یہ صدر ایوب کا زمانہ تھا۔ کہتے ہیں اس دور میں آٹے کی قیمت میں دو روپے من اضافہ ہوا۔ اس سے قبل آٹھ سال تک آٹا کی قیمت اٹھارہ روپے من رہی۔ جیسے ہی آٹا بیس روپے من ہوا← مزید پڑھیے
پچھلی ایک صدی میں زیادہ تر جنگیں کسی ریاست کی توسیع کیلئے نہیں ہوئی بلکہ ان کو توڑنے کی کوشش میں رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں خانہ جنگی جنگ کی عام ترین صورت ہے۔ ایسی خانہ جنگی کے پیچھے← مزید پڑھیے
چائے کے وقفے میں کرنل صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ درہ بُرزَل کے اُس پارشکمہ کے مقام پرموجود، کیپٹن(ڈاکٹر) مسعود پوسٹ آؤٹ ہو چکا ہے۔ اس کی شادی ہوئے تھوڑا عرصہ ہوا ہے، وہ منتظر ہے کہ کوئی اُس← مزید پڑھیے
پہاڑی زبان میں لکھے گئے ایک سفر نامے کا تذکرہ ہمارے پڑوس میں دوبوڑھے میاں بیوی رہتے تھے۔بوڑھی نیک پرہیز گار جبکہ بوڑھا ایک لبرل آدمی تھا۔ان کے درمیان اکثر نوک جھونک لگی رہتی تھی۔ بوڑھی اس کی بے دینی← مزید پڑھیے
عصر حاضر میں ہر شخص کے گرد فکروں کا ہجوم ہے۔وہ اپنے جسم پر مساموں سے زیادہ دکھوں کے زخم برداشت کرتا ہے۔دکھوں کی بھی الگ سے کیمیاگری ہے۔نہ ان کی کوئی سمت اور نہ کوئی گھر۔ پتہ نہیں یہ← مزید پڑھیے
چند روز قبل میڈم صباء گل نے خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے ایک وٹس ایپ گروپ بنایا۔ گروپ میں مجھ ناچیز کو بھی شامل کیا گیا۔ خواجہ سراء ہمارے ملک کی مظلوم ترین اقلیت ہیں۔ تشدد، قتل اور← مزید پڑھیے
وطنِ عزیز میں آجکل شدید سردی اور دھند کا راج ہے۔ اور اس سردی میں کاروبارِ زندگی تو جاری رہتا ہے، البتہ صحت کے معاملے میں لوگوں کی شکایات میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں← مزید پڑھیے
جھوٹے جتھے قبائل بنے۔ سرداری نظام قبائل کو نگل گیا، اور ساتھ چھوٹے جتھوں کو۔ پھر ریاستیں بنی اور سلطنتیں۔ پیٹرن ایسا ہی رہا ہے، لیکن بالکل یکساں نہیں۔ یہ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر کی صورت میں نہیں رہا۔ ہر← مزید پڑھیے
برسات کے بعد جنگل کا موسم بہت خوبصورت تھا ۔ہر طرف میٹھی میٹھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ،ہرنوں کے ایک گروہ نے فیصلہ کیا کہ کیوں نا جنگل کی سیر کی جائے ۔ساری دوستیں اکٹھی ہو کر مسکراتی کھکھلاتی← مزید پڑھیے
دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی پیرس کے کیفے سرگوشیوں میں ہونے والی گفتگو،گلاسوں کی کھنک اور قہقوں کی گونج سے آباد تھے ۔فروری 1943 کی وہ دوپہر، نرم دھوپ کی کثافت لیے بدن میں عجب سی ہلچل برپا کر← مزید پڑھیے
“عدیل نے میرا نمبر کہاں سے لیا ہوگا”؟ میں پیکو والی دکان کا تھڑا چڑھتے ہوئے بھی یہی سوچ رہی تھی۔ دکاندار سے دوپٹہ پکڑ کر دیکھا، ٹُک وہیں کا وہیں تھا۔ لگتا ہے میری طرح سب کی مت مری← مزید پڑھیے
گزشتہ سال 29 دسمبر 2022 کو افغان مہاجرین کے بارے میں “ایسوسی ایٹڈ پریس” کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “پاکستانی پولیس نے متعدد چھاپوں میں کم از کم 1200 افغان مہاجرین کو حراست میں لیا ہے جن← مزید پڑھیے
اقبال نے سن1907ء میں ایک شعر لکھا تھا جس کی آج تک ہمارے دانشور جگالی کیے جارہے ہیں۔وہ شعر تھا تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو← مزید پڑھیے
پیدائش کے ساتھ موت جڑی ہوئی ہے۔ ذی روح پیدا ہی اس لیے ہوتا ہے کہ اسے کسی وقت مر جانا ہوتا ہے۔ علیحدگی اورطلاق کا تعلق اکٹھے رہنے اور بیاہے جانے کے ساتھ ہے۔ کہتے ہیں کہ سکّے کے← مزید پڑھیے
باقی نہ رہا عشق ترے حُسنِ بیاں میں زیبا تو بہت، درد نہیں تیرے فغاں میں لڑتا ہے کبھی مصلحتوں سے بھی کوئی جنگ آہن ہی نہیں کچھ بھی ترے تیر، سناں میں دنیا ہے بہت خوب، یہاں دین سے← مزید پڑھیے
وہ وفا کی شمع بجھی نہیں، پہ جو شوق تھا وہ تو مر گیا وہ نہ کٹتا تھا جو ترے فراق میں، وقت وہ بھی گزر گیا تو مِلا نہیں جو کسی بھی خواب میں، تج دیا ترے خواب کو← مزید پڑھیے
” مجاز حقیقت کی سیڑھی ہے ” مگر کیا صرف نوخیز لڑکوں سے عشق ہی مجاز ہے؟ فقیر “گل ساج “جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتا ہے یہ سرائیکی خِطہ ہے اور سرائیکیوں کے متعلق تاثر ہے کہ یہ لوگ “مردانہ← مزید پڑھیے
ایک قہقہے کے دوران میرے ساتھ بیٹھے ہوئے میجر عالم نے مجھے چپکے سے کہا تھا ’’ ہنسو!‘‘۔ میں نے بھی ہولے سے پوچھا تھا ،’’ کیوں سر؟‘‘ انہوں نے سرگوشی میں جواب دیا تھا،’’ جب سینئر ہنسے تو سب← مزید پڑھیے
بھارت کے ایک سکالر مسعود عالم فلاحی کی تحقیقی کتاب “ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان” شائع ہوئی ہے جس کے مطالعہ سے چودہ طبق روشن ہونے کا پورا امکان ہے۔ یہ کتاب ریختہ پر موجود ہے۔ اب اجمل کمال← مزید پڑھیے
کل ایک صاحبِ علم کی پوسٹ نظر آئی جس میں انہوں نے سوال قائم کیا تھا کہ کیا سال اسلامی و غیر اسلامی ہوتے ہیں؟ یہ سوال قائم کرکے آگے انھوں نے لکھا تھا: قدیم زمانے سے انسانوں نے موسمی← مزید پڑھیے