چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان

خُوبصورت پگڈنڈیوں ،ڈھلوانوں پہ بسے گاؤں ،جہاں سارے گھر کبھی کچے تھے میں نے شعور سنبھالا۔میرے کچے گھر کے سامنے سیبوں کا گھنا باغ تھا۔بہار میں سیبوں پہ پھول آتے تو بھنورے  ،شہد کی مکھیاں اِن پہ لپک آتیں ۔کچے گھر کے اردگرد مکئی کاشت ہوتی تھی ۔دُور تک بیاڑ کے گھنے جنگل تھے جو پہاڑوں پہ سر اُٹھائے آج بھی کھڑے ہیں۔ مشرقی سمت تولی پیر کے پار پہاڑوں کا ایک لمبا سلسلہ ہمیشہ سے آنکھیں دیکھتی آئی ہیں۔جب بھی دیکھا انہیں برف کی چادر اُوڑھے دیکھا ۔سُنسان و ویران برف کے پہاڑ ۔گاؤں کی بوڑھی خواتین بتاتی آئیں ہیں کہ ’’کو ہ قاف ‘‘ ہے ۔کو ہ قاف میں دیو اور پریاں رہتی ہیں۔وہ سُنایا کرتیں تھیں ان پہاڑوں پہ آج تک کسی انسان کا گُزر نہیں ہوا۔

وسط ستمبر میں اور کبھی کبھار تو اگست میں ہی حسین پریوں کے اس دیس میں برف کی سفید پری اپنے پنکھ پھیلا لیتی ۔چیت کی سخت بارشوں کے بعد بہار آتی تو جگہ جگہ زمین نیلے ،پیلے اور سفید پھول نکال لیتی ۔چراگاہیں ،سبزہ زار ان پھولوں سے بھر جاتے ۔بھنورے ،شہد کی مکھیاں ،رنگ برنگی تیتلیاں ،پکھیرو ان سزہ زاروں میں اُتر آتے ۔بھنوروں کاترنم سبزہ زاروں اور پھول دار درختوں سے گونجنے لگتا ۔پرندوں کی چہکاریں شفاف آسمان اور دُھلی برف کی حُسن جو اچانک سرسبز پہاڑوں کے پیچھے سے نکل آتا ،پریوں کے اس دیومالائی دیس کی سفید اُجلی ٹھنڈک ہمارے سارے ماحول میں جذب ہوجاتی۔سرد ہوائیں گرم سورج کے نیچے بدن کو سہلاتیں ،زمین پہ کاڑھے سبز قالینوں پہ جابجا رنگ دار پھولو ں کو بوسہ دیتیں ۔یہ ہوائیں پریوں کے دیس سے آتیں اور چلی جاتیں ۔ساون بھادوں میں اُفق کے پار بادل منڈلاتے ،تیرتے رہتے ۔ہماری بڑی بوڑھیاں کہانیاں سناتی رہتی تھیں کہ دیو غصیلے اور جابر ہوتے ہیں جبکہ پنکھوں والی سفید نازک پریاں جن کے سروں پہ خوبصورت تاج بھی ہوتا ہے شرمیلی ،نازک اور پاکیزہ ہوتی ہیں۔

تب ہمارے معصوم ذہنوں میں سوال اُٹھتے تھے آخر جہاں سخت جابر سُرخ انگارہ آنکھوں والے کالے دیو رہتے ہوں وہاں پاک دامن پریاں کیسے رہتی ہیں؟لوک کہانیوں میں دیو کسی پری پر عاشق پو کر اُسے دُور کہیں قید کر ڈالتا تھا۔پھر اُسے شادی کے لیے مجبور کرتا ہے۔تب کہیں سے کوئی بہادر شہزادہ دیو کے چُنگل سے پری کو نکال لاتا ۔یوں پری اور شہزادے کی کبھی کبھی شادی بھی ہو جاتی ۔دوستوں کا خیال تھا کہ اس دفعہ ضرور کہیں دُور کا تفریح دورہ کیا جائے ۔

شفقت اس کے لیے سخت بے تاب تھے ۔دُبلا پتلا اور بلا کا پھُرتیلا بیڈمینٹن کا یہ کھلاڑی ہر دم ترو تازہ رہتا ہے۔القدس مسجد راولاکوٹ کے پہلو میں شام یاراں مُنعقد کرنے اک دفتر ہر شام تیار رہتا ہے۔دفتر تین اطراف سے ا نصف کالے تک شیشوں میں لِپٹا ہے۔ایک ایسی ہی شام جب سورج مغرب میں دن کی آخری سُرخی سمیٹنے کی تیاری کر رہا تھا۔شفقت ،عمران رزاق ،وقاص جمیل ،منصور اسماعیل اور میں بیٹھے تھے۔دفتر جس کے تین اطراف ایلومینیم کے شکنجوں میں کالے شیشے جکڑے ہیں پر جولائی کے دنوں کی تمازت اُتر چکی تھی ۔بات سفر کی چلی تو اپنے مصنوعی غُصے کو دفتر کے خاموش ماحول پہ اُچھالتے ہوئے بیڈمینٹن کے کھلاڑی شفقت نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا اور تقریباًچیختے ہوئے واپس اپنے ہی گھٹنے پہ دے مارا ۔او۔۔۔! چھوڑو یا ر! تُم لوگوں کا جانے کا ارادہ ہی نہیں ۔میں ویسے ہی سب کی مِنتیں کرتا پھروں ؟پاس  ہی  گھومتی کُرسی پہ بیٹھے عمران رزاق نے ا پنی کرسی سمیت آگے جھکتے ہوئے شفقت کے شانے پہ ،شفقت سے ہاتھ رکھا ،ہلکا دبایا اور ممتا بھرے  لہجے میں پُچکارتے ہوئے پوچھا ۔

اوئے شفقت ! میں کب انکاری ہوں یا ر ؟ابھی سب سے پوچھ لیتے ہیں۔اپنے لنگوٹیے دوست کی پچکار پہ اپنے اندر کے بچے کو سنبھالتے ہوئے شفقت نے کہا ۔پھر جلد از جلد کوئی فیصلہ کر و سب کدھر چلنا ہے ۔لہجے میں التجااور حکم دونوں تھے۔ پھر اپنی ٹانگیں بچے کی طرح پھیلا کر شفقت اور وہ  دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر کھیلنے لگے۔عمران نے جھٹکا لیا ،شفقت کے کاندھے سے ہاتھ ہٹایا ، سگریٹ کاگہرا کش لیا اور سیدھے ہوتے ہوئے دفتر کی مغربی کالی دیوار پہ سارا دھواں پھونک دیا۔۲۷ جولائی ۲۰۱۷ ؁ ء کو وقاص جمیل کا پیغام واٹس ایپ میں بنائے گروپ میں موصول ہوا۔قافلہ یاراں ۵اگست بروز بدھ صبح ۱۰ بجے گلگت بلتستان ،چترال کی طرف روانہ ہوگا۔تمام دوست اپنی مصروفیات کو سمیٹتے ہوئے قافلہ میں شریک ہوں۔نیز اپنی دستیابی کی اطلاع کل تک کرلیں تاکہ جُزیات سفر طے ہو سکیں۔

اس ’’واٹس ایپانہ ‘‘حکم پر پہلے عمران رزاق نے اپنا ہاتھ ہاں کے انداز میں بلند کیا ۔دوسرے پہ طاہر نے تیسرا ہاتھ میں نے کھڑا کرتے ہوئے میں کہا ’’ہم تو صرف دیوسائی کے عاشق ہیں۔‘‘۴ اگست کو دفتر گیا تو معلوم ہوا قافلہ یاراں کے صرف ’’سات یار ‘‘دیوسائی چلنے کو تیار ہیں۔دفتر میں عاصم نواز موجود تھے ،وقاص نے عاصم صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا عاصم صاحب ! صبح ۵ بجے آپ نے یہاں ہونا ہے۔عاصم صاحب برقیات میں سب ڈویثرنل آفیسر ہیں ۔آئس پیلس کے نام سے ایک گیسٹ ہاوس بھی چلاتے ہیں۔کم عمر مگر سفید ریش ہیں ۔گم ہو تے بالوں میں چاندنی چڑھا لی ہے اور یہ بُزرگی انہیں خوب راس آئی ہے۔عاصم صاحب نے بے بسی سے گُڈو (وقاص ) کو دیکھا اور کہا میری مجبوریاں ہیں۔مگر گڈو نے کہا کوئی دوسری نہیں چلے گی۔بیاڑ کے گھنے جنگل میں عاصم صاحب کا آئس پیلس بھی اکثر ’’ مجلس یاراں ‘‘کا انعقاد کرتا ہے۔ہمیشہ سادہ لذیذ پلاؤ ،دوشامی کباب ،رائتہ اور روسٹ چکن اس کے بعد قہوہ۔

پروگرام ۱۰ بجے کا تھا مگر دو دن قبل تبدیل ہوکر صبح پانچ بجے نکلنے کا طے ہوا۔انسٹیوٹ آف اسلامک سٹیڈیز کھڑک کے مرکزی دروازے کے باہر بعد نماز فجر گڈو نے گاڑی روکی اور موبائل سے بلایا آجاؤ۔دفتر میں صرف شفقت تھے باقیوں نے ابھی آنا تھا۔میں اور گڈو عاصم صاحب کو اُن کے گیسٹ ہاوس سے لینے کے لیے چل پڑے ۔خنک ماحول میں بیاڑ کے گھنے جنگل میں لب سڑک عاصم اپنے گیسٹ ہاوس میں تیار کھڑے تھے۔سورج کی لالی دور ’’کوہ قاف ‘‘ کے پہاڑوں سے پھوٹ رہی تھی ۔ہم گاڑٰ ی میں بیٹھے اور دفتر پہنچے ۔تمام لوگ موجود تھے۔اصغراقبال ،راحیل پہنچ چکے تھے طاہر کو راستے سے اُٹھانا تھا۔ہلکی خنکی میں،جب ابھی سورج دور پریوں والے ’’کوہ قاف ‘‘ کے پیچھے تھاقافلہ یاراں منزل کی چل پڑا۔۔

(جاری ہے)
توجہ : میرے گزشتہ کالم میں عنوان غلطی سے ’’سُچالے ‘‘کی جگہ ’’لچالے ‘‘چھپ گیا قارئین سے معذرت!

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *