھوں میں سما جاتی
اس کی آنکھوں میں میرا چہرہ
مزید روشن ہوجاتا
اسکی آنکھیں پھر
کسی جگنو کی مانند چمکنے لگتیں
اور میں
اسکی آنکھوں پر
انگلی کی پور رکھ کرچُھوتی
تو وہ آنکھیں بند کر لیتا
اور چمک غائب ہو جاتی
وہ آنکھیں کھولتا تو چمک ظاہر ہوتی
درختوں کی شاخوں پر
کوئی جگنو نہ ہوتا
اور اسکی باتوں سے
کوئی جگنوں جاتا نہ تھا
اور اب جب وہ موجود نہیں
ہجر کی لمبی راتوں میں
وصل کی حسرت میں
شوقِ وصل کے دریا کنارے
تڑپتی سلگتی برساتوں میں
محبت کی سنسان شاخوں پر
بُجھتی ہر آس پر
میرے جگنو سارے کھو گئے
میرے بال سارے اُجڑ گئے
کوئی جگنو کبھی
بالوں میں سجا نہیں
کوئی جگنو کبھی
ماتھے پر چمکا نہیں
کوئی جگنو بُندے سا
کانوں میں رہا نہیں
وہ صرف باتوں سے جگنو  لاتا تھا
جگنو بھی بھلا باتوں میں آتے ہیں
جگنو بھی بھلا باتوں سے سجتے ہیں
وہ صرف باتوں میں ماہر تھا
وہ صرف باتوں میں جگنو لاتا تھا
اسکے جاتے ہی اب
ہجر کی اذیت سہتے سہتے
میرے جگنو سارے کھو گئے
میرے جگنو سارے روٹھ گئے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *