چلے تھے دیو سائی،قسط2۔۔۔ جاوید خان

SHOPPING

سورج پہاڑوں کی اوٹ سے مسلسل تیرتا ہوا اُوپر آ رہا تھا۔ پرل پہ دھلی ہوئی صبح کااُجالا پھیل چکا تھا۔طاہر صاحب کو ہم نے راستے سے اُٹھانا تھا۔قافلہ یاراں کے اس آٹھویں راہی کو اُترائی کے اک موڑ سے گاڑی میں بٹھایا اور چل پڑے۔گھنے جنگل کے درمیاں سٹرک پہ اس وقت کوئی چہل پہل نہ تھی۔ہماری دوگاڑیوں میں چار چار لوگ سوار تھے۔طاہر صاحب باغ یونیورسٹی میں رجسٹرار ہیں جبکہ عمران رزاق صاحب پوُنچھ یونیورسٹی میں۔نالہ مائل ضلع پونچھ اور ضلع باغ کو جدا کرتا ہے۔نالہ پار کرنے کے بعد ہم چڑھائی چڑھنے لگے۔پہاڑوں کے پیچھے چڑھتے سورج نے بائیں طرف پرل کے بازو پوٹھ (گاؤں)پہ دھوپ ڈالنا شروع کردی تھی۔سڑک کے اردگرد جنگلی زیتون اور انار دانہ کے جنگل دور تک پھیلے ہوئے تھے۔یہ خودرو ہیں انہیں کسی نے اُگایا نہیں۔یہ سارا علاقہ انار دانہ اور زیتون کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔مگر آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جنگل ضائع ہو رہے ہیں۔چھائونی کا پل پار کرتے ہوئے باغ شہر دائیں ہاتھ رہ جاتا ہے۔سڑک کشادہ اور اچھی بنی ہے۔ہماری مِٹسو بُشی اور سفید ٹو او ڈی بغیر کسی تکلیف کے اس پہ دوڑ رہی تھیں۔راستہ دُشوار نہ ہو تو راہ گیر کبھی تنگ نہیں ہوتے۔منزلیں چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوں۔راہ اگر مشکل ہو تو پھر چھوٹا سفربھی طویل لگتا ہے۔عزم اس سلسلے میں بُنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
8 بجے ہم دھیرکوٹ پہنچے۔یہاں نڑول ہوٹل پہ ناشتے کے لیے رُکے۔طاہر کی راے تھی کہ ہم مظفرآباد شہر سے پیچھے کسی ہوٹل پہ ناشتہ کریں، جہاں دیسی مکھن،مکئی کے پراٹھے ملتے ہیں۔مگر ہمارے اکثر ساتھی اتنی دیر تک پیٹ پر پتھر نہیں باندھ سکتے تھے۔مجھے پیٹ میں گرانی تھی ،لہٰذا بھاری ناشتے کی گنجائش نہیں تھی۔میں نے چائے کے ساتھ بند کھایا۔یہ وہ قدیمی ڈش ہے جس نے برے بھلے وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور آج بھی دے رہی ہے۔اس خطہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی طالب علم اس سے نا آشنا نہیں۔زمانہ طالب علمی میں اس نے ہمارے پیٹ کو سنبھالے رکھا اور آج بھی سنبھالے ہوئے ہے۔بند ایک غریب پرور ڈش ہے اور بیکری کا پُرانا جُز ہے۔آزادکشمیر ضلع باغ کے لوگوں نے تقریباًدُنیا بھر میں بیکر کی صنعت میں نام پیدا کیا ہے۔یہاں کے گاریگروں کا سامان ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے۔
دھیر کوٹ تحریک آزادی کشمیر کے لیے بھی مشہور ہے۔دھیر کوٹ کو کرشن چندر نے اپنے ناولوں اور افسانوں میں دکھایا ہے۔یہاں چیڑوں کے ُاونچے اُونچے درختوں،چوٹیوں اوروادیوں کامنظر خوبصورت انداز سے قلمایا ہے۔ناشتے سے ہم فارغ ہو کر گاڑیوں میں بیٹھے اور مظفرآباد کی طرف چل دئیے۔سڑک برابر کشادہ،صا ف اور ہموار تھی۔اس سڑک کی تعریف راجہ نذر بو نیاروی (سری نگر) نے بھی اپنے ایک مضمون میں کی ہے۔بو نیاروی صاحب کے بقول اگر آزادکشمیر بھر میں کوئی چیز اچھی بنی ہے تو وہ راولاکوٹ تا مظفرآباد سڑک ہے۔دھیرکوٹ سے آگے ہم بائیں ہاتھ کوہالہ کی طرف اُترنے لگے۔موڑ کے یکے بعد دیگرے اک اور موڑ اور تسلسل کے ساتھ اُترائی۔اگرمنیر نیا زی صاحب مرحوم کو ایک دریا کے بعد ایک دوسرے دریا کا سامنا تھا تو ہمیں ایک موڑ بعد پھر کسی اور موڑ کا۔یہ موڑ اور اُترائی آخرکار آپ کو دریا جہلم کے دائیں لب پہ لے جاکر چھوڑتی ہے اُس سے پہلے پیچھا نہیں چھوڑتی نہ ہی آپ پیچھا چھڑانے پہ قادر ہیں۔
اُترائی اُتر کر اب ہم دریائے  جہلم کے کنار ے کنار ے مظفرآباد کی طرف بڑھنے لگے۔دریا  ئےجہلم اپنی تیزروانی اور طغیانی کے لیے مشہور ہے۔مقبوضہ کشمیر میں چشمہ ویری ناگ سے نکلتا ہے۔زمانے کے ساتھ اس نے کئی نام اپنائے یا اسے دئیے گئے۔تاریخ میں اسے وتستا،ہیڈ سپیس، ویتھ،بڈ سپیس اور بیتھ کے نام سے جانا جاتا رہا۔آب برقی کی بے پناہ صلاحیت سے مالا مال ہے۔وقت اور تاریخ کی اپنی اپنی مرضی جس کو جو چاہے چولا پہنا دے۔اک جہلم ہی کیا کتنے ہی دریا اور سمندر اس مٹی تلے سوئے ہیں۔نہ جانے کل زمانہ کون سی کروٹ بدلے اور اس پانی کے مست ریلے کا نام کچھ اور پڑ جائے۔ ای۔ایف۔نائٹ ۱۸۸۱ ء میں ایک فوجی مشن لے کرکشمیر آیا تھا۔

SHOPPING

اُس نے اپنی کتا ب ”جہاں تین سلطنتیں ملتی ہیں“میں مری سے وادی کشمیر جاتے ہوئے ٹھیک کوہالہ کے مقام پہ اس دریا کو لکڑی کے شہتروں سے بنے پل سے پار کیا تھا۔ای۔ایف۔نائٹ نے اُس وقت وتستا کے بارے میں سکندر اعظم کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”سکندر اعظم نے یہاں تک کا سفر اگر کیا ہے اور یہ درست ہے تو پھر اس نے کٹھن سفر کیا ہے۔جبکہ اُس وقت بھی جھاگ اُڑاتا ہوا،تیز اور بے انداز چٹانوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے یہ دریا اسی طرح ہی بہہ رہا ہوگا۔یہ دریا کسی طور بھی کشتی یا جہاز رانی کے قابل نہ تھا تاہم ایک فائدہ ضرور تھا کہ لکڑی کے چھوٹے شہتیر جو ہندوستان میں ریلوئے سلیپر کے طور پر اِستعمال ہوتے تھے کشمیر کے جنگلات سے کاٹ کر دریا میں پھینکے جاتے،جو پانی کے بہائو کے ساتھ پنجاب چلے جاتے،جنہیں مہاراجہ کے نمائندے ماچس کی تیلیوں کی طرح بے حساب اکٹھا کرلیتے۔“
”وتستا“ آج بھی لکڑیاں لے جاتا ہے۔اور ٹھیک جہاں سے اُسے سکندر اعظم نے دیکھا ہو گا اور ای۔ایف۔نائٹ نے اپنی آنکھوں سے ایک صدی پہلے اسے جھاگ اُڑاتے دیکھا تھا۔اب وہاں ایک مضبوط پُل ہے اور ”وتستا“ آج بھی اس جگہ سرکشی کرنے سے باز نہیں آیا۔سکندر قبل مسیح کا بادشاہ تھا تب اگر ”وتستا“ میں اس وقت بھی اس جگہ کسی کشتی کے چلنے کی گنجائش نہیں تھی تو آج بھی بالکل نہیں ہے۔ہاں سری نگر کی بات الگ ہے وہاں ڈونگے دُنیا بھر میں مختلف آبی سواریاں ہیں اور رہائشیں بھی۔ہم وتستا یعنی دریا  ئےجہلم کے کنارے کنارے مظفرآباد کی طرف دوڑ رہے تھے۔آخر کار9:30 بجے مظفرآباد پہنچے۔۔۔  (جاری ہے)

SHOPPING

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *