خواجہ سراؤں پر بہیمانہ تشدد کی سائنس/ثاقب لقمان قریشی

چند روز قبل میڈم صباء گل نے خواجہ سراؤں کے حقوق کے حوالے سے ایک وٹس ایپ گروپ بنایا۔ گروپ میں مجھ ناچیز کو بھی شامل کیا گیا۔ خواجہ سراء ہمارے ملک کی مظلوم ترین اقلیت ہیں۔ تشدد، قتل اور ہراسانی کے زیادہ تر واقعات اسی کمیونٹی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہر چند روز بعد تشدد کا کوئی نیا واقعہ رونما ہوتا ہے۔ خواجہ سراء مجھے اپنا خیر خواہ سمجھتے ہوئے ہر نئے واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز مجھ سے شیئر کر دیتے ہیں۔ خواجہ سراؤں کے اپنے بھی ان سے رشتے ناطے ختم کر لیتے ہیں۔ اس لیے ہمارے جیسا کوئی بھی بندہ جب ان کے قریب جاتا ہے تو یہ جلد ہی اس کے ساتھ کوئی رشتہ بنا لیتے ہیں۔ مجھے کچھ خواجہ سراؤں نے اپنا بیٹا، کسی نے بھائی تو کوئی میری بیٹی بنی ہوئی ہے۔

ویل چیئر پر بیٹھے معمولی سے بندے کیلئے یہ بڑی بات ہے کہ ہمارے ملک کی مظلوم ترین کمیونٹی مجھے اپنے حقوق کا رکھوالا سمجھتی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس قابل کیا کہ میں معذور افراد کے بعد آج خواجہ سراؤں کے حقوق کی آواز بھی بن گیا ہوں۔

میں نے گروپ میں سوال رکھا کہ خواجہ سراء پر جب بھی تشدد کیا جاتا ہے یا خواجہ سراء کو قتل کیا جاتا ہے تو جرم کا طریقہ کار عام جرائم سے زیادہ سنگین کیوں ہوتا ہے؟ خواجہ سراؤں پر تشدد کے واقعات میں تشدد عام لوگوں پر کیے جانے والے تشدد سے زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ تشدد کے اس عمل کی سائنس کیا ہے؟

میرا سوال تھوڑا ٹیکنیکل تھا تشدد کی سائنس کا متوازن جواب مجھے عام لوگوں سے بھی نہیں مل سکا۔
قنبر کشش نے کہا کہ خواجہ سراؤں پر تشدد کے زیادہ تر واقعات عام طور پر رپورٹ نہیں ہوتے۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ایک خواجہ سراء قصائی کی دکان سے پیسے چوری کرکے بھاگا۔ قصائی نے اسے پکڑ لیا اور کہنے لگا کہ کس ہاتھ سے چوری کی ہے۔ خواجہ سراء نے اپنی جان بچانے کیلئے دونوں ہاتھ سامنے رکھ دیئے۔ بے رحم قصائی نے اسکے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے۔

چند روز قبل کراچی کے علاقے شیر شاہ میں فضہ نامی خواجہ سراء کا بے دردی سے قتل کیا گیا۔تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا تھا کہ فضہ کی گردن پر چھری پھیری گئی۔ اسکی آنکھوں کو پھوڑا گیا۔اسکے پیٹ کو چاک کیا گیا۔

مانسہرہ سے مشہور ایکٹویسٹ اور میری بہترین دوست نادرہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم خواتین والا لباس پہنتے ہیں خواتین کی طرح جینا چاہتے ہیں تو اس میں کون سی ایسی برائی ہے۔ نادرہ کہتی ہیں ہمارے اوپر تشدد کی سب سے بڑی وجہ معاشرہ ہے۔ معاشرہ ہمارے گھر والوں کو اتنا مجبور اور بے بس کر دیتا ہے کہ وہ ہمیں اپنا سمجھنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں ہمارے اوپر تشدد کرتے ہیں۔ جب ہم تنگ آ گھر چھوڑ دیتے ہیں تو پھر پورا معاشرہ ہم پر ظلم کرتا ہے۔

نادرہ (جن کی چند روز قبل وفات ہوئی ہے نے کہا پچھلے سال آٹھ خواجہ سراؤں کو گھر والوں نے بے دردی سے قتل کیا۔ کچھ تصاویر بھی شیئر کیں ایک میں چودہ سالہ خواجہ سراء کو گھر والوں نے منہ پر برسٹ مار کر قتل کیا۔ دوسری میں گھر والے ایک خواجہ سراء کو تھانے سے چھڑوا کے لائے پھر گولی مار کر تھانے کے باہر پھینک دیا۔ جبکہ تیسری تصویر میں دوست نے خواجہ سراء کی لاش کے ٹکرے کر کے پھینک دیئے۔ نادرہ مرحوم نے کہا بہیمانہ تشدد خواجہ سراء کی زندگی کے خاتمے کیلئے کیا جاتا ہے اسکی وجہ شائد یہ ہے کہ خواجہ سراء کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔

اسی قسم کی مسخ شدہ لاشوں کی تصاویر ہر چند روز بعد خواجہ سراؤں سے موصول ہوتی ہیں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے۔ خواجہ سراؤں کے حقوق پر باقاعدگی سے لکھنے کی وجہ بھی یہی ہے۔

تشدد کس چیز کا نام ہے؟ یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اسکی کتنی اقسام ہیں؟ وغیرہ جیسے سوالات کئی روز سے میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ بہت سی چیزوں کو ٹٹولنے کے بعد جواب ملا کہ “انسان کی مرضی کے خلاف اس سے کوئی کام کروانے کا نام تشدد ہے۔”

تشدد کی بہت سی اقسام ہیں۔ ہم چار اہم اقسام کو بیان کرنے کوشش کریں گے جن سے باقی اقسام جنم لیتی ہیں۔ پہلی قسم جسمانی تشدد ہے۔ جس میں ظالم مار دھاڑ کا سہارا لیتے ہوئے مظلوم سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری قسم جذباتی تشدد ہے جس میں ظالم اپنے مقام، عہدے یا طاقت کے ذریعے کسی شخص کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ تیسری قسم معاشی تشدد کی ہے جس میں طاقت ور کمزور کے رزق، آمدن یا مراعات کو کم کرکے معاشی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ چوتھی اور آخری قسم جنس کی ہے جس میں کمزور کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔

ہر انسان کسی نہ کسی طرح اور کسی نہ  کسی سطح پر اپنے سے کمزور کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ لیکن جب ہم خواجہ سراؤں کی بات کرتے ہیں تو ان پر تشدد کرتے وقت اس استحصال کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

خواجہ سراؤں سے مختصر سے روابط کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان میں رہنے والے ہر خواجہ سراء کو اوپر بیان کی گئی تشدد کی تمام اقسام کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا کم از کم دو سے تین اقسام سے ضرور مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

خواجہ سراء بچپن میں جب لڑکیوں والی حرکتیں کرتے ہیں تو پہلے انھیں پیار سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وقت گزرنے ساتھ ساتھ پیار مار پیٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مار پیٹ کا یہ سلسلہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔ پھر ڈیروں، چکلوں، بھیک، سیکس ورک اور فنکشنز تک ساری زندگی ساتھ رہتا ہے۔ جذباتی تشدد بھی گھر، محلے، سکول سے شروع ہوتا ہے اور ساری زندگی جاری رہتا ہے۔

خواجہ سراء عزت کی نوکری کریں، کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام کریں معاشی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں جتنے خواجہ سراؤں کو جانتا ہوں ان میں سے زیادہ تر جنسی ذیادتی کا سامنا کرچکے ہیں۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو پولیس، رشتہ داروں، دوستوں اور اوباشوں کے ہاتھوں متعدد بار جنسی زیادتی کا سامنا کرچکے ہیں۔

اپنی جنس یا مخالف جنس کو تشدد کا نشانہ بناتے وقت انسان کے دل میں قانون اور معاشرے کا تھوڑا بہت خوف ضرور ہوتا ہے۔ خواجہ سراء پر تشدد کرتے وقت سنگینی اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ مجرم جانتا ہے کہ خواجہ سراء گھر سے نکالا ہوا ہے۔ معاشرہ اسکے حقوق کو انسانی حقوق سمجھنے کو تیار نہیں۔ پولیس کا منہ تھوڑے بہت پیسے دے کر بند کروایا جاسکتا ہے۔ میڈیا بھی خواجہ سراؤں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کو چلانا پسند نہیں کرتا۔ ہماری سپورٹ مجرم کو اور زیادہ ظالم بنا دیتی ہے۔

انسانی معاشرے میں پائی جانے والی کسی بھی قسم کی شدت پسندی چنگاری کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر جلد قابو پانا ضروری ہوتا ہے۔ چنگاری جب آگ بن جاتی ہے تو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لی لیتی ہے پھر اس پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔

خواجہ سراء اور ہمارے ملک میں رہنے والے غیر مسلم عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ شدت پسندی کی یہ لہر آگے بڑھتے ہوئے فرقہ واریت اور خواتین کے حقوق کو سلب کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ آگ کو بجھایا نہیں گیا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم سب اس کی لپیٹ میں ہونگے۔

Advertisements
julia rana solicitors

cover photo by times

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply