یادوں کے جھروکے سے۔ عصمت طاہرہ

سہیل گجر کی کسی پوسٹ پر یاسر باجوہ نے مجھے عصمت صوفی لکھا تو مجھے اپنے بچپن کا واقعہ یادآ گیا۔۔۔
میں نے علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ تحصیل ناروال کے پرائمری سکول میں کچی پکی سے لے کر درجہ چہارم تک پڑھا۔امی کی وفات کے بعد میری کفالت میرے ننھال کے سپرد تھی، سو میں نے ایک ڈیڑھ جماعت اپنی ماں کے بڑےبھائی  کرنل انوار شیرازی کے پاس راولپنڈی میں پڑھی۔۔۔ مجھے اپنی نانی سے بہت محبت تھی ان سے ملنے گاؤں آئی  تو پتہ چلا کہ گاؤں کی لڑکیوں نے پسرور میں ایک گھر کرائے پر لے کر وہاں ہائی سکول میں تعلیم جاری رکھی ہوئی ہے۔۔۔میں نے بہت ضد کر کے نانی کو منا لیا کہ میں آغا جان کے پاس نہیں پڑھوں گی پسرور میں پڑھوں گی ،کم از کم ہر ہفتے گھر تو آ جاؤں گی نا ، خیر جی بہت ضد کے بعد نانی مان گئیں اور یوں میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول  پسرو میں چھٹی جماعت میں داخل ہو گئی۔۔ میرے ساتھ کچھ میری کزنز بھی تھیں۔

پسرور ایک چھوٹا سا شہر تھا۔ وہاں کمہار اور بہت سارے ککے زئی رہتے تھے۔ان کے علاوہ پسرور مائی  رکھی کا ڈیرہ بھی تھا۔ سنا ہے کہ مائی رکھی جس کو بھی گالیاں دیتی تھی اس کی مراد بر آتی تھی۔میری سب سے بڑی کزن نام نہیں لکھوں گی۔ 9th میں پڑھتی تھیں۔ شکل کی بہت خوبصورت تھیں۔مگر پڑھائی  میں رٹے بہت لگاتی تھیں اور ان کو یقین تھا کہ پیر فقیر ان کو پاس کرا دیں گے۔ وہ باقاعدگی سے پیر جلال الدین بخاری کے مزار پر حاضری دیتیں  اور مجھے بھی قبروں پر جانے کے لیے ضد کرتیں۔

ایک دفعہ صبح صبح میٹھی نیند سے جگا کر کہنے لگیں۔ چلو دعا مانگنے کہ بابا جی پاس کریں۔ میں نے کروٹ بدل کے کہہ دیا “آپ کو کیا پتہ بابا جی خود کتنی بار فیل ہوئےہیں۔بس اتنا کہنا تھا کہ آپا آگ بگولا ہوئیں اور میرا نام کافر کی بچی رکھ دیا کیونکہ ابا مرحوم بھی تھوڑے وہابی ٹائپ کے تھے۔مجھے قبروں اور پیروں فقیروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر میرا محبوب مشغلہ کمہاروں کی کاریگری دیکھنا تھا۔ وہ گھومتے ہوے چاک پر مٹی کو برتنوں کی شکل دیتے۔پھر آوے میں پکائے ہوے برتنوں پر تیزی سے گھومتے چاک ہی کے اوپر مختلف رنگوں سے بیل بوٹے بناتے۔اس سمے میں ایک ہی خواب دیکھتی تھی کہ بڑے ہو کر کمہارن بنوں گی  اور اتنے زور زورسے چاک گھماؤں گی اور تمام برتنوں پر گڈی گڈے کی پینگیں بناؤں گی (قوس و قزح)اور میری آپا کے خواب صرف اورصرف پیروں فقیروں اور مزاروں تک محدود تھے۔

اور پھر ہوا یوں کے آپا کو کسی صوفی جی کا ایڈریس مل گیا ۔آپا بہت معصوم لڑکی تھیں۔مجھے پتہ ہے ان کو صوٖفی جی کی خبر خالہ صغری نے دی تھی ( خالہ صغری عطااللہ شاہ بخاری کی قریبی رشتہ دار تھیں۔ میرا خیال ہے کہ بیٹی تھیں۔سعادت زریں جو میرے فیس بک پر موجود ہیں اگر مکریں نہیں تو وہ بھی لڑ کیوں کے جلوس میں شامل تھیں۔صوفی جی کا ڈیرہ زیر زمیں تھا۔چند سیڑھیاں اترنے کے بعد مٹی سے لپا ہوا صاف ستھرا کمرہ تھا جس میں کھجور کی بنی ہوئی  صفیں بچھی تھیں۔جب ہم نے لوہے کی لٹکی زنجیر جسے کنڈی کہتے ہیں کھڑکائی  تو بھورے رنگ کی داڑھی والا گورا ساآدمی نکلا جس نے عربیوں والا لباس پہنا ہوا تھا۔۔آپا نے صوفی جی کا پتہ پوچھا تو اس 40 سالہ آدمی نے اپنا تعارف کروایا اورہمیں اپنی عبادت گاہ میں لے گیا۔۔۔

صف پر بیٹھتے  ہی آپا نے کہا ” صوفی جی ہم قسمت کا حال جاننے آئے ہیں اور دعا کرانے آئے ہیں  ” صوفی جی نے اپنے بھدے سے ہاتھ کے ساتھ ا ٓپا کا گلابی ریشمی ہاتھ پکڑا اوراس پر اپنی قسمت کی لکیریں تلاش کرنے لگا۔۔اب تجسس کا کیڑا میرے اندر کھد بد کرنے لگا، میں بار با ر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتی اور کہتی صوفی جی میرا ہاتھ دیکھیے، مجھے بھی کچھ بتایئے۔۔مگر صوفی کو میرا بچہ سا ہاتھ بہت برا لگتا۔وہ میرا ہاتھ بار بار جھٹک دیتے ان کو تو آپا کی گلابی کلائی  پر کانچ کی سرخ چوڑیوں والے ہاتھ کی لکیروں میں ساری دنیا کے اسرار نظر  آرہے تھے۔

پھر گلابی ہتھیلی سے پھسلتا ہوا صوفی جی کاہاتھ گلابی کلائی  پر چوڑیاں گننے لگا۔ آپا نے غصے سے چیختے ہوئے ہاتھ چھڑایا تو میں نے دیکھا۔۔۔ آپا کی گلابی کلائی  پر سرخ چوڑیوں کا تمام رنگ صوفی جی کی آنکھوں میں اتر آیا ہے۔۔۔
( الف مد اور زبر زیر پیش۔۔ میرے پاس نہیں جہاں ضرورت محسوس ہو تو تصور میں
ڈال لیجیئے)۔

عصمت طاہرہ
عصمت طاہرہ
عصمت طاہرہ معروف ٹی وی آرٹسٹ اور فنکارہ ہیں۔ آپ کی داستان پاکستان کی سماجی اور کئی بار تو سیاسی تاریخ کی سی ایمیت رکھتی ہے۔ مکالمہ عصمت جی کا ممنون ہے کہ انھوں نے مکالمہ کو اپنے خیالات چھاپنے کی اجازت دی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *