محافظ۔۔خٹک

وہ اپنے بھاری جسم کو جیسے گھسیٹ رہی تھی۔ چہرے پر دھرے ماسک کے پیچھے اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اسے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی۔ آ ج وہ آفس میں پھر پندرہ منٹ لیٹ تھی، اس کا دل دہل رہا تھا کہ   آج پھر سب کے سامنے وہ اس کا باس اس کی عزت کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دے گا۔
وہی ہوا،باس نے سب کے سامنے اس کو لتاڑ دیا،کہ وہ روز لیٹ آتی ہے۔ آنکھوں میں آنسوچھپائے وہ اپنے ڈیسک پر جاکر بیٹھ گئی۔ جب سب لوگ اپنے کام میں مصروف ہوگئے تو ڈیسک پر سر رکھ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
“صباحت ! تم کیوں کام کررہی ہو؟۔ ماسیاں ہیں ناں؟”
اس کے شوہر نے پیار سے اسکا ہاتھ پکڑا۔
“کام نہیں کروں گی تو بھینس بن جاؤں گی۔ ایک بچی کے بعد پھیلتی جارہی ہوں”۔
صباحت نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور بستر کی چادر ٹھیک کرنے میں مگن ہوگئی۔
“ماسیوں کو گھورنا بند کردو پلیز”۔
سلمان ہکا بکا اپنی بیوی کو دیکھ کر رہ گیا۔
اس کو یہ نوکری کرتے ہوئے قریبا ً تین ماہ ہوگئے تھے۔ بنک کی نوکری تھی۔ کوئی مستقبل نہیں تھا۔ کریڈٹ کارڈ بیچنا تھا۔ پورا دن کسٹمرز کو فون کرنا، ان کی جھڑکیاں سننا اور سو میں سے دو کسٹمرز کا میٹنگز کیلئے بلا کر معنی خیز انداز میں اس کے جسم کے انگ انگ کو گھورنا، ایسی بدکردار نظریں اس کو جیتے جی مار ڈالتی تھیں۔
“جان لے لوں گا تیری میں۔ ”
سلمان کا غصہ ناقابل برداشت ہورہا تھا۔
“تم نے میری بیوی کو گھورا کیسے؟”۔
سلمان صباحت کی گرفت سے خود کو آزاد کرکے سامنے فٹ پاتھ پر کھڑے بندے پر پل پڑا،اردگرد کے لوگوں نے بڑی مشکلوں سے اس بندے کی جان چھڑوائی۔
“سلو آپ کو غصہ کنٹرول کرنا چاہیے،اس نے بس گھورا تو تھا۔”
صباحت ناراضگی سے اپنے شوہر کو سمجھانے لگی۔
“نہیں میں برداشت نہیں کرسکتا کوئی میری عزت کی طرف ٹیڑھی نظر سے بھی دیکھے”۔
سلمان نےفیصلہ کُن نظروں سے اپنی بیوی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
اس نے بھی اپنی نظریں گاڑ دیں۔
“میں بھی برداشت نہیں کرسکتی جب آپ سرراہ اپنی پرانی کلاس فیلو کیساتھ رنگ رلیاں مناتے ہو۔ کیا میں بھی برداشت کرتی ہوں۔
سلمان ہکا بکا اس کا منہ تکنے لگا۔
اس نے اپنے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو جلدی سے صاف کیا۔ اس کے کچھ کولیگز ان کو ترحم آمیز نظروں سے دیکھ کر دوبارہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔
صباحت کویہ نوکری بھی اس شرط کیساتھ ملی تھی کہ اگر آپ نے ٹارگٹ پورے نہیں کئے تو آپ کو آدھی تنخواہ ملے گی اور تین ماہ کے بعد آپ کو نوکری سے نکال دیا جائیگا۔
صباحت نے اپنا فون نکالا۔ نمبر ڈائل کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کے کپکپاتے ہونٹوں سے بس اتنا ہی نکلا۔
“سر میں یہ کام کرتی تو مجھے نوکری کی کیا ضرورت تھی۔ ۔۔۔۔۔ میں معذرت خواہ ہوں”۔
فون کاٹ کر اس کے آنکھیں ایک دفعہ پھر جھلملائیں۔
سات سال سے وہ اپنی ماں کے  گھر تھی۔ کیونکہ اس نے اپنی شکی مزاج طبعیت کیوجہ سے سلمان کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ ایک دن اس نے سلمان کو اپنی کولیگز کیساتھ مارکیٹ میں دیکھا، سلمان کے بہتیرا سمجھانے پر بھی اس بات پر اَڑی رہی کہ اس کا اس لڑکی کے ساتھ معاشقہ ہے۔ سلمان نے گھر کے بزرگوں کےسامنےقرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ اس کی سینئر تھی اور اس کےساتھ اس لئے مارکیٹ گیا تھا کہ کمپنی کے نئے شوروم کیلئے مختلف کمپنیوں کے میٹیریل کی انسپیکشن کرنا تھی۔ سلمان کے دفتر میں ہنگامہ مچانے کے بعد سلمان نے اس کو کھڑے کھڑے اس کو گھر سے نکال دیا۔ بچے سلمان نے رکھ لئے۔
صباحت کے گھر والوں نے طلاق کیلئے بہت زور دیا۔ مگر سلمان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
“سر کے بال سفید کروا دونگا مگر طلاق نہیں دونگا”۔
صباحت کی ماں نے صباحت کو مجبور کیا کہ وہ خلع لے لے۔ مگر پتہ نہیں کیوں وہ اس بات پر راضی نہیں تھی۔
سات سالوں میں بھابیوں کی نظروں میں اس کی اوقات دو ٹکے کی بھی نہیں رہی تھی۔ جس ماں کے بل پر وہ اچھل رہی تھی۔اب وہ بھی بہووں کے سامنےکمزور پڑگئی تھی۔
صباحت نے تنگ آکر بنک جاب کیلئے اپلائی کردیا کہ بھائیوں کے بچے بڑے ہورہے تھے سو اسکو خرچادینا بھائیوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں تھا۔
ان سات سالوں میں سلمان بچیوں کو لیکر پردیس چلا گیا تھا۔ وہ اپنی دونوں بچیوں کیلئے پاگل ہورہی تھی۔مگر اب یہاں تھا کون۔ نہ سلمان نہ اس کی اولاد۔
لنچ ٹائم میں وہ دفتر کی کینٹین سے اپنے کیبن کی طرف آرہی تھی کہ اس کے پیر گویا زمین میں دھنس گئے۔
“ہم نے اس لئے اپائنٹ کیا تھا صباحت کو، کہ شادی شدہ ہے کسٹمرز کو خوش رکھ سکے گی، مگر یہ سالی کسی اڑیل گھوڑی کی طرح کسی کو ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہی”۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ٹیم لیڈر کی آواز اس کے کانوں میں پگھلتے ہوئے سیسے کی  مانند پڑی۔
وہ کسی بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اندر گئی اور تھپڑ   کی آواز سے پورا ہال گونجنے لگا۔
دس منٹ کے بعد وہ دفتر سے باہر گھر جانے کیلئے رکشے کے انتظار میں کھڑی تھی۔
ایک گاڑی اس کے پاس آکر ر ک گئی۔
“ایک گھنٹے کا کتنا لوگی؟”۔
وہ گھبرا کر فٹ پاتھ  سے  لگے کھمبے کیساتھ مزید سکڑ گئی۔ بے بسی سے اس کا پورا جسم جیسے سنسنا رہا تھا۔ وہ شدت سے چاہ رہی تھی کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں دھنس جائے۔ کب تلک وہ ان جنسی بھیڑیوں سے نبرد آزما رہے گی۔ کب تک وہ ہراس ہرنی جیسی  چھلانگیں لگاتی کبھی یہاں کبھی وہاں بھاگے  گی۔ اس زندگی سے موت اچھی ہوگی کم از کم انسان چار فٹ نیچے زمین میں سکون سے تو رہے گا کوئی جنسی درندہ اس کے بخیے  ادھیڑنے کو بیتاب نہیں ہوگا۔
اچانک اس کو ایک جانا پہچانا مرد دو خوبصورت بچیوں کے ہاتھ پکڑے سامنے والی بلڈنگ میں داخل ہورہا تھا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ پورا جسم کپکپانے لگا۔
اس نے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے آواز دی۔
“سلو پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ بندہ اچانک مڑ گیا۔ دونوں خوبصورت بچیاں حیرت سے اس کو دیکھ رہی تھی۔
وہ کسی معصوم بچے کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ جس کو اسکول کے بچے مار رہے ہو ں اور اچانک اس کو اپنا باپ نظر اجائے۔
دونوں ہاتھوں سے کار والے کی طرف اشارہ کرکے شکایت کرنے لگی
“سلو یہ بندہ مجھے پریشان کررہا ہے۔۔۔ ۔پلیز مجھے بچا لو”۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

julia rana solicitors
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply