حبیب شیخ کی تحاریر

ريت کا ٹیلہ (سچے واقعات پہ مبنی کہانی)۔۔حبیب شیخ

کراچی  شہر ہر طرف جھنڈوں اور جھنڈيوں سے سجا ہوا تھا۔ پچاسواں یومِ آزادی بہت جوش و خروش سے منایا جا رہا تھا۔ اصغر اس ماحول سے بےنیاز اپنی بیوی اور تین بچوں کے ہمراہ ایک موٹر وین میں  منزل←  مزید پڑھیے

داخلی شور کی سزا ۔۔حبیب شیخ

بھاری بوٹوں کی چاپ نے خیالوں میں مگن اکبر کو چونکا دیا۔ ’میں تو شور کو سُنا اَن سنا کر دیتا ہوں لیکن آج مجھے کیا ہو گیا! وہ تو پتا نہیں کب سے لیٹ کر چھت کو گھور رہا←  مزید پڑھیے

وہ آخری بت۔۔حبیب شیخ

میرے جیون ساتھی، آؤ!اب تم واپس آجاؤ! میں اپنے بتوں کو توڑ دوں گی اور تم بھی اپنے بتوں کو پاش پاش کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ پھر ہم خوشگوار زندگی پالیں گے جس میں دونوں کا ایک ہی←  مزید پڑھیے

اب تم میری بیٹی نہیں رہی۔۔ حبیب شیخ

’میں تمہیں کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں۔ تم تہہ خانے میں رات گئے اندھیرے میں گڑگڑا کر کیا دعا مانگ رہے ہو؟ تم تو نماز ہی شاذ و نادر پڑھتے ہو۔‘ خالدہ سے رہا نہ گیا۔ مبارک نے اپنی←  مزید پڑھیے

جنّت سے رہائی ۔۔حبیب شیخ

نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی  پرزے←  مزید پڑھیے

تمہیں خدا پر بھروسہ نہیں۔۔حبیب شیخ

نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقع کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں گم  تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟ ←  مزید پڑھیے

میں نے اپنے آپ سے دوستی کیسے کی؟۔۔۔ حبیب شیخ

جب میں نے اپنے ادیب دوست خالد سہیل کو اپنا نیا افسانہ “شرمیلی کی روح شرمیلی کا جسم ،پر تیری مرضی” ان کی نظر ثانی اور رائے کے لئے ای میل کے ذریعے بھیجا تو ایک یا دو دنوں کے←  مزید پڑھیے

قدرت کا رقص۔۔حبیب شیخ

جب کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں ایک پارک میں گیا مجھے کوئی انسان نظر نہیں آیا، سنسان پارک کو دیکھ کر میں گھبرا گیا، چاروں طرف خاموشی ہی خاموشی تھی، پھر ایک چڑیا میرے سامنے آ کر بیٹھ←  مزید پڑھیے

وبا اور سزا۔۔حبیب شیخ

ایک عالم ِدین کو وبا پھیلنے کی وجہ پتا لگ گئی ۔ اے عالمِ دین تیرےپاس یہ پیغام کہاں سے آیا ہے کہ یہ وائرس میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی سزا ہے کہ یہ وائرس عورتوں کی فحاشی←  مزید پڑھیے

ایک میٹر کے سمندر۔۔ حبیب شیخ

چاروں اطراف ہُو کا عالم تھا۔ صبح کاذب کے اندھیرے اور کہر میں سب چھپا ہوا تھا۔ شلوار قمیض میں ملبوس عدنان کمبل میں ٹھٹھرتا ہوا ،کچھ ٹھوکریں کھا کر ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔ “مجھے معاف کر دو۔←  مزید پڑھیے

جے ماتا جے۔۔۔حبیب شیخ

درمیانے قد اور بھاری وزن کے ڈاکٹر شرما نے الٹراسونک کمرےسے نکل کر دفتر کی طرف مڑ کر زورسے کہا۔ “جے ماتا جے ” اور سب گھر والوں کے چہرے لمبے ہو گئے ۔ میرے سسر کی آنکھوں سے چنگاریاں←  مزید پڑھیے

پھول والی لڑکی۔۔حبیب شیخ

نوید کیفے سے باہر نکل کر موٹر رکشہ میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ کوئی اس سے ٹکرایا ۔ نوید نے دور سے آنے والے کھمبے کے ٹمٹماتے ہوئے بلب کی روشنی میں غور سے دیکھا تو ایک لڑکی گلاب←  مزید پڑھیے

ان کے اندر کے انڈین کو مار دو۔۔حبیب شیخ

انتساب:  کینیڈا اور امریکہ کے اصلی باشندوں کے بچوں کے نام ،جنہیں بیسوی صدی میں ’انسان ‘ بنانے کے لئے جبراً خصوصی رہائشی  سکولوں میں رکھا گیا۔ “تم لوگ کہاں ہو؟ میری پکار کو کیوں نہیں سنتے ؟ اماں ،←  مزید پڑھیے

میرے پردیسی بچو۔۔حبیب شیخ

میرے بچو! میرے پیارے بچو! تم میرے دشمن کیوں بن گئے ہو؟ میں اب بھی تم سے اسی طرح پیار کرتی ہوں اس دن کی طرح جب تم اس دنیا میں آئے تھے۔ تم غیر موجود سے موجود ہو گئے۔←  مزید پڑھیے

اچھوت مسلمان۔۔حبیب شیخ

ارے بھئی تم اُدھر بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔نوجوان کارندے نے سختی سے کہا۔ اِدھر بھی تو لوگ بیٹھے ہیں میرے اِدھر بیٹھنے ميں کیاحرج ہے۔ بھئی اب تو ميں مسلمان ہوں۔ میں اور میرا بھائی ہندو دھرم چھوڑ کر مسلمان←  مزید پڑھیے

کیا گویَن گن نے پاکستان پر بھی حملہ کردیا ہے؟۔۔حبیب شیخ

گویَن گن کون ہیں ؟ یہ چینی زبان کی ایک اصطلاح ہے۔ اس کی پرانے زمانے میں مراد اُن مردوں سے تھی جو پیسہ, ہنر یا کسی اور کمی کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتے تھے۔ اس اصطلاح کا←  مزید پڑھیے

بے لوگ۔۔حبیب شیخ

پہلے پہل سب نے میری تعریفوں کے پل باندھے ۔ مجھے زراعت کی ترقی میں ایک سنگ بنیاد قرار دیا گیا ۔ بعضوں نے یہ دعوے بھی کر دئیے کہ میں اور میرے کچھ ساتھی اس خطہ ارض سے بھوک←  مزید پڑھیے

خاموش صحن۔۔۔حبیب شیخ

یہ کیسی کشیدگی، یہ کیسا کھچا کھچا سا ماحول، ان دیواروں کے پیچھے کچھ چھپا ہوا خوف؟ کیا اس عمارت کا وہی حال ہو گا جو رام باغ کا ہوا تھا؟ کیا میرے بچے یہاں محفوظ ہیں؟ سیتا کچھ دنوں←  مزید پڑھیے

ریشماں اور ریشم بیگم۔۔حبیب شیخ

عارف بند گیٹ کو بےتابی سے دیکھ رہا تھا۔  ’یہ گیٹ کا دروازہ نہیں ہے یہ میری قسمت کا دروازہ ہے  جو ابھی کھل جائے گا۔  اگر ریشماں خود باہر آئی تو میں اسے کھینچ کر درختوں کی اوٹ میں←  مزید پڑھیے

دوسری بیوی۔۔۔حبیب شیخ

شروع شروع میں سونیا کو نعمان بہت بُرا لگتا تھا۔ پھر وہ اس سے اتنا متاثر ہوئی کہ اسی کے بارے میں دن رات سوچنے لگ گئی تھی۔ جب نعمان نے سونیا کو بتایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور←  مزید پڑھیے