تصوف کی حقیقت،(قسط3)۔۔سائرہ ممتاز

اللہ رب العزت نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا :
” میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے مخلوق کی تخلیق فرمائی.”
اولیاء کرام اس آیت کی مختلف تفاسیر بتاتے ہیں. اس سے پہلے کہ ہم یہاں اس آیت کے پوشیدہ اسباق اور مفہوم پر بات کریں پہلے امام الاولیاء و اصفیاء، شہنشاہ ولایت و تاجدار اوصیاء کے خطبہ ء توحید سے ذات باری تعالٰی کی تعریف ملاحظہ کرتے ہیں. مولائے متقیان علی ابن ابی طالب فرماتے ہیں…
” تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں ہے۔جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے. نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں۔نہ بلند پرواز ہستیاں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمال ذات کی کوئی حد معین نہیں۔ نہ اس کے لیے توصیفی الفاظ ہیں. نہ اس کی (ابتداء) کے لیے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے۔ نہ اس کی کوئی مدت ہے کہ کہیں پہ ختم ہو جائے۔ اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا. اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا. تھر تھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں۔دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے. کمال معرفت اس کی تصدیق ہے. کمال تصدیق توحید ہے. کمال توحید تنزیہ و اخلاص ہے۔کمال تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے. کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے.ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ اپنی صفت سے علاوہ کوئی چیز ہے. لہذا جس نے ذات الہٰی کے علاوہ صفات مانے اس نے ذات الہٰی کا ایک ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اس نے دوئی پیدا کی اور جس نے دوئی پیدا کی اس نے اس کے لیے جز بنا ڈالا اور جو اس کے لیے اجزا کا قائل ہوا. وہ اس سے بے خبر رہا اور جو اس سے بے خبر رہا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا. اور جس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کر دی،اور جس نے اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں کی قطار میں لے گیا۔اور جس نے کہا وہ کسی چیز میں ہے اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا.. اور جس نے کہا وہ کسی چیز پر ہے اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں. وہ ہے، ہوا نہیں، موجود ہے مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا. وہ ہر شے کے ساتھ ہے، نہ جسمانی اتصال کی طرح- وہ ہر شے سے الگ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر. وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں. وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب مخلوق میں کوئی چیز بھی دیکھنے والی نہ تھی. وہ یگانہ ہے اس لیے کہ اس کا. کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ،جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر وہ پریشان ہو جائے. اس نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربے کے، جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہو اور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو، اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بے تاب ہوا ہو۔ ہر چیز کو اس کے وقت کے حوالے کیا. ہرچیز کو جداگانہ طبیعت اور مزاج کا حامل بنایا..”
مندرجہ بالا سطور خطبہ ء توحید کا حصہ ہیں اور اسی پر تمام تر تصوف اور شریعت کا انحصار ہے، بلکہ شریعت اور طریقت اسی خطبہ ء توحید پر کھڑی ہے۔ یہاں سوال کرنے والے یقیناً یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ پھر وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے نظریات کا کیا بنے گا.،؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں نظریات کیا ہیں اور شیخ ابن عربی پر وحدت الوجود کے گمراہ کن نظریہ کا حامل ہونے کا الزام کیوں دھرا جاتا ہے۔
دنیائے تصوف میں خاص طور پر اور اس وقت عالم اسلام میں عام طور پر یہی خیال رائج ہے کہ شیخ ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ نے جو نظریہ وحدۃ الوجود کےنام سے پیش کیا تھا وہ ہندوانہ نظریہ ہمہ اوست سے اخذ شدہ ہے۔ راقم بھی اسی خیال میں مبتلا عرصہ دراز تک شیخ پر نفرین کرتی رہی جب تک کہ مولانا اسحاق اور مولانا اکرم اعوان (چکوال) کے بیانات سے استفادہ نہ کیا.. دراصل صوفیا کے مختلف مدارج، کیفیات ہوتی ہیں۔ جیسے علوم ظاہری میں درجات چلتے ہیں ایک جماعت کے بعد اگلی جماعت اور ایک سبق کے بعد اگلے سبق تک پہنچا جاتا ہے ،بالکل اسی طرح علوم باطنی میں بھی درجات ہوتے ہیں اور جو لوگ تصوف سے واقف ہیں یا جنھیں تجربہ ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں جب مراقبہ ء فنا کیا جاتا ہے . تو اس میں ہر چیز فنا ہوتی نظر آتی ہے حتی کہ ساری کائنات فنا ہو جاتی ہے اور اپنا آپ بھی باقی نہیں رہتا. اس کے بعد مراقبہ بقا باللہ کیا جاتا ہے تو ہر وجود کے ساتھ قادر مطلق کے انوارات نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے وہ قائم ہیں ،یہ انوارات خیال رہے اللہ کے تخلیق کردہ ہیں خالق کے وجود کا حصہ ہرگز نہیں ہیں،اور ایک سالک پر یہ کھلتا ہے کہ ہر شے اس کے ہونے سے ہے۔ واحد وہ ذات ہی قائم ہے باقی ہر شے فانی ہے اور اس کے قائم رکھنے سے قائم ہے اور اس کے ہونے کی وجہ سے ہے لیکن عارضی ہے دائمی نہیں ہے. اور رب کے مٹانے سے مٹ جاتی ہے کسی شے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں اور جب ان کیفیات سے صوفی گزرے تو ان پر یہ ظاہر ہوا کہ واحد قائم ذات اللہ ہے، لا شریک ہے، ازل سے، پہلے سے ہے اور ابد کے بعد رہے گا اور اسی نظریے کا نام وحدت الوجود رکھا گیا۔

جب اس نظریے کو شیخ ابن عربی نے اپنی کتاب میں جگہ دی اور اس پر بحث فرمائی تو یہ مستقل ایک نظریہ بن گیا لیکن اس کا مفہوم وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا ہے. یہ بات کاملین و خواص کی تھی لیکن جب یہ عوام تک پہنچی تو اس میں علم و تدبر کی کمی اور کیفیات و مشاہدات کی عدم وجودگی کی وجہ سے قباحتیں در آئیں. کہ بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جاتا کہ واحد قائم وجود اللہ ہے یہ سمجھا جانے لگا کہ اللہ ہر شے میں ہے،یعنی وحدۃ الوجود کا مفہوم یکسر بدل کر ہندوؤں کے عقیدے ہمہ اوست میں بدل گیا۔کیونکہ مشرکین جب کسی طاقتور شے کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس میں بھگوان ہےاور یہ نظریہ انہی سے مستعار ہے کہ ہر شے میں بھگوان رہتا ہے. اسی وجہ سے شیخ مجدد الف ثانی نے اس کے بدل کے طور پر نظریہ وحدت الشہود پیش کیا یعنی ہر شے اللہ کے ہونے پر شاہد یا گواہ ہے، ہر وجود کی ذات اس کی قدرت کاملہ کی گواہ ہے. اس کا مقصد قباحتوں سے محفوظ ہو کر گمراہی کا شکار ہونے سے بچنا تھا۔۔
شیخ احمد سر ہندی خود اپنے مخطوطات میں فرماتے ہیں کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود یا ہمہ اوست اور ہمہ از اوست کے درمیان صرف نزاعی لفظی فرق ہے، یعنی لفظی اختلاف ہے حقیقی اختلاف نہیں ہے.. ملاحظہ ہو مکتوب نمبر 44 دفتر دوم بنام محمد صادق ولد حاجی مومن، جس میں آپ نے فرمایا ہے:
” پس جو صوفیاء وحدت الوجود کے قائل ہیں حق پر ہیں اور علماء جو کثرت وجود کا حکم کرتے ہیں حق پر ہیں. وجود کا معاملہ حقیقت کی طرح ہے اور کثرت کا معاملہ اس کے مقابلے میں مجاز کی طرح ہے.”
نیز حضرت مجدد الف ثانی نے مکتوب نمبر 89 دفتر سوم بنام قاضی اسماعیل فرید آبادی میں ان اعتراضات کی تردید فرمائی ہے جو حضرت شیخ روزبہان بقلی رحمت اللہ علیہ نے ہمہ اوست کہنے والوں پر کئے ہیں اور آ ثنائے تردید میں آپ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تائید میں فرماتے ہیں :
“انہوں نے کمال معرفت سے اس مسئلہ دقیقہ کو نشرح کیا اور بابوں اور فصلوں میں تقسیم کر کے صرف و نحو کی طرح جمع کیا۔ باوجود اس کے پھر بھی اس طائفہ میں سے بعض نے اس مراد کو نہ سمجھ کر ان کو خطا کی طرف منسوب کیا اور ان پر طعن و ملامت کی. اس مسئلہ کی اکثر تحقیقات میں شیخ اکبر رحمت اللہ علیہ حق پر ہیں اور ان پر طعن کرنے والے دور از ثواب ہیں. شیخ کی بزرگی اور ان کے علم کی زیادتی اس مسئلہ کی تحقیق سے معلوم کرنی چاہئے اور ان پر رد اور طعن نہ کرنی چاہئے ”
مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ ابن عربی اور دوسرے صوفیاء جو ہمہ اوست کے قائل تھے وہ عالم کو حق تعالیٰ کے ساتھ متحد نہیں جانتے تھے اور حلول و سریان کے قائل نہیں تھے بلکہ عوام کی ناقص العلمی اور ہندو معاشرے کی علتوں کی وجہ سے ایسا سمجھا جانے لگا تھا اور یہ نظریہ ان سے منسوب ہو کر اس قدر مقبول ہونے لگا کہ مسلمان صوفیاء کی خانقاہوں سے وابستہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ خواص بھی اسی گمراہی میں مبتلا ہوتے گئے اور پھر شیخ مجدد الف ثانی کو اس کی تجرید کرنا پڑی۔
اس حصے کے آغاز میں امام علی علیہ السلام کے خطبہ توحید کا جو جز پیش کیا گیا ہے اس میں بھی انہی نظریات کی تائید ملتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، اللہ کو بے دلیل اور بے نشان، زمان و مکان سے ماوراء اور بے سمت ماننے کا درس دیتے ہیں… یہی حقِ توحید ہے۔۔۔۔
جاری ہے…..

Avatar
سائرہ ممتاز
اشک افشانی اگر لکھنا ہے تو ہاں میں لکھتی ہوں... درد اگر کشید کرنا اگر فن ہے تو مجھے یہ فن سیکھنے کا شوق ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تصوف کی حقیقت،(قسط3)۔۔سائرہ ممتاز

  1. مسلہء وحدت الوجود پر کلام وہی کر سکتا ہے جو اس حال سے گزرا ہو، سالک یا صوفی جب مقامِ واحدت الشہود پر ہوتا ہے تو واحدت الشہود اسکے لئے حق ہوتا ہے، لیکن جب وہ آگے بڑھ کر مقامِ واحدت الوجود کے درجات میں پہنچتا ہے تو لا موجود الاللہ کہنے لگ جاتا ہے ۔اسکے اطلاق باقیوں پر نہیں ہوتا۔ علم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک “قال” کا علم اور ایک “حال” کا علم ۔ تو واحد ت الوجود اور واحدت الشہود “حال” کے علوم ہیں اور انکے بیان میں الفاظ اپنی بے بسی کا اظہار کر دیتے ہیں ۔ جیسے دنیا کا لوئی بھی شخص درد کو لفظ “درد”سے زیادہ بیان نہیں کر سکتا ۔ اور جو شخص کبھی درد کی کیفیت سے گزرا ہی نہ ہو وہ درد کو کیا سمجھے گا ۔ درد کو سمجھنے کے لئے صاحبِ درد کا ہونا ضروری ہے ۔ اور درد چونکہ حال کا علم ہے اس لئے صاحبِ درد بھی دوسرے کے درد کو اپنے درد کے پیمانے پہ پرکھے گا ، اسطرح اسے دوسرے کے حال کی کچھ نہ کچھ خبر تو ضرور ہو جائے گی لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا اور دوسرے کا درد بالکل ایک جیسا ہے ۔ مثال کے طور پر دو اشخاص کی بازو کی ہڈی ٹوٹ گئ دو نوں ہی اپنے درد کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ضروری نہیں دونوں ایک جیسی شدت سے درد محسوس کر رہے ہوں ۔ دونوں کے احساس میں فرق اور پیمانے میں فرق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال لے لیں آپ نے امرود کھایا اب آپ نے ایک ایسے شخص کو امرود اور اسکے ذائقے کے متعلق بتانا ہے جس نے نہ امرود کھایا نہ دیکھا۔ تو اب آپ خود کو بے بس پائیں گے اسے امرود کے متعلق بتانے میں چاہے کتابوں کی کتابیں لکھ دیں گے امرود نہیں سمجھا پائیں گے۔ اور جس شخص نے امرود کھایا ہو گا وہ امرود کے متعلق پڑھتے سنتے ہی اپنی زبان پر امرود کا ذائقہ بھی محسوس کر لے گا لیکن اس امرود کا ضائقہ جو اس نے چکھا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جو ضائقہ آپ نے محسوس کیا ہو وہ دوسرے شخص نے بھی کیا ہو اور ذائقے کی حس بھی ہر شخص کی برابر نہیں البتہ وہ اپنے ذائقے کی بنیاد پر آپ کے ذائقے کو پرکھے اور سمجھے گا۔تو “حال” کے سارے علوم ہی ایسے ہیں جو صاحبِ حال کے سوا کوئی نہیں سمجھ پاتا۔ اس لئے ایسے علوم کا تزکرہ بھی صاحبِ حال کے سامنے ہی مناسب لگتا ہے ۔

    خاصاں دی گل عاماں اگے نی مناسب کرنی

    یہی وجہ ہے کہ ان علوم تک جب عامیوں کی رسائی ہوتی ہے تو وہ نہ سمجھنے کی بناء پر خاصوں پر اپنے فتووں کی بوچھاڑ کرتے ہیں ۔ امردو کا ذائقہ کتاب سے نہیں ملتا نہ بیان کرنے والے کے بیان سے ملتا ہے بلکہ اسکے لئے خود امرود کھانا پڑتا ہے درد جاننے کے لئے درد سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لئے واحدت الوجود اور واحدت الوجود کے مقام سے گزرے بغیر اس پر کلام کرنا فضول ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *