“یہ ناقابلِ تصور ہے کہ آپ کبھی بھی دو چمپینزیوں کو دیکھیں جنہوں نے ملکر درخت کا تنا اٹھایا ہو”۔ مائیکل ٹوماسیلو جو چمپینزی کے ذہن پر تحقیق کے ماہر ہیں، ان کا یہ فقرہ سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔← مزید پڑھیے
منہ زیادہ یا ناک (حصّہ اوّل)/ملکہ کو باغبانی کا جنون کی حد تک شوق تھا‘ اسے پھولدار و پھلدار پودوں سے حد درجہ محبت تھی۔ بادشاہ نے اپنی چہیتی ملکہ کے اس شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے وسیع رقبہ پر ایک انتہائی خوبصورت باغ لگوایا← مزید پڑھیے
جدہ شہر سعودی عرب میں حجازی تہذیب کا قدیم شہر مانا جاسکتا ہے، جدہ کو یہ خصوصیت کئی وجوہات کی بنیاد پر حاصل ہے، مکہ و مدینہ کے قریب قدیمی بندرگاہ، اور حجاز کی تہذیب کا مرکزی شہر ہونے کی وجہ بھی اس کی بنیاد رہی ہے، جدہ کی قدیم تاریخ جدید عرب سے پہلے کی ہے← مزید پڑھیے
سادگی اپنی، اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔۔قادر خان یوسف زئی / پاکستان کو ایسا ہمسایہ ملا ہے کہ اس کی دوستی پر اعتبار نہیں اور دشمنی میں مزہ نہیں۔ اس میں نہ خلوص ہے کہ ایک شریف کا دل موہ لے اور نہ مردانگی کہ ایک ’’بہادر‘‘ سے بے ساختہ داد تحسین لے ۔← مزید پڑھیے
مُلا صدرا اپنی ’اسفار‘کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ مجھ پر الہام ہوئی ہے (فالھمنی)، اور جب یہ وحدت الوجود اور اصالتِ وجود کی بات کرتے ہیں تو وہاں بھی کہتے ہیں کہ یہ الہام ہوا ہے۔ ہیراکلتس سے لئے گئے حرکتِ جوہری کے تصور کو بھی اپنا مکاشفہ قرار دیتے ہیں← مزید پڑھیے
8جون 1949 ایران میں پاکستانی اور روسی سفارتکاروں کے ذریعے وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کو روسی صدر جوزف اسٹالن کی جانب سے ملنے والی دورہ روس کی دعوت ملتے ہی سفارتی ایوانوں میں بھونچال آ گیا ۔ عائشہ جلال← مزید پڑھیے
عمران خان صاحب نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد سے جو جارحانہ حکمت عملی اختیار کررکھی ہے وہ ان کے جنونی مداحین کو یقینا بہت بھائی ہے۔ سوال مگر یہ اُٹھتا ہے کہ اس کے بعد← مزید پڑھیے
ملکی سیاست کا ہر باب مولانا کے ذکر کے بغیر ادھورا رہتا ہے ۔ حضرت جی کی معاملہ فہمی، سیاسی بصیرت اور جرات کا ایک زمانہ معترف ہے۔بات کرنے کو لب کھولتے ہیں تو علم و فضل کے موتی جھڑنے← مزید پڑھیے
سپردگی کا عمل فرد کی کامل زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، اس عمل کا ظہور صرف انفرادیت تک محدود نہیں بلکہ یہ سماج کی اجتماعی معاشرت میں بھی جڑ پکڑ سکتا ہے، مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسے مظاہر ایک نسل سے اگلی نسل میں بھی منتقل ہوسکتے ہیں ۔← مزید پڑھیے
سید سلیمان ندوی اپنی کتاب “سیرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ” عنہا میں لکھتے ہیں “آج مسلمانوں کے اس دور انحطاط میں، ان کے انحطاط کا بحصہ رسدی آدھا سبب “عورت” ہے ۔ وہم پرستی، قبر پرستی، جاہلانہ مراسم، غمی یا← مزید پڑھیے
آج سے تیس برس پیچھے جائیں تو سوویت یونین کے ٹوٹ جانے پر وہاں سے تقریبا ً دس لاکھ یہودیوں نے اسرائیل ہجرت کی تھی اورجنگ سے فرار ہزاروں یوکرینی یہودیوں کو اسرائیل نے اپنے ہاں آباد کرنے کے لیے← مزید پڑھیے
ایوو ( yiwu ) شہر میں ہمارے ٹیکسلا شہر کے کافی لوگ رہتے تھے اور سارے ہی جان پہچان والے ۔ اکثر ہم ایک دوسرے کی طرف جاتے رہتے تھے اور اکثر اکٹھے کھانا کھاتے ۔ ان میں فاروقی صاحب← مزید پڑھیے
کیا اہل سیاست کی محبت میں اپنے سماجی تعلقات داؤ پر لگا دینا مناسب بات ہے؟یہ سماج سیاسی ناخواندگی کا شکار ہے۔جب تک سماجیات ، عصری بین الاقوامی اور قومی سیاست اور آئین کو نصاب اور قومی بیانیے کا حصہ← مزید پڑھیے
عوام کی سلیکشن۔۔محمد عدنان/9 اور 10 اپریل کی درمیانی شب تاریخ کی وہ سیاہ رات تھی جب پاکستان میں بیرونی دباؤ اور اندرونی مدد سے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔عوام کے منتخب وزیراعظم نے آخری وقت تک سامراج کا مقابلہ کیا← مزید پڑھیے
معروف صحافی عمران ریاض خان نے اپنی ایک ویڈیو میں یہ بات بتائی ہے کہ جب سابق وزیراعظم عمران خان کے وزیراعظم ہائوس میں آخری چند گھنٹے رہ گئے تھے تو انھوں نے کوئی سات آٹھ صحافیوں کو بلایا، جن← مزید پڑھیے
پاکستانی تاریخ کو پچھلے چند ہفتے انتہائی حساس نوعیت کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا اور ہر لمحے بدلتی صورتحال نے ہر دلچسپی رکھنے والے کو حیرا ن کئے رکھا اور حالات پچھلے چند سالوں سے یکسر مختلف دکھائی دے← مزید پڑھیے
حال ہی میں راندۂ درگاہ کی گئی پی ٹی آئی حکومت کے حوالے سے پہلی بات یہ ذہن میں رہنی چاہئے کہ یہ ایک کٹھ پتلی حکومت تھی۔ اسے برسر اقتدار لانے کے لئے منتخب نواز حکومت کے خلاف جو← مزید پڑھیے
ناکام ہیرو، کامیاب ولن۔۔سیّد ایم زاہد/انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک حکمرانی رہی ہے۔ شہرت منزل کو پانے کے لیے ایک سیڑھی ہے۔ خود کو دوسرے انسانوں سے اعلیٰ و ارفع ثابت کرنا اور منوانا حکومت کے حصول و دوام میں ہمیشہ سے مدد گار رہے ہیں← مزید پڑھیے
جانیوالا چلا گیا لیکن ایک سوچ اور ایک مشن دیکر گیا ہے۔ یہ نظام قدرت ہے، اللہ پاک اس کے اگلے مراحل آسان فرمائے، اسے راحت و سکون عطا کرے، خان صاحب نیک کاموں سے زیادہ بہت سے نیک جذبات قوم کو دے کر گئے۔← مزید پڑھیے
ستر کی دہائی کو “فرد کی دہائی” کہا جاتا ہے۔ انفرادیت پسندی کا عروج اس وقت میں آیا۔ سماجی سائنس میں ہونے والی تبدیلیاں بھی اسی کے ساتھ ہی۔ مثال کے طور پر، سماجی نفسیات میں fairness کے لئے کی← مزید پڑھیے