شاعری    ( صفحہ نمبر 8 )

بیوٹی اِز ٹُرتھ(ایک ہندی نما نظم)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کہاں ہے سوندریہ کی شوبھا کہاں یوون کی چھوی ہے، مترو؟ (چھوی : chhavi تصویر) نہیں ہے ایسی کوئی سندرتا اُن بچوں میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے جو کوڑے کے ڈھیروں میں کومل ہاتھوں سے کاغذ، کانچ ، پرانے کپڑے،←  مزید پڑھیے

ہر بیٹی ہی مسکان خان ہو (نظم)۔۔محمد وقاص رشید

مسکان! میں تمہیں سلام پیش کرتا ہوں خراجِ عقیدت کے لیے اپنا کلام پیش کرتا ہوں بے شک مسکان کی ستائش فرض ہے ہر انسان پر انسانیت کا ایک قرض ہے مسکان کی توصیف کون نہیں کرے گا ایک مظلوم←  مزید پڑھیے

​ ایک خوفناک منظر نامہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خوفناک تھا چلتی پھرتی سڑک کا یہ منظر نامہ کل اکڑوں ہو کر لوگ ، خدا جانے، کس سمت چلے جاتے تھے دیکھے بھالے،جانے پہچانےسب اپنے چلتے پھرتےزندہ پُتلے جُڑے ہوئے ٹکڑوں کے سانچے ہیرو غلیفی گُڑیاوں، گُڈـوں کے ایک←  مزید پڑھیے

ہماری آنے والی نسل کو کیسے خبر ہو گی؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بہت سے رت جگے جھیلے بہت آہ وبکا میں وقت گذرا غم پرستی کے سیہ حُجرے میں پہروں بیٹھ کر روئے صنم پوجے ملال و حُزن کے ان بُت کدوں میں، جو سخن کے بُت تراشوں اور غزل کے آذروں←  مزید پڑھیے

​یوں ڈنڈی مت مار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مجھ سے تیرا کیا جھگڑا ہے، کیوں رکھتا ہے بیَر کیوں رکھتا ہے بَیر، مانگ تُو میرے سر کی خَیر پاپ پُن سے بیگانہ ہوں میں اک بھولا بالک میں اک بھولا بالک بھیّا، تُو میرا لے پالک تُو مُنشی،←  مزید پڑھیے

​عالمی شعر و ادب کا ایک سانحہ۔۔ستیہ پال آنند

ایک دن جب عالم ِ ارواح میں بیٹھے ہوئے ایون” کے شاعر ’شیکسپیئر‘ نے یہ پوچھا جارج برنارڈ شاء سے” اے مسخرے ، کیا تو نے غالبؔ کو پڑھا ہے؟ مسکرایا جارج برنرڈ شا ۔۔۔ بولا ہند کے اس شاعر←  مزید پڑھیے

کفن کی جیب کہاں ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ تین دن بڑے بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں مجھے یہ علم ہے، تم میری کجروی کے لیے مری حیات کا اعمال نامہ پرکھو گے برائیوں کا ، گناہوں کا جائزہ لو گے میں جانتا ہوں فرشتو کہ مجھ←  مزید پڑھیے

ہمیشہ زندہ رہ اے حسن ِکاشی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ نظم 1972 میں لکھی گئی، یعنی لگ بھگ نصف صدی پیشتر۔  کنوارے جسم پر اک گیلی ساڑھی بیاہے ہاتھ میں پوجا کی تھالی کھنکتی پائلوں میں لاکھ نغمے شوالے کو چلی جاتی تھی ناری میں کچّا تھا، بہت نادان←  مزید پڑھیے

منظر نامہ: میری موت کے بعد کا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) صحن میں رینگتی، مسکین سی، مَیلی سی دھوپ اور منڈیر پر اِک کوّے کی کائیں کائیں عود، اگر بتّی جلاتا ہوا بوڑھا پنڈت زیرِ لب باتوں میں مصروف کچھ گاؤں کے لوگ سر کو نیوڑھائے ہوئی عورتیں دالان کے←  مزید پڑھیے

چلو دفنا ہی آتے ہیں ۔۔صابرہ شاہین

چلو دفنا ہی آتے ہیں چلو دفنا ہی آتے ہیں محبت کے حسیں لاشے کو صدیوں سے پڑا سڑتا ہے۔۔۔۔ چوراہے ۔۔پہ اب بھی ، جو۔۔۔ یہ چوراہا کہ جس کے سارے رستوں پر فقط اک لوبھ ، لالچ اور←  مزید پڑھیے

آخری چٹان تک۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ریت کے ٹیلے تھے، سوکھی کائی تھی پانی اُترتا جا رہا تھا ہر طرف اک مضمحل ، بیمار سی بوُ تھی ہوا میں آنے والی شام کی گہری اداسی اور گہری ہو رہی تھی برق پا ہِرنوں سے کالے، گیلے←  مزید پڑھیے

واہمہ۔۔نمل فاطمہ

سنو غور سے سنو کیا تمہیں سوکھے پتوں کے چرمرانے کی آواز آ رہی ہے! دیکھو غور سے دیکھو وہ دور چیختی ہوئی اک لڑکی کسی لاش سے لیپٹی رو رہی ہے! محسوس کرو زمین کے سارے رنگ اڑ گئے←  مزید پڑھیے

اثر گرمیٔ رفتار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خارہااز اثر گرمی رفتار می سوخت منّتے ہرقدم راہ روانست مرا (غالب) شعر کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے: میری تیز روی کی حدت نے راہ میں بکھرے ہوئے کانٹوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ اس لئے اب←  مزید پڑھیے

برص زدہ، بدصورت چہرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہم فاسق، فاجر ہیں، مولا ہم عاصی، بدکار ہیں، لیکن ہم تیرے بندے ہیں، مالک ناقص، اسفل، خطا کار ہیں نا بکار، آثم، بے تائب لیکن تیرے روپ کے داعی ہم تیرے ہی جنم جات ہیں ولی، سنت ، صوفی←  مزید پڑھیے

کھڑکی میں سایہ۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

سال نیا آیا ہے دیکھو دیکھو اپنی کھڑکی کھولو روشنی کی بارات سجے گی جھومر ڈالو کہ ّپتوں پر شبنم کچھ ایسے چمکے گی جیسے بس اک سال کے بچے کے ہونٹوں پر رال کی چمکی چمکے گھر کی کچی←  مزید پڑھیے

اومیکرون کی بیٹیاں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پچھل پیریاں ہیں، چڑیلیں ہیں ، کیچڑ میں دھنستی ہوئی اپنی ماہواریوں تک ! انہیں کیمائی گِل و آب میں آج دھنسنے نہ دو ، اے عزیزو کہ یہ کِشت و خوں کی مشینیں ہیں قدرت کی بھیجی ہوئی اس←  مزید پڑھیے

ایک طرحی غزل۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 ( کینیڈا میں یوم ِ غالب پر اطہر رضوی صاحب کے سالانہ جلسے میں دس بر س پہلے، یعنی 2012 میں پڑھی گئی) مصرع طرح: ہماری زندگی کیا اور ہم کیا ہے یہ بے فیض انساں کا جنم کیا ہماری←  مزید پڑھیے

کیڑا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(خواب میں خلق ہوئی ایک نظم) اپنے اندر اس طرح داخل ہوا وہ جیسے رستہ جانتا ہو جیسے اس بھورے خلا کی ساری پرتوں کو کئی صدیوں سے وہ پہچانتا ہو اپنے اندر دور تک جانے کی کیا جلدی ہے←  مزید پڑھیے

انسانی ملکیت۔۔حسان عالمگیر عباسی

سب زبانیں اپنی ہیں سب لباس اپنے ہیں چین و عرب و ہندوستان سب سارا جہاں اپنا ہے تہوار، روایات، مواقع بھی ہمارے سالگرائیں بھی اپنی ماہ و سال ہمارے قمری شمسی ہجری تواریخ بھی اپنی کھجور، میوہ، ساگ، برقی←  مزید پڑھیے

سرائیکی کے سو پسندیدہ اشعار/10،آخری قسط۔۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

ہندوستان پہ قبضے کے دوران برطانوی سرکار نے یہاں کی علاقائی زبانوں پہ خاصی تحقیق کی تھی۔ سرائیکی زبان اور اِس کے ادب پر کام کرنے والے مشہور محقق ایڈورڈ اوبرائن نے اپنی کتاب “گلاسری آف ملتانی لینگویج” 1881ء میں←  مزید پڑھیے