حبیب شیخ کی تحاریر

لہراتے ہوئے پردے ۔۔حبیب شیخ

اعلان ہوا کہ شہر کو آزاد کرا لیا گیا ہے، دشمن کو مار بھگا دیا گیا ہے، بارودی سرنگیں شہر کا ہر کونہ ہر عمارت چھان چھان کر نکال دی گئیں ہیں۔ سخت جان مگر نرم چہرے کی حامل چالیس←  مزید پڑھیے

دھول و پھول۔۔ حبیب شیخ

ذرا خیال سے اُڑنا، ادھر نہیں آنا۔ کیوں؟ تم اب میرے اِدھر اُدھر اڑنے پہ پابندی لگاؤ گے! پابندی نہیں بھئی۔ بس یہ ایک درخواست ہے کہ اس طرف نہیں آنا۔ تمہیں پتا ہے کہ میں کتنا حسین و جمیل←  مزید پڑھیے

ضرورت نہیں ہے۔۔ حبیب شیخ

مجھے ضرورت نہیں ہے، مجھے ضرورت نہیں ہے اِس نئے نظام کی، اُس پرانے نظام کی نہ انتخابات کی نہ سیاسی جماعت کی نہ کسی شعبدہ بازکی نہ نئےامتحانات کی نہ ان کے منشوروں کی ،نہ ان کے نعروں کی←  مزید پڑھیے

بھنور۔۔ حبیب شیخ

زندگی میں کتنا ٹھہراؤ تھا! آہستہ آہستہ رواں دواں زندگی کوئی مسئلہ نہیں، کوئی پریشانی نہیں لیکن ذ ہن کہیں کھویا ہوا اور جسم ہمیشہ تھکا ہوا یہ بے چین سوچیں اور ٹوٹتے ہوئے انگ نہ پھولوں کی مہک، نہ←  مزید پڑھیے

کب ہاتھ میں تیرا ہاتھ نہیں ۔۔حبیب شیخ

دو ہاتھ ایک دوسرے کو تھامے ہوئے ایک ہاتھ دوسرے کو سہارا دیے ہوئے محبت، الفت ، سب کچھ ایک دوسرے کے لئے ایک ہاتھ تیزی سے سرد ہو رہا تھا گرم ہاتھ نے سرد ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ←  مزید پڑھیے

بھنور ۔۔حبیب شیخ

زندگی میں کتنا ٹھہراؤ تھا! آہستہ آہستہ رواں دواں زندگی کوئی مسئلہ نہیں، کوئی پریشانی نہیں لیکن ذ ہن کہیں کھویا ہوا اور جسم ہمیشہ تھکا ہوا یہ بے چین سوچیں اور ٹوٹتے ہوئے انگ نہ پھولوں کی مہک، نہ←  مزید پڑھیے

بدچلن۔۔حبیب شیخ

وینو، دودھ، وینو۔ یہ تکون پریتی کا سر پھاڑ کے رکھ دے گی۔ ایک وینو روتا ہے کہ وہ دودھ نہیں پیے  گا اور دوسرا دودھ کے لئے ضد کر تاہے۔ یہ کیسا جہاں ہے جہاں ایک کسی چیز کے←  مزید پڑھیے

بہتر کون؟۔۔حبیب شیخ

یہ اتنا شور کیوں ہو رہا ہے؟ ایک اونچی دیوار بن رہی ہے، میں ا بھی ادھر ہی سے دیکھ کر آ رہی ہوں۔ دیوار، وہ کیوں؟ وہ تو راستہ روکنے کے لئے بنائی جاتی ہے نقل و حرکت کو←  مزید پڑھیے

جو خود ہی اپنی زنجیر بنے۔۔حبیب شیخ

’یہ تم نے اپنے جسم پہ کیا لپیٹا ہؤا ہے؟‘ ’یہ ایک زنجیر ہے۔‘ ’زنجیر! کس نے تمہارے جسم پہ زنجیرڈال دی؟‘ ’کون ڈالے گا! میں نے خود ہی یہ کیا ہے! ‘ ’ہیں! یعنی تم نے خود ہی اپنے←  مزید پڑھیے

جنگجوکے آخری لمحات۔۔حبیب شیخ

عادل ریت پر لیٹا ہوا تھا، ایک دن کا پیاسا کئی دنوں سے بھوکا۔ اس کا جسم شاید بےجان ہو چکا تھا اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ کسی عضو کو ہلا سکے۔ ہر چند لمحات کے بعد وہ←  مزید پڑھیے

پانچ مچڑے ہوئے نوٹ۔۔حبیب شیخ

خدا بخش گھبرایا گھبرایا سا تھا اتنے سارے لوگ، کچھ پڑھے لکھے، کچھ دولت کی انا میں اکڑے ہوئے، کچھ سرکاری عہدوں پر فائز آقا بنے ہوئے۔ اسے انجینئر کے کمرے تک پہنچنا تھا۔ وہ تو پانچ ایکڑ زمین کا←  مزید پڑھیے

مکان سے مکان تک۔۔حبیب شیخ

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام مجھے کتنا دکھ تھا اپنی زمین، اپنی جگہ چھوڑنے کا۔ وہ محض زمین نہیں تھی بلکہ میری جنّت تھی، جہاں←  مزید پڑھیے

جب انسپکٹر گاؤں والوں کو بچانےکے لئے آیا۔۔حبیب شیخ

تھانیدار کے سیکریٹری نے فون اٹھایا۔ ہیلو۔۔ جی ہماری مدد کریں ۔ ہمارے گاؤں پہ راشٹریہ سنگھ کے لوگ حملہ کرنے والے ہیں، وہ ہم کو مار ڈالیں گے، ہمارے مکان جلا دیں گے، ہماری فصل کو آگ لگا دیں←  مزید پڑھیے

کتنا بھرپور پیغام۔۔حبیب شیخ

ریمنڈ چلتا رہا، چلتا رہا، اپنی چھوٹی مگر مضبوط ٹانگوں کے ساتھ۔ موٹی سوت کی بنیان کے اوپر چیک دار قمیض اور اس کے اوپرکالے رنگ کی بھاری جیکٹ، سر پر اونی ٹوپی، ہاتھوں پہ دستانے، برفانی بوٹ۔ پورا سماں←  مزید پڑھیے

چُوڑے کو پھانسی دو۔۔حبیب شیخ

اس حبس سے بھرے ہوئے بدبو دار سیل میں سہیل مسیح اونگھ رہا تھا ہمیشہ کی طرح۔ گال پچکے ہوئے اور آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں۔ اگر کبھی اس کی آنکھ لگ بھی جاتی تو جلّاد کی شکل، پھانسی کا پھندہ،←  مزید پڑھیے

محبّت اور مکان۔۔جبیب شیخ

فجر روز بیٹے کو طعنے دیتی کہ اس کو باپ سے محبت نہیں ہے ورنہ وہ مکان بیچ کر اس کا علاج کرواتا۔ وہ مکان جو باپ نے عمر بھر ایک ایک پیسہ جمع کر کے کھڑا کیا تھا اور←  مزید پڑھیے

وائرس سے مکالمہ۔۔حبیب شیخ

ہائے! تم نے مجھے کیوں بیمار کردیا؟ اب تَو مجھے کھانسی کے ختم نہ ہونے والے دورے پڑ رہے ہیں۔‘ انسان نے کراہتے ہوئےکہا۔ میں تَو اپنے لیے صرف ایک خلیہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اوہ! تم بول پڑے۔ میں کب←  مزید پڑھیے

ريت کا ٹیلہ (سچے واقعات پہ مبنی کہانی)۔۔حبیب شیخ

کراچی  شہر ہر طرف جھنڈوں اور جھنڈيوں سے سجا ہوا تھا۔ پچاسواں یومِ آزادی بہت جوش و خروش سے منایا جا رہا تھا۔ اصغر اس ماحول سے بےنیاز اپنی بیوی اور تین بچوں کے ہمراہ ایک موٹر وین میں  منزل←  مزید پڑھیے

داخلی شور کی سزا ۔۔حبیب شیخ

بھاری بوٹوں کی چاپ نے خیالوں میں مگن اکبر کو چونکا دیا۔ ’میں تو شور کو سُنا اَن سنا کر دیتا ہوں لیکن آج مجھے کیا ہو گیا! وہ تو پتا نہیں کب سے لیٹ کر چھت کو گھور رہا←  مزید پڑھیے

وہ آخری بت۔۔حبیب شیخ

میرے جیون ساتھی، آؤ!اب تم واپس آجاؤ! میں اپنے بتوں کو توڑ دوں گی اور تم بھی اپنے بتوں کو پاش پاش کر دینا۔ مجھے یقین ہے کہ پھر ہم خوشگوار زندگی پالیں گے جس میں دونوں کا ایک ہی←  مزید پڑھیے