ابلیس کی مجلسِ شوریٰ(حصہ اوّل) ۔۔۔تشریح: محمد عماد عاشق

نظم کا تعارف:
یہ شہرہ آفاق نظم اقبال کی آخری کتاب ”ارمغان حجاز ” کے حصہ اردو کی پہلی نظم ہے۔ بقول پروفیسر یوسف سلیم چشتی صاحب، یہ نظم علامہ مرحوم کے تیس سالہ پیغام کا لبِ لباب ہے، کہ انہوں نے اس نظم میں اسلام کے تمام بنیادی اصولوں کو ایسی جامعیت اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اس نظم کو اس موضوع پر اقبال کا حرفِ آخر کہہ سکتے ہیں۔ اس مختصر سے تعارف کے ساتھ اس نظم کی تشریح نذرِ احباب ہے۔

ابلیس
یہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمناؤں کا خوں
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوں
شرح:
اس شہرہ آفاق نظم کے پہلے بند میں اقبال فرماتے ہیں کہ ابلیس اپنے مشیران سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ یہ ساری کائنات مال اسباب کی دنیا ہے اور اس کی کارگزاری فریب پر مبنی ہے۔ غور کیجیے کہ کس خوب صورتی سے علامہ نے ابلیسیت کو ایک مصرعہ میں پرو دیا ہے۔ یعنی ابلیسیت نام ہی اس چیز کا ہے کہ دنیا فقط مال اسباب کا نام ہے، اور اس کا اعلی اخلاقی اقدار جیسے بندہ پروری، محبت و ادب، اتحاد ونظم وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہی معاملہ الہامی عقائد جیسے عقیدہِ توحید، رسالت، آخرت وغیرہ کا ہے۔ ابلیسیت کے نزدیک اس دنیا کی رنگینیاں ہی اہم ہیں۔ ابلیسیت کے نصاب میں روزِ جزا، آخرت جیسی کوئی شے نہیں۔ بلکہ ابلیسیت تو سراسر یہ کہتی ہے کہ جو کچھ ہے وہ فقط اس دنیا میں ہے اور ان مال اسباب کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے تو جانا چاہیے۔ کس خوبی اور اختصار سے علامہ نے ابلیسیت کو ایک مصرعہ میں سمو کر رکھ دیا، ”یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں!”۔
ابلیس کہتا ہے کہ یہ اس دنیا کا وجود ان فرشتوں کی خواہش کے خلاف ہے جو ہر وقت اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور جنہوں نے اللہ سے کہا تھا کہ یہ تیری بنائی مخلوق (انسان) زمین پر فتنہ و فساد پیدا کرے گی۔ پھر ابلیس کہتا ہے کہ وہ اللہ جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے اس کائنات کو حرفِ کاف و نوں یعنی کن فیکوں کہہ کر تخلیق کیا، آج وہی اللہ اس کائنات کی بربادی پر تلا ہوا ہے۔ یہاں ابلیس کا اشارہ جنگِ عظیم اول کی جانب ہے، اور ابلیس یہ کہہ رہا ہے کہ گو کہ میری ہی ماننے والی قوتیں (جرمنی اور انگلستان) آپس میں دست و گریباں ہوئیں اور اس کے نتیجے میں یہ ڈر ہے کہ اگر یہ سلسلہ ایسا ہی رہا تو دنیا سے طاغوتی طاقتیں ختم ہو جائیں گی، مگر میں (ابلیس) ہرگز ایسا ہونے نہیں دوں گا کیونکہ میں نے بہت محنت سے اپنا یہ ابلیسی نظام کھڑ اکیا ہے۔
اپنے نظام کی  ہئیت کا ذکر کرتے ہوئے ابلیس کہتا ہے کہ میں نے یورپی اقوام کو ملوکیت یعنی مطلق العنانی جیسی چیز سے روشناس کروایا اور اسی کے نتیجے میں برطانیہ میں تاجِ برطانیہ قائم ہوا جس کے زیرِ نگیں مشرق و مغرب کے ملک رہے۔ میں نے ہی تو عام آدمی کے دل سے مذہب اور دین کی اہمیت کو کم کیا۔ یہ میری ہی تو تعلیمات کا اثر ہے کہ آج کے دور میں انسان کے پیشِ نظر مادی ترقی ہے نہ کہ روحانی بالیدگی و فکری آسودگی۔ میں نے ہی تو کمزور لوگوں کو یہ میٹھا زہر دیا ہے کہ تمہاری کمزوری کی وجہ تمہاری جہالت اور ظالم کا جبر و قہر نہیں، بلکہ ربِ کائنات نے تمہاری قسمت میں ہی یہ لکھ رکھا ہے کہ تم ازل سے تا ابد غلام رہو۔ یہ میری ہی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ کمزوروں کے دل میں جذبہِ حریت پیدا نہیں ہوتا اور وہ اپنی غلامی کی زنجیروں میں بہت خوش ہیں۔ دوسری جانب، میں نے ہی تو مال و دولت رکھنے والوں کو یہ سبق دیا ہے کہ تمہاری دولت میں کسی اور کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ یہ سب کا سب تمہارا ہے اور یہ تمہارا پیدائشی حق ہے کہ تم اس مال و زر میں اضافے کے لیے جو طریقہ چاہو، اختیار کرو۔ آخرکار یہ دنیا عناصر کا پرانا کھیل ہی تو ہے!
بند کے آخری دو اشعار میں ابلیس بے انتہا غرور کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آخر کون ہے جو اس سارے نظام کو تہہ و بالا کر سکے۔ کس میں اتنی جرات ہے کہ اس تپتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرے جسے ابلیس نے اپنے سوز سے روشن کیا ہو؟ کس کی ہمت ہے کہ اس درخت کو ڈھا دے جس کی شاخیں ابلیسیت کے پانی سے پروان چڑھی ہوں؟

پہلا مشیر
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعء پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلام
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام
کس کی نو میدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید
ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام

شرح:
ابلیس کی ساری بات سن کر اس کا پہلا مشیر ابلیس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابلیس کا کھڑا کیا ہوا نظام نہایت مضبوط ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنا محکوم بنانا چاہتا ہے، اس مقصد میں جب ابلیس نے بادشاہوں کی مدد کی، تو عوام اپنی غلامی میں پختہ تر ہو گئے۔ ان غلاموں کی تو ہمیشہ سے یہی فطرت ہے کہ یہ بادشاہوں کے غلام رہیں اور ہمیشہ ان کی اطاعت میں پختہ رہتے ہیں۔ اسی سوچ کے زیرِ اثر یہ بادشاہوں کو ظلِ الہی کہتے آئے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کی نماز میں قیام نہیں، یعنی ان کی کل زندگی بادشاہوں کے سامنے سجدے یعنی بادشاہوں کی اطاعت میں ہی گزر جاتی ہے۔ پھر مشیر کہتا ہے کہ یہ اپنی غلامی میں اس قدر پختہ ہیں کہ اول تو ان میں آزادی کی آرزو پیدا ہوتی ہی نہیں، اور اگر کہیں غلطی سے ایسا ہو بھی جائے تو وہ آرزو خام رہ جاتی ہے، یعنی وہ اپنی اس آرزو کی تکمیل کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ یہ ابلیس اور اس کے کارندوں کی ہی کوششوں کا ثمر ہے کہ آج اسلام کا نام لینے والے علمائے سُو اور غیر اسلامی تصوف پیش کرنے والے نام نہاد صوفی سرمایہ داری یعنی مادیت پرستی کے غلام ہو چکے ہیں، یعنی ان کا مطمعِ نظر رضائے الہی کے حصول کی بجائے مال و اسباب کا حصول ہے۔ اسی نکتہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ابلیس کا مشیر کہتا ہے کہ مشرق کی قومیں سہل پسند ہیں، یہ اس قابل بھی نہیں کہ ہماری شروع کی گئی علم الکلام کی دقیق بحثوں کا مطالعہ علم الکلام کی کتب سے کریں، اسی لیے ہم نے قوالی یعنی غیر اسلامی تصوف متعارف کروا دیا، تاکہ جو مقصد ہم نے علم الکلام کے ذریعے حاصل کر نا تھا، وہ قوالی سے کریں۔ علم الکلام انسان کو بے عملی و بے کاری کا عادی بناتا ہے، مگر چونکہ مشرقی اقوام کا مزاج ذرا جدا ہے، اس لیے ہم نے یہیں کام قوالی یعنی غیر اسلامی تصوف سے حاصل کیا۔ اور اگر اس سب کے بعد بھی اگر ہم یہ دیکھیں کہ مسلمان ہر سال حرم میں جمع ہو کر اپنی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس میں پریشانی کی چنداں بات نہیں، کیونکہ مسلمانوں میں اب باطل کو مسمار کرنے کا جذبہ ناپید ہو چکا ہے اور یوں ان کی عبادات محض رسوم بن کر رہ گئی ہیں۔ ہم نے ہی تو اپنے دوستو ں کے ذریعے یہ نئی بات مسلمانوں میں مشہور کی ہے کہ اب مسلمانوں کو جہاد بالسیف کی ہرگز ضرورت نہیں اور یوں ہم نے انہیں باطل کی مخالفت سے باز رکھا ہے۔ یہاں علامہ کا اشارہ ان فتاویٰ کی جانب ہے جن میں مسلمانوں کو جہاد بالسیف سے روکا گیا۔
دوسرا مشیر
خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں با خبر
شرح:
ابلیس کے پہلے مشیر کی بات سن کر دوسرا مشیر کہتا ہے کہ وہ سب تو ٹھیک ہے جو تم کہہ رہے ہو کہ ابلیسی نظام مستحکم ہے اور اس کے انسانیت پر ایسے اثرات موجود ہیں جو ہمارے حق میں بہت فائدہ مند ہیں، مگر سنا ہے کہ اب دنیا میں جمہوریت نام کے کسی نظام کا راج بڑھ رہا ہے اور اب کہا جا رہا ہے کہ جمہوریت نامی یہ نظام ملوکیت کا توڑ ہے۔ تمہارا علم اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ کیا یہ نیا نظام جسے دنیا جمہوریت کہتی ہے، ہمارے نظام کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟
پہلا مشیر:
ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو، کیا اس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبار شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
شرح:
دوسرے مشیر کا سوال سن کر ابلیس کا پہلا مشیر کہتا ہے کہ میرے فہم کے مطابق تمہیں جمہوریت کے بارے میں چنداں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ درحقیقت، جمہوریت بھی ملوکیت کا ہی ایک رنگ ہے۔ بلکہ سچ پوچھو تو ہم نے ہی بادشاہت کو جمہوریت کا لبادہ پہنا کر دنیا کے سامنے ایک متبادل نظام کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور ہم نے ایسا تب کیا جب سیانسان کو اپنے بارے میں یہ وہم ہوا ہے کہ وہ بڑی اچھی طرح خود کو سمجھتا ہے اور اسے اسے اپنے حقوق کی بہت فکر ہے۔ جب انسان کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ اسے نظامِ حکومت بادشاہ کے ہاتھ سے چھین کر اپنے ہاتھ میں لینا ہے، تو ہم نے اسی لمحے بلا تاخیر دنیا کو جمہوریت سے روشناس کروایا۔ اس سے دنیا کی بھی تسلی ہو گئی اور ہمارا نظام بھی ویسے ہی چلتا رہا، جیسے جمہوریت کے آنے سے پہلے چل رہا تھا۔
اب ابلیس کا پہلا مشیر اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بادشاہی کے وجود کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ مسند اقتدار کس کے پاس ہے۔ چہروں کے بدلنے یا ہئیت میں کسی قدر تبدیلی سے چنداں فرق نہیں پڑتا۔ ہماری راج دھانی ایسی نہیں کہ کسی کے آنے جانے سے فرق پڑے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ چاہے نظامِ بادشاہت ہو یا پارلیمانی نظامِ حکومت، دوسرے کی دولت پر اپنی نظر رکھنے والے ہی تو دراصل ہمارے پیروکار ہیں۔ اب جب مقصد ہی یہ ہے کہ دنیا کی دولت کو اپنے قبضے میں کیا جائے، کمزور کا استحصال کیا جائے، سرمایہ دار کو مزید طاقتور کیا جائے، اسے اس بات کی ترغیب دی جائے کہ وہ ہر جائز ناجائز طریقے سے اپنی مالی سطوت میں اضافہ کرے، تو پھر اس بات سے فرق ہی کیا پڑتا ہے کہ مسند اقتدار کسی ایک فرد کے پاس ہے، یا فیصلہ سازوں کی تعداد چند سو ہے۔ جب ان چند سو کا مقصدِ حیات بھی عناصرکا حصول ہی ہے، تو پھر فقط تعداد میں اضافہ کیسے ہمارے نظام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟ اس کےبعد مشیر کہتا ہے کہ کیا تم نے مغرب میں رائج جمہوری نظام نہیں دیکھا جو کہ اپنی مندرجات میں ظاہری طور پر تو انتہائی خوش نما معلوم ہوتا ہے، مگر در حقیقت وہ اس ظالم بادشاہ کے جبر و قہر سے بھی زیادہ خوفناک ہے جس نے انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا تھا؟ یہ مغربی جمہوریت فقط دیکھنے میں خوش کن ہے، جبکہ اس کی اصل نہایت گھناؤنی اور بھیانک ہے۔ یہ نظام انسانوں کو یہ باور کراتا ہے کہ وہ اپنے عقل و شعور کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں، جبکہ در حقیقت یہ نظام ابلیسیت کے لیے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو اس سے قبل ملوکیت حاصل کیا کرتی تھی۔
اقبال ؒ یہاں فرماتے ہیں کہ جمہوریت در حقیقت یہ ملوکیت کی ہی ایک جدید ترین شکل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہٹلر یا خسرو جیسا کوئی ایک مطلق العنان حکمران ابلیس کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا تھا، اب پوری کی پوری پارلیمان ابلیس کے آگے دو زانو ہوئی بیٹھی ہے۔ جب مطمعِ نظر ہی کمزور کی دولت ہڑپ کر کے اپنے جاہ و جلال اور نظام کو دوام بخشنا ہے تو پھر اس بات سے قطعی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت کی زمامِ کار سنبھالنے والا کوئی فردِ واحد ہے، یا پارلیمان پر مبنی کوئی فوج ظفر موج۔ اقبالؒ نے جمہوریت کو چنگیزیت سے بدتر کہا۔ چنگیز تو وہ تھا کہ جس نے لاکھوں انسانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ مغرب کے جمہوریت پسند تو لوگوں کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ وہ غریب اقوام کو آئے ایم ایف اور ورلڈ بنک کے جھمیلوں میں پھنسا کر ان کی آزادی سلب کرتے ہیں۔ جب وہ مکمل طور پر ان مغربی طاقتوں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں تو پھر یہ طاقتیں ان غریب ملکوں کے وسائل پر مکمل طور پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ یوں عناصر کا یہ پرانا کھیل جاری و ساری رہتا ہے اور اسی طور ابلیسیت کو دوام نصیب ہوتا ہے۔

تیسرا مشیر
روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیم بے تجلی! وہ مسیح بے صلیب!
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب!
کیا بتاوں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب!
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاوں کے خیموں کی طناب!

چوتھا مشیر
توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نیپھر سیزر کا خواب
کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالدچوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب
تیسرا مشیر
میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب!
شرح:
پہلے مشیر کی جمہوریت کی تعریف میں تقریر سن کر تیسرا مشیر اس پر کہتا ہے کہ اگر جمہوریت میں بھی ملوکیت ہی کی ایک شکل ہے تو پھرتو پریشانی کی چنداں فکر نہیں، مگر وہ جو کارل مارکس نے دنیا کو ایک نیا نظام دے دیا ہے، اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ گو کارل مارکس پیغمبر نہیں، مگر اس کے ماننے والے اس کی باتوں پر ایسے ہی عمل کرتے ہیں جیسے وہ معجزوں کی قوت سے محروم پیغمبر ہی ہو۔ گو اس کو الہامی علم عطا نہیں، مگراس کے ماننے والے اس کی کتاب ”سرمایہ” پر عمل ایسے ہی کرتے ہیں گویا وہ کوئی پیغمبر ہو۔ تمہیں اس کے پیغام کی اثر آفرینی کا اندازہ ہی نہیں۔ اس کی آواز نے چہار دانگ عالم میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس کے پیغام نے غریبوں کو وہ آواز دی ہے کہ ساری دنیا کے سرمایہ دار انگشت بدنداں ہیں۔ اس کی ندا نے کمزور میں یہ حوصلہ پیدا کر دیا ہے کہ آج ہر کس و ناکس اپنے سے بڑے سے اس کے عمل کا حساب مانگ رہا ہے۔ سرمایہ دار مغرب کے ہوں یا مشرق کے، سب ہی کارل مارکس کی جگائی ہوئی عوام کے سامنے جواب دہ سے نظر آتے ہیں۔ ایسا تو آج تک نہ ہوا تھا کہ کسی غریب کو یہ جرات ہوتی کہ وہ سرمایہ دار کے سامنے کلمہِ حق بلند کرتا، مگر آج کارل مارکس کی آواز نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
تیسرے مشیر کی یہ تقریر سن کر چوتھا مشیر کہتا ہے کہ تم اشتراکیت کے بار ے میں فکر مند مت ہو۔ ہم نے اطالیہ میں فسطائیت کی تحریک کو جنم دے اشتراکیت کا حل ڈھونڈ لیا ہے اور اس کی زمامِ کار مسولینی کے ہاتھ میں دی ہے۔ مسولینی نے فوجی طاقت اور وطن پرستی کی مدد سے جو سخت قوانین اٹلی میں بنائے ہیں، وہ اشتراکیت کو اس کی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور یوں مارکس کی تعلیمات اپنے آپ دم توڑ جائیں گی۔ کبھی مسولینی تقریر سے اپنے پیروکاروں کے جوش کو بڑھا رہا ہوتا ہے اور کبھی میدانِ کارزار میں اس کی فوج رزم کے جوہر دکھا رہی ہوتی ہے۔

چوتھے مشیر کی یہ بات سن کر تیسرا مشیر اسے کہتا ہے کہ میں تو مسولینی کی دور اندیشی کا ہرگز قائل نہیں۔ وہ تو نہایت بے وقوف اور کوڑھ مغز ثابت ہو ا ہے۔ اس نے تو ہماری سازش کو خود ہی بے نقاب کر دیا۔ ہم تو جدید جاگے ہوئے انسان کے لیے جمہوریت جیسے میٹھے زہر لے کر آئے تھے اور اس کے ذریعے ہی غریبوں اور ناداروں کا استحصال کرتے تھے۔ مگراس بیوقوفی مسولینی نے تو کھلم کھلا فساد برپا کر کے ہمارے ہر راز کا پردہ فاش کر دیا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *