مائے نی میں کِنوں آکھاں۔راجہ محمد احسان/ قسط 7

ماں ساڑھی کا تحفہ اور میری پہلی تنخواہ پا کر بہت خوش ہوئی ۔ مجھے گلے سے لگایا اور میرے سر پر شفقت سے بوسہ دیا۔ اس دن ما ں سے ایسا پیار پا کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے مجھے نئی  زندگی ملی ہو ،فرطِ جذبات سے تنہائی میں بیٹھ کر میں بہت دیر تک روتا رہا۔میری جنت میری ماں مجھے واپس مل گئی  تھی لیکن دادی کے جذبات مجروح کر کے میں خود کو مجرم بھی تصور کر رہا تھا ۔ رہ رہ کر مجھے خیال آتا کہ کاش میں دو ساڑھیاں خرید لاتا ایک دادی کے لئے اور ایک ماں کے لئے۔ اگرچہ دادی نے ساری زندگی حرفِ شکایت زبان  پر نہیں لایا  لیکن مجھے یہ ندامت ہمیشہ رہے گی۔

رشید بھائی کی ایک گرل فرینڈ کے ذریعے مجھے معلوم پڑا کہ عقیلہ میرے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ اس کی لڑکیوں سے شرط لگی تھی کہ اجے جو لڑکیوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا میں اسے کتے کی طرح اپنے پیچھے پیچھے گھوماؤں گی۔ اور اب وہ ایسا ہی کر رہی تھی۔ مجھے اس بات سے بہت غصہ آیا لیکن میں اس سے محبت بھی کرتا تھا ، بار بار اپنے   ان خیالات کی نفی کرتا لیکن عقیلہ عملی طور پر ایسا ہی کر رہی تھی۔عقیلہ کی تینوں سہیلیاں جو آپس میں بہنیں تھیں وہ الگ سے مجھ پر ڈورے ڈال رہی تھیں ۔ وہ گھر بار بار فون کرتیں لیکن میں نے فون اٹینڈ کر نا ہی چھوڑ دیا۔ عقیلہ سے محبت اپنی جگہ لیکن  میرے دل میں اس کے لئے انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ کبھی خیال آتا کہ میں کسی نہ کسی طریقے سے اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر لوں پھر اس کے پاس مجھ سے شادی کے سوا کیا چارہ رہ جائے گا لیکن پھر یہ خیال دل سے جھٹک دیتا۔

میں عقیلہ کو سبق سیکھانا چاہتا تھا اس کے لئے ضروری تھا کہ میں اس پر ظاہر نہ ہونے دوں کہ مجھے اس کی شرط والی بات کا علم ہو چُکا ہے۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔ اب میں نے اُلٹی چال چلی اور عقیلہ کو اگنور کرنا شروع کر دیا۔ میری یہ بے مروتی اور بے رخی اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ تو چاہتی تھی کہ میں اس کے پیچھے ہمیشہ دم ہلاتا پھروں۔ اب اس نے پھر سے مجھے اپنے دام  میں لانے کوششیں   شروع کر دیں ۔ ایک دن خالہ کے گھر کوئی بھی نہیں تھا تو وہ میرے قریب آ گئی    اور گلے شکوے کرنے لگی میں اسے دلاسے دیتا رہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔میری قربت سے وہ مدہوش ہورہی تھی یا شاید ایسا ظاہر کررہی تھی،اس کے دعوت دینے پر میں نے اس پر نفرت سے تھوک دیا،مجھے اسی موقع کا انتظار تھا،وہ غصے سے پاگل ہو گئی  اور  گالیاں بکنے لگی۔ اس وقت میں نے اس کے سارے پول کھولے اور اسے بتایا کہ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ تم میرے ساتھ کیا گیم کھیل رہی ہواور یہ میرا انتقام ہے سا کے بعد میں خالہ کے گھر نہیں رکا۔

ماں کا رویہ تو میرے ساتھ بہتر ہو گیا تھا لیکن بختو کے بھائی مجھے بہت تنگ کرتے تھے۔جب میں پڑھ رہا ہوتا تو آتے جاتے مجھے لات مار جاتے کبھی کتاب چھین کر پھینک دیتے تو کبھی لائٹ آف کر دیتے۔ میرے جنون میں کوئی کمی نہ آئی میں باہر گلی میں سٹریٹ لائٹ میں بیٹھ کر پڑھ لیتا۔نویں جماعت کے پیپر بہت اچھے ہوئے آخری پیپر انگلش کا تھا اور مجھے شدید چکر آ رہے تھے ۔ جب میں اتنا پیپر کر چکا جس سے مجھے یقین تھا کہ میں پاس ہو جاؤں گا   تو میں نے پیپر جمع کرا دیا اور خود اٹھ کر باہر آ گیا۔ باہر نکلتے ہی مجھے سرخی مائل قے آئی یقیناََ قے میں خون کی آمیزش تھی۔  میں  ڈاکٹر کے پاس گیا جس نے کچھ   ٹیسٹ لکھ دیے،رپورٹس دیکھ کر پتا چلا کہ میں ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہوں ۔

اس حالت میں مجھے مکمل آرام کی ضرورت تھی لیکن جو میرے حالات تھے اس میں یہ ممکن نہ تھا۔میں نے اپنی نوکری اور پڑھائی جاری رکھی ساتھ ساتھ دوائیں بھی لیتا رہا۔میری صحت دن بدن گرتی جا  رہی تھی، ایک سال اور اسی طرح گزر گیااکثر دوا میں ناغہ ہو جاتا جس وجہ سے تکلیف میں افاقہ نہ ہوسکا ۔ ادھر ایک نئی  مصیبت بھی گلے پڑ گئی  تھی، سوتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا کہ کوئی چیز مجھ پر سوار ہو گئی  ہے اور میرا گلہ دبا رہی ہے، میرا دم گھٹنے لگتا اور میں چیخنے  چلانے لگتا۔ میں سونے سے ہی ڈرنے لگا رات کو دیر تک جاگتا رہتا اور جاگے رہنے کی کوشش کرتا۔ انسان آخر کب تک جاگ سکتا ہے جب کبھی نیند غالب آ جاتی تو وہی حالت ہوتی اور میں چیختا ہوا جاگ جاتا۔اللہ بھلا کرے ماموں بغلولی کا جب میں نے انھیں اپنی اس حالت کا بتایا تو انھوں نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ “تم جانتی نہیں ہو مجھے ، میں بہت پہنچی ہوئی چیز ہوں یہ نہ ہو کہ میں تمھیں جلا کر بھسم کر دوں”۔ پھر کچھ پڑھ کر مجھ پر پھونکا ۔ اس کے بعد جب تک ماموں بغلولی زندہ رہے میری یہ کیفیت نہیں ہوئی۔

دسویں کے امتحانات دے رہا تھا کہ میرا سوتیلا بھائی احمد پیدا ہوا ۔ بختو اور ماں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں داؤد چورنگی والے نانا کے گھر منتقل ہو جانا چاہیے ۔ اور ایک دن وہ اپنا سامان باندھ کر مجھے بغیر بتائے داؤد چورنگی منتقل ہو گئے۔ میں شام کو جب گھر آیا تو تاج الدین نے گھر آتے ہی مجھے کوسنا شروع کر دیا اور کہا کہ ” تو اب یہاں کیا لینے آیا ہے بے غیرت تیری ماں اور بختو تو  دفع ہو گئے یہاں سے”۔ دادی نے مجھے بتایا کہ وہ داؤد چورنگی چلے گئے ہیں۔مجھے بھی مجبوراً داؤد چورنگی جانا پڑا۔

داؤد چورنگی والے گھر منتقل ہوتے ہی ماں کا رویہ ایک بار پھر تبدیل ہو گیا۔ اب چونکہ میں بڑا ہو گیا تھا وہ مجھے مارنے سے تو اجتناب کرتی لیکن گالیاں ہروقت اس کی زبان پر رہتیں ۔ اور پھر چند دن کے بعد مجھ پر کچن کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ ماں بختو کو کھانا وغیرہ دے کر کچن کو تالا لگا دیتی ۔ اگر کبھی میں ماں کی موجودگی میں کچن کی طرف جانے کی کوشش کرتا تو وہ مجھے دھکا دے کر باہر کر دیتی اور پھر کچن کو تالا لگا دیتی۔ مجبوراً مجھے اپنے کھانے پینے کا بندوبست باہر کرنا پڑتا، کبھی کسی ریڑھی سے بریانی کھا لی تو کبھی نان حلیم اور کبھی پیسے نہ ہوئے تو بھوکا ہی سو رہتا۔ دوسری طرف ماں نے مجھے محلے میں بھی بدنام کرنا شروع کر رکھا تھا۔ وہ لوگوں کو بتاتی کہ یہ چھوٹے بھائی کو مارتا ہے، اس سے نفرت کرتا ہے اور بڑوں سے بدتمیزی کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ ماموں بغلولی سخت بیمار ہیں ۔ میں بھی بختو اور ماں کے ساتھ ماموں بغلولی کو دیکھنے گیا۔ ماموں بغلولی سوکھے چمڑے کی طرح سمٹے پڑے تھے ۔ چہرے سے سخت تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔ تاج الدین نے سب گھر والواں کو دوسرے کمرے میں بلا لیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو تاج الدین نے کہا “بڈھااب کھانے کے لئے گوشت مانگے گا مگر یاد رکھو اسے کسی نے گوشت نہیں دیناورنہ گوشت دینے والا مر جائے گا”۔ اور پھر یہی ہوا ماموں بغلولی بار بار اپنی کمزور اور نحیف آواز میں گوشت کھانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ لیکن سب اسے ٹالتے رہے کہ آپ بیمار اور ضعیف ہیں اور آپ کے لئے گوشت مفید نہیں ۔ آخر ماموں بغلولی واسطے دینے لگا لیکن کسی نے اس کی بات پر کان نہیں دھرا پھر ماموں بغلولی نے کہا کہ ” مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش سمجھ کر گوشت کھلا دو” لیکن تاج الدین نے سختی سے سب کو منع کر رکھا تھا اس لئے کسی نے اسے گوشت نہیں کھلایا۔ آخر ماموں بغلولی نے کہا کہ “میں مر رہا ہوں اور عنقریب میں دوبارہ چین میں پیدا ہوں گا” اور اس کے تھوڑی دیر بعد ماموں بغلولی جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔

ماموں بغلولی کی وفات کے چند دن بعد کی بات ہےمیں فیکٹری سے چھٹی کر کے گھرآیا تو کیا دیکھتا ہوں گھر میں چھوٹی خالہ اور بڑی بی جن سے میں نے قرآن پڑھا تھا زارو قطار رو رہی تھیں۔ میں ڈر گیا کہ شاید  گھر میں کوئی مرگ ہو گئی ہے۔ میں نے ان سے رونے  کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے پیار سے مجھے گلے لگا لیا اور کہا کہ “بیٹا ہمیں سب پتہ چل گیا ہے تو اب اس گھر میں مت رہ اور کہیں چلا جا اور اگر تمھارے پاس پیسے نہیں ہیں تو تمھارے ایک مہینے کا خرچ ہم اٹھا لیں گے مگر تو اب یہاں سے نکل جا”۔ مجھے ان کی بات ماننی ہی پڑی۔

خالہ بشیراں کے بیٹے نے ایک فلیٹ میں مجھے شراکت داری پڑ ٹھہرا لیا ۔ یہاں تین پٹھان ہانڈی وال تھے جو سرحد سے کراچی محنت مزدوری کے لئے آئے ہوئے تھے۔ اب ان کے ساتھ چوتھا میں شامل ہو گیا تھا۔ شومئی قسمت کہ وہاں منتقل ہوتے ہی مجھے تیز بخار نے آن گھیرا۔ بخار کی وجہ سے میں فیکٹری نہیں جا سکتا تھا اور کسی دوا سے آرام بھی نہیں آ رہا تھا۔ نہ جانے کیوں چند دن کے بعد ان پٹھانوں نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا اور مجھے بتایا کہ وہ یکم تاریخ سے اس فلیٹ کو چھوڑ رہے ہیں ۔ یہ میرے لئے ایک نئی  مصیبت تھی میں اکیلے اس فلیٹ کا کرایہ نہیں دے سکتا تھا ادھر بخار بھی جان نہیں چھوڑ رہا تھا کہ فیکٹری جا سکوں ۔ یکم تک نہ تو میرا بخار اترا نہ ہی میں فیکٹری جا سکا،پاس جو پیسے تھے وہ بھی ختم ہو چکے تھے۔ پٹھان فلیٹ چھوڑ کر جا چکے تھے اور اب مجھے بھی فلیٹ چھوڑنا تھا۔ آخر میں نے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔

اپنا سامان اٹھا کر جب میں گھر پہنچا تو گھر کے دروازے مجھ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکے تھے ۔ ماں نے دروازے سے ہی مجھے سو   گالیاں دے کر دھتکار دیا۔ میرے پاس سامان کیا تھا؟ایک بریف کیس جس میں ایک دو جوڑے کپڑوں کے اور  چند چھوٹی موٹی چیزیں  تھیں  ۔ بریف کیس اٹھایا اور پیدل ہی وہاں سے چل پڑا۔ بہت دیر سوچتا رہا کہ کہاں جاؤ کس سے مدد مانگوں لیکن کچھ سجھائی نہ دیتا۔ آخر مجھے اپنے حقیقی باپ کا خیال آیا ۔ ماں سے ایک بار ضد کر کے میں نے باپ کا پتہ تو پوچھ لیا تھا۔ باپ کا خیال آتے ہی میرے قدم خود بخود اس کے گھر کی طرف اٹھنے لگے۔۔

جاری ہے۔۔!

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *