افسانہ    ( صفحہ نمبر 17 )

ہمارا قاتل کون ہے؟ ۔۔علی انوار بنگڑ

ہمارا قاتل کون ہے؟ ۔۔علی انوار بنگڑ/رات تین بجے کا وقت تھا، اس وقت شہر میں ہر طرف سناٹا تھا۔ صرف شیر محمد کی دھڑکنیں بے ترتیب ہورہی تھیں۔ وہ بے چینی کے عالم میں ہسپتال کے برآمدے میں چکر کاٹ رہا تھا اس کے من میں خوشی اور اندیشوں سے ملے جلے خیالات کا ایک شور برپا تھا←  مزید پڑھیے

افسانہ/تنہائی یکجائی(1)۔۔شاہین کمال

میرا نام عبدل سمیع ہے۔ میری زندگی نہ پوچھیے، گویا تنہائی کی تصویر و تفسیر تھی ،مجھے لوگوں سے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی ۔ نہیں نہیں میں آدم بےزار نہیں! پر جانے کیوں دوسرے لوگوں سے connect نہیں کر پاتا←  مزید پڑھیے

لہو پکارے آدمی(1)۔۔عامر صدیقی

تخلیق : مدھوکر سنگھ ترجمہ : عامرصدیقی مدھوکر سنگھ۔پیدائش: ۲ جنوری ۱۹۳۴ ؁ ء۔میدان: ناول، کہانی، شاعری، ڈرامہ،بچوں کا ادب۔ کچھ اہم تخلیقات:ناول: سون بھدر کی رادھا، سب سے بڑا چھل، سیتارام نمسکار، جنگلی سور، منبودھ بابو، اُتّرگاتھا، بدنام، بے←  مزید پڑھیے

اگر میں ایک باپ ہوتا اور میری بیٹی ہوتی۔۔آنند بردہ

ہو سکتا ہے میں اُس کیلئے بڑی زندگی نہ بنا پاتا، یعنی میں درمیانے درجے کا شخص ہوتا یا اُس سے کچھ زیادہ ہوتا یا کم ہوتا۔وہ میرے ساتھ سائیکل پہ یا موٹر سائیکل پہ سکول جایا کرتی مگر شاید←  مزید پڑھیے

سٹِکر (پریانتھا کمارا کے بیٹے کے نام ایک سچا افسانہ)۔۔محمد وقاص رشید

سٹِکر (پریانتھا کمارا کے بیٹے کے نام ایک سچا افسانہ)۔۔محمد وقاص رشید/ (خبر -پریانتھا کمارا کی ڈیڈ باڈی آج سری لنکا روانہ) ماں! ہم کہاں جا رہے ہیں ،ماں  ؟ ۔←  مزید پڑھیے

عمر رفتہ کی ایک یاد دل گداز/ماسٹر نذیز۔۔شاہین کمال

محمد پور میں بھلا ماسٹر نذیر کو کون نہیں جانتا تھا۔ وضع دار، خوش اخلاق، دبلے پتلے سرو قد،گندمی رنگت والے ماسٹر نذیر ۔ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے لٹھے کا خالتہ پائجامہ اور کالی دھاری دھار شیروانی،←  مزید پڑھیے

ہجوم۔۔سیّد محسن علی

معاشی اور سماجی بوجھ کاوزن اپنے کاندھوں پر اٹھائے مفلوک الحال لوگوں کا ایک ہجوم شہر سے گزر رہا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کھلے گٹروں کے بہتے گندے پانی سے وہ بچتے اور ان معصوم بچوں کو یاد کرکے←  مزید پڑھیے

محبت ایسا دریا ہے (افسانہ)۔۔محمد وقاص رشید

رضا ریل گاڑی کے انتظار میں پلیٹ فارم پر ٹہل رہا تھا۔ ابھی گاڑی کے آنے میں کچھ دیر تھی، اچانک اسکی نگاہ ایک بینچ پر پڑی۔تو اس پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا۔بینچ پر ایک خاتون اپنے دو←  مزید پڑھیے

سلگتی ذات(2،آخری قسط)۔۔رمشا تبسّم

جھنجھلا کر اس نے ٹانگ نیچی رکھی اور اسکے دونوں پاؤں روتی ہوئی شانزے کے جھکے سر کے قریب زمین پر تھے۔وہ اس وقت اس کو ان قدموں کو چومنے کا   کہتا تو بھی وہ تیار ہو جاتی ۔بس وہ←  مزید پڑھیے

سلگتی ذات(1)۔۔رمشا تبسّم

سلگتی ذات(1)۔۔رمشا تبسّم/فون کان سے لگائے وہ بالوں کو انگلی پر لپیٹنے میں مصروف تھی۔ فون پر رِنگ مسلسل سنائی دے رہی تھی اور اسکی نظریں گویا کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئیں  بھی کچھ دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی تھیں ۔←  مزید پڑھیے

قائدآباد کی قمر سلطانہ۔۔شاہین کمال

گھر میں ہفتے بھر سے مرگ جیسی خاموشی طاری ہے۔ جیسے یہاں کوئی ذی نفس نہیں بستا بلکہ سرگوشیاں کرتے گھٹتے بڑھتے سائے ایک دوسرے پر گِرے جاتے ہیں۔ اب سب اتنے خوش نصیب بھی کب کہ مرگ ہی ہو←  مزید پڑھیے

بدچلن۔۔حبیب شیخ

وینو، دودھ، وینو۔ یہ تکون پریتی کا سر پھاڑ کے رکھ دے گی۔ ایک وینو روتا ہے کہ وہ دودھ نہیں پیے  گا اور دوسرا دودھ کے لئے ضد کر تاہے۔ یہ کیسا جہاں ہے جہاں ایک کسی چیز کے←  مزید پڑھیے

محافظ۔۔خٹک

وہ اپنے بھاری جسم کو جیسے گھسیٹ رہی تھی۔ چہرے پر دھرے ماسک کے پیچھے اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اسے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی۔ آ ج وہ آفس میں پھر پندرہ منٹ لیٹ تھی، اس←  مزید پڑھیے

الاؤ(دوم،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں بہت سیانا کوا تھا۔ میں اپنے پی۔اے اور ڈرایور کو ہمشہ اپنی مٹھی میں رکھتا تھا۔ ان پر نوازشات کی بارش کر کے ان کی زبان اور ایمان کو اپنے پاس←  مزید پڑھیے

الاؤ(حصّہ اوّل)۔۔شاہین کمال

میری زندگی پر سکون دریا پر ہلکورے لیتی بادبانی کشتی کہ مانند تھی۔ اس کو تند و تیز لہروں کے حوالے میں نے خود کیا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں خود ہی سراسر قصوروار ہوں۔جب آپ چیزوں←  مزید پڑھیے

عالیہ پھر مرگئی۔۔سید عدیل رضا عابدی

عالیہ حسن جو اب جاپانی گڑیا بن چکی تھی ساری اسٹاف کالونی میں مشہور تھی تین سال کی عمر میں ہی اسے ماں اور خالاؤں کی طرح چوڑیاں پہننے اور مہندی لگوانے کا شوق تھا۔ ماموؤں اور ان کے دوستوں کے ساتھ کھیلتی گڑیا ایک دن چکرا کر گر پڑی←  مزید پڑھیے

عصمت (افسانہ)۔۔انعام رانا

“میں تم لوگوں سے تنگ آ گیا ہوں اور سب کچھ تیاگ کر پاک پتن جا رہا ہوں، باقی کی عمر بابا فرید کے مزار پہ گزاروں گا۔ اب مجھ سے کوئی رابطہ نہ  رکھا جائے” جمال کا لکھا نوٹ←  مزید پڑھیے

مُنّی نہیں مانتی۔۔شاہین کمال

اللہ کسی کو اولادوں کی قطار میں بیچ کی اولاد نہ بنائے، انہیں نہ تو بڑی اولا جیسا مان سمان ملتا ہے اور نہ ہی چھوٹوں جیسا لاڈ دلار ، بس ذمہ داریوں کی جکڑ بندیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔←  مزید پڑھیے

سنائپر۔۔شاہین کمال

میرا دفتر سنڑل پارک کے پُرفضا مقام پر ہے۔ بیسویں منزل سے یہ بھاگتی دوڑتی دنیا اتنی فتنہ خیز نہیں لگتی اور اتفاق سے میری کیوبکل کی کھڑکی بھی پارک کی سمت کھلتی ہے۔ میں عموماً اپنا کافی کا پہلا←  مزید پڑھیے

دیوی۔۔عارف خٹک

اس کو ہمارے فلیٹ میں آئے ہوئے ایک ماہ ہوگیا ہوگا۔ مجھے بھی لگ بھگ ایک ماہ ہوچکا تھا۔ دبئی کی  ایک پرانی بلڈنگ میں ہم مرد و عورتیں سب مشترکہ طور پر رہتے تھے۔ جہاں ایک کمرے میں عارضی←  مزید پڑھیے