اَمرد پرستی کی نفسیات/گُل ساج

” مجاز حقیقت کی سیڑھی ہے ”
مگر کیا صرف نوخیز لڑکوں سے عشق ہی مجاز ہے؟
فقیر “گل ساج “جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتا ہے یہ سرائیکی خِطہ ہے اور سرائیکیوں کے متعلق تاثر ہے کہ یہ لوگ “مردانہ حُسن پرستی” میں اوجِ کمال تک پہنچے ہوئے ہیں۔
تونسہ لیہ راجنپور مظفرگڑھ میانوالی اس معاملے میں سرِ فہرست ہیں تونسہ اور گرد و نواح میں امرد پرستی کی جڑیں اس قدر راسخ ہیں کہ
” لڑکا بازی ” باقاعدہ ثقافت میں شمار ہونے لگی ہے۔
اس سلسلے میں عوامی سطح پر متعدد ضرب الامثال تونسہ سے معنون ہیں ۔۔
“تونسہ گواہ ہے نئی لین ساڈی”
لین سے مراد شعبہِ جنس ہے یعنی خواتین سے تعلق ہمارا شعبہ نہیں ہمارا اصل میدان لونڈوں سے محبت ہے۔
” جب تک لڑکے کی ہتھیلی پہ بال نہ اُگ آئیں وہ سیکس کے لیے موزوں ہے۔ ”

یہ بڑی دلچسپ بات ہے یعنی ہتھیلی پہ بال مرتے دم تک نہیں اُگتے اور اس وقت تک ہم اس کام کو ترک نہیں کریں گے۔”

تونسہ کے متعلق ایک اور دلچسپ قول مشہور ہے کہ “تونسہ کی  فضا میں داخل ہوتے ہی پرندے بھی ایک پَر سے اپنے نازک اعضا ء کو ڈھانپ لیتے ہیں۔”

یہ سب عوامی اقوالِ امرد پرستی کے پسِ منظر میں تونسہ کی شہرت کے مظہر ہیں ۔
ویسے تونسہ تو بدنام ہے میرا علاقہ مظفرگڑھ بھی اس میدان میں پیچھے نہیں ۔۔کچھ سال پہلے تک لڑکے رکھنا وجہ ء امتیاز تھی اور عام شخص سے لے کر روسا تک اس معاملے میں یک شد تھے مگر اب ماحول نسبتاً  تبدیل ہوا ہے ۔

ایک عجیب چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ جو لوگ نوجوانی میں اَمرد پرستی کی عادت  میں مبتلا ہوں یعنی فاعل ہوں ادھیڑ عمری میں وہ مفعول بن جاتے ہیں اور جو اوائلِ شباب میں مفعول ہوں ردِعمل کے طور پہ جوانی میں فاعل بن جاتے ہیں،ٹینکیاں جب بھر جائیں تو ٹونٹیاں بہنے لگتی ہیں ۔

ایک عبرتناک اور عجیب و غریب واقعہ سناتا ہوں میرا ایک دوست نما تعلق دار تھا اسکے والد اسی شوق کا شکار تھے وہ نوخیز نوجوانوں کو لالچ دے کر اپنے جال میں پھنساتا اور ان سے بدفعلی کروا کے “شاہی شوق ” پورا کرتا ۔۔

میرا دوست جس کی عمر تقریباً18 سال تھی وہ اس بات پہ کڑھتا اور شرمندہ رہتا ۔اسکی نفسیات مسخ ہوگئی اس نے ردِعمل میں ایک عجیب طریقہ اپنایا۔۔وہ اپنے والد کی ٹوہ میں رہتا اسکا والد جس لڑکے سے اپنا شوق پورا کرواتا، یہ نوجوان اس کو نظر میں رکھ لیتا، اس سے تعلق بناتا اور موقع ملتے ہی اسکے ساتھ بدفعلی کر دیتا، بعض اوقاف زبردستی بعض اوقات ترغیب سے یہ کام سر انجام دیتا ۔۔
اس کے تئیں وہ ان لڑکوں سے ریپ کر کے اپنے والد کا بدلہ لیتا ہے اور اس طرح اپنی شرمندگی کو مٹانے کا حیلہ کرتا کہ دیکھو جس لڑکے نے میرے والد سے بدفعلی کی میں نے جواب میں اس سے بد فعلی کر کے انتقام لے لیا اور اب میں نظر اٹھا کے چل سکتا ہوں ۔۔یقین کیجئے 18 سال کی عمر میں وہ لونڈے بازی میں سنچری مکمل کر چکا تھا ۔

اَمرد پرستی کے تانے بانے ہم جنس پرستی سے ملتے ہیں۔

مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں ہم جنس پرستی کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے ۔۔
یونان جوازمنہ قدیم سے تہذیب و ادب عشق و رومان کا گہوارہ تھا یونان کی تہذیب و ثقافت نے تاریخِ عالم پہ گہرے اثرات مرتب کیے ہیں ۔
ہومر،بسیوڈ،افلاطون،ارسطو سقراط،اور سکندر اعظم جیسے مشاہیر کا تعلق یونان سے تھا۔ افلاطون سقراط ہم جنس پرست تھے ۔۔افلاطون کے ساتھ ساتھ یونان سے تعلق رکھنے والی عظیم خاتون شاعر سائفو بھی ہم جنس پرستی کی قائل تھی۔۔اور یہی ادبی شخصیت خواتین میں ہم جنس پرست کی ابتداء گزار کہلاتی ہیں ۔
اُردو ادب کے جن ناقدین نے قدیم یونانی شاعرہ سیائفو پہ لکھا ہے اُن میں مِیرا جی اور سلیم الرحمٰن کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
میرا جی لکھتے ہیں کہ
” اگرچہ سائفو کسی طرح کے اخلاقی اصولوں کی پابند نہ تھی لیکن اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ” دل کی صفائی اور پاکیزگی اس کا مطمع نظر تھا “( یہ جملہ آگے چل کر ہمارے موضوع کے لئیے اہم کردار کا حامل ہے )۔

مرد کے ہاتھوں اپنے روح و جسم کو یکسر سونپ دینا اُس کے لیے کوئی خوشگوار عمل نہ تھا، مثلاً وہ ایک جگہ اپنے آپ کو ”ابدی دوشیزہ” لکھتی ہے۔ سیفو کے اردگرد دوشیزاؤں کا جھرمٹ رہتا تھا۔ سیفو اپنی ان نوجوان عورتوں کے حلقے کو ”ہٹیرے” کے نام سے بیان کرتی ہے۔ اس لفظ کا مفہوم بعینہٖ وہی تھا جو آج ہمارے سماج میں سہیلی یا ”دوپٹہ بدل بہن” کے کلمے سے لیا جاتا ہے۔”بہرحال یہ جملہ معترضہ ہے کیونکہ خواتین میں “کاما” کا رحجان ہمارا موضوع نہیں۔

امرد پرستی کی ایک تاریخ ہے
مذاہب کے پسِ منظر میں دیکھا جائے تو قوم لوط کا ذکر ملتا ہے جو امرد پرستی میں مبتلا تھے وہ اس درجہ اس فعل میں شدت پسند تھے کہ انہوں نےاس معاملے میں فرشتوں کو بھی نہ بخشا۔۔لونڈے بازی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس قوم کو تباہ کر دیا گیا  ۔

مگر حیرت کی بات ہے جس چیز کی وجہ سے ایک قوم صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی اور جسے مذہب ممنوعہ قرار دیتا ہے آگے چل کر اسے مذہب نے اپنا لیا ۔۔
“’ تصوف برائے شعر گفتن خوب است ‘‘
اس قول کے مصداق تصوف شاعری کے لیے محرک ہے ۔۔اوپر ذکر شدہ جملے کے تحت عشق و عاشقی ( خصوصاً لڑکے سے عشق ) تصوف کے لیے محرک رہا ہے ۔
“مجاز حقیقت کی سیڑھی ہے”
گرو رجنیش ایک جدید طرز کے صوفی گزرے ہیں ۔

کہتے ہیں کہ
“عرفان کی منزل پانےکے لیے جن مراحل کو عبور کرنا پڑتا ہے ، ان میں عیش ونشاط ، رنگ رلیاں ، رقص وسرور  اور بزمِ طرب ، مئے نوشی،ہم جنس پرستی شامل ہیں ۔
یہ فکر بظاہر منفرد معلوم ہوتی ہے
لیکن در حقیقت یہ خیال نیا نہیں ہے۔
صوفیا میں ایک جملہ بہت مشہور ہے کہ :
’’ المجاز قنطرت الحقیقہ ‘‘
یعنی عشقِ حقیقی تک رسائی کے لیے عشق مجازی ضروری ہے۔

انکی نظر میں عشقِ مجازی نوخیز لونڈے سے عشق ہے ،گرچہ مخالف جنس سے عشق بھی مجاز میں داخل ہے مگر لڑکوں سے عشق منزلِ حقیقی تک پہنچنے میں زیادہ معاون ہے۔۔اسکی متعدد تاویلات ہیں انکو صرفِ نظر کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔
” مجاز حقیقت کو پانے کا راستہ ہے”
گویا جو شخص کسی انسان سے محبت نہ کرے وہ خدا تک براہِ ِ راست رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔۔

پروفیسر ڈاکٹر وحید قریشی نے اپنے تحقیقی مقالے ’’ شبلی کی حیاتِ معاشقہ ‘‘ میں ثابت کیا کہ المامون ، الفاروق اور سیرت النبیؐ جیسی شہرہ آفاق کتب کے مصنف مولانا شبلی نعمانی کا نا  صرف عطیہ فیضی کے ساتھ معاشقہ رہا بلکہ وہ مولانا ابوالکلام آزاد پر بھی فریفتہ تھے۔۔

مولانا شبلی کے معتقدین کو بھی شبلی کی صفائی میں چار و ناچار مندرجہ بالا جملے کا سہارا لینا پڑا کہ “مجاز حقیقت کی سیڑھی ہے ۔”

افلاطون پہلا فلاسفر ہے جس نے امرد پرستی کو عشقِ حقیقی کا منبع قرار دیا۔

مشہور شاعر فراق گورکھپوری کے بقول افلاطون کے استاد سقراط بھی امرد پرست تھے ۔

افلاطون کا ہی ” نظریہ عشقِ امرد ” مذکورہ بالا جملے کی بنیاد بنا ہے ۔

اردو کے اولین شعراء میں سے ولی دکنی کا ایک شعر ہے :
در وادی حقیقت جس نے قدم رکھا ہے
اوّل قدم ہے اس کا عشقِ مجاز کرنا ۔۔۔

لڑکوں سے عشق فارسی شاعری کا ایک جزو لاینفک رہا ہے چونکہ دعوت وتبلیغ کے لیے شاعری صوفیاء کو مرغوب رہی ہے فارسی کے عظیم شعراء حافط شرازی ، شیخ سعدی اور ہندوستان میں امیر خسرو جو صوفیاء کہلاتے ہیں نے بھی امرد پرستی پر مبنی شاعری کی ہے۔

حافظ شیرازی کا شعر ہے
اگر آں تُرک شیرازی بدست آورد دلِ مارا
بخالِِ ہندوش بخشم ثمر قند و بخرا را۔۔

” اگر شیزار کا وہ تُرک لڑکا میرے ہاتھ لگ جائے تو اس کے گال کے تِل کے بدلے ثمرقند و بخارا اسے بخش دوں۔

امیر خسرو عملاً بھی مردوں کے عشق میں مبتلا رہے کہا جاتا ہے کہ امیر خسرو اپنے مرشد نظام الدین اولیا پہ فریفتہ تھے اور انکا بیشتر عشقیہ کلام اسی پسِ منظر میں ہے۔۔
امیر خسرو جو نظام الدین اولیا کے علاوہ اپنے پیر بھائی حسن سجزی پر بھی عاشق تھے ۔

مشہور فارسی شاعر ، عالم اور صوفی سرمد شہید ٹھٹھہ کے ایک ہندو لڑکے “ابھی چند” پرعاشق تھے بلھے شاہ اپنے مرشد عنایت قادری کے لیے زنانہ لباس پہن کر رقص کرتے تھے۔۔

مادھو لال حسین ایک صوفی بزرگ کا نام ہی انکے ایک لڑکے مادھو لال سے عشق کی وجہ سے پڑا۔۔

پروفیسر ڈاکٹرنورالحسن ہاشمی لکھتے ہیں :
’’ تصوف اس زمانے کے تمدن میں شعر وشاعری کے ہنگام کا بہت بڑا محرک ہے لیکن تصوف کے لیے لڑکوں سے عشق ضروری ہوگیا تھا ۔عشق معاشقی و محبت ان زمانوں میں نا  صرف عام ہے بلکہ عقلی صلاحیت ، اخلاقی بلندی اور تہذیبِ نفس کی  دلیل سمجھے جاتے تھے اور چونکہ ” المجاز قنطرتالحقیقہ ” کے مصداق سچا عشق غیر جنس کے ساتھ ہوسکتا ہے اس لیے لڑکوں سے عشق کرنا اور پھر وہاں سے خدا تک پہنچنا عالموں ، فاضلوں ، شعراء اور ہر صاحبِ  فہم کے لیے ضروری ہوگیا ۔

پروفیسر نور الحسن لکھتے ہیں
“خود لڑکوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ معشوق بننا بُرا نہیں بلکہ لائقِ فخر و امتیاز ہے۔ چنانچہ ایرانی تہذیب صدیوں اسی رنگ میں رنگی رہی اور یہی اثرات مغلیہ عہدِ  حکومت میں ہندوستان میں بھی بدرجہ اتم منتقل ہو گئے۔ ‘‘

مشہور محقق جمیل جالبی لکھتے ہیں
’’ اس دور میں لڑکوں نے غیر معمولی اہمیت حاصل کر لی تھی ان کو اپنے ساتھ رکھنا اور ان کے پیچھے دیوانہ ہونا ایک عام بات تھی ۔
(بنوں پشاور سائیڈ پہ بڑے بڑے ملک روساء اپنے ساتھ ایک لونڈا رکھتے تھے جسے “بغل بچہ” کہتے ہیں )

دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکوں سے عشق کی ایک پوری روایت اس دور میں جنم لیتی ہے ۔
اس دور میں فنِ امرد پرستی نے اتنی ترقی کی کہ نا  صرف استادی شاگردی کے رشتے قائم ہوگئے بلکہ لڑکوں کی سجاوٹ وضع قطع ، آرائش اور حسن و جمال کے طور طریقے بھی مقرر ہوگئے ۔ شاعر آبرو نے پوری ایک مثنوی “درموعظہ آرائشِ معشوق ” کے عنوان سے اس موضوع پر قلم بند کی ہے ۔
صباحت بیچ گویا ماہ کنعانی ہے وہ لونڈا
ملاحت بیچ سر تا پا نمک دانی ہے وہ لونڈا
( آبرو )

دونوں طرف میں داڑھی خورشید رو کے دوڑی
دیکھو زوال یارو ، آیا برا زمانہ
( آبرو )

جو لونڈا چھوڑ کر رنڈی کوں چاہے
وہ کوئی عاشق نہیں ہے ، بوالہوس ہے
( آبرو )

امرد پرستی کا رجحان میر و سودا کے دور میں بھی نظر آتا ہے ۔ میر کی کلیات میں بیسیوں اشعار اس موضوع پرمل جاتے ہیں ۔
امام بخش ناسخ ایک لڑکے پر عاشق تھے اور مرنے سے پہلے تمام جائداد اسکے نام کر گئے ۔
بعد کے شعرا ء میں فراق گورکھپوری امرد پرست تھے ۔

ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں :
’’ فراق کی امرد پرستی کے سلسلے میں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ان کے تیرہ چودہ سالہ بیٹے نےخود کشی کرلی تھی قطعیت کے ساتھ اس کی وجہ معلوم نہیں لیکن الہ آباد میں کچھ ایسا سنا تھا کہ فراق صاحب نے بیٹے کی کسی دوست سے مختلط ہونے کی کوشش کی تھی جس کے صدمے اور غیرت سے بیٹے نے جان لینے کی ٹھان لی۔ ‘‘
(یہ بالکل وہی معاملہ ہے جس کا ذکر فقیر نے اوپر کیا ہےبفرق یہ کہ فراق کے بیٹے نے خود کشی کر لی تھی اور یہاں انتقاماً سو بچے جنسی طور پہ ذبح کر دئیے گئے )

Advertisements
julia rana solicitors

ساغر نظامی جو ایک خوب رو شاعر تھے ، کے حوالے سے سیماب اکبر آبادی کا یہ ذومعنی مصرع مشہور ہے :
’’ ساغر کی تہ میں قطرہ سیماب رہ گیا ‘‘
جدید دور میں ہم جنس پرستی باقاعدہ تحریک کی صورت اختیار کر گئی ہے اور کئی مغربی ممالک میں اسے قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔۔
(اِس مضمون کے کچھ حصّے ماخوذ ہیں )

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply