کچھ دنوں پہلے دہلی پولیس نے یہ حکم صادر کیا تھا کہ ایف آئی آر درج کرتے وقت ان الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے، جو فریادی کی زبان پہ نہ ہوں ۔ اس بابت اپریل کی اا تاریخ کو← مزید پڑھیے
اپریل 28 کوامریکی سفیر اچانک آدھی رات کوفواد چودھری کے گھرآئے جبکہ فواد چودھری کوبھی اس کاپیشگی علم نہیں تھا۔ پاکستان میں ایک سرکاری ایس او پی ہے جس کے تحت کوئی بھی ڈپلومیٹ اگر کسی سے ملنے جاتا ہے← مزید پڑھیے
ہر کوئی اپنے آئینی حقوق کی بات تو کرتا ہے مگر جب آئینی ذمہ داریوں کی بات آتی ہے تو آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ ہمارے سیاستدان آئین و قانون کی پاسداری میں ناکامی پر دوسروں کی نشاندہی تو کرتے← مزید پڑھیے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر (محسن نقوی) میں تو گم نام تھا ایک گوشہِ تنہائی میں دل جو بیچا ہے تو اب سُرخی ِ اخبار میں ہوں (سراجی← مزید پڑھیے
مذاق برطرف ـ یہ کہنا کہ مظاہرین چوں کہ پنجابی تھے اس لئے فوج نے ہاتھ ہلکا رکھا ہے فوجی وکٹ پر کھیلنا ہے ـ اسی طرح دونوں متحارب دھڑوں کی طبقاتی پوزیشن کے تناظر میں پیٹی بورژوازی کی نچلی← مزید پڑھیے
ایسے انسان کی آپ بیتی جنہوں نے باوجود صدمات کو جھیلنے کے اپنی زندگی کے ان واقعات کو دہرانے کی خواہش ظاہر کی جس کے وہ عینی شاہد تھے تاکہ تاریخ کے صفحات پہ انکے سچ کا اضافہ ہوسکے۔یہ داستان← مزید پڑھیے
میری پیدائش میانوالی کے ایک دور افتادہ گاؤں کی ہے 4مئی 1992 کو میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی ابتداء کے لئے پاک فضائیہ کو چنا اور ابتدائی تربیت کے بعد میری پہلی تقرری میانوالی فضائی بیس پر ہوئی← مزید پڑھیے
فرقانِ حمید میں متعدد بار عدل وانصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة النساءآیت 58 میں ارشاد ہوا “اور جب لوگوں کا تصفیہ کیا کرو تو عدل سے تصفیہ کیا کرو”۔ اِس آیت میں ربِ لم یزل نے یہ نہیں← مزید پڑھیے
“کیا یہ حقیقت آشکارا نہیں کہ یہ قوم اور مذہب سراب نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے ۔” جو مذکورہ عبارت ابھی آپ نے پڑھی ہے یہ بھی سعادت حسن منٹو کی لکھی ہوئی ہے ۔ وہی منٹو جس کے← مزید پڑھیے
65 کی جنگ کے دوران ہماری والدہ محترمہ اور دادی محترمہ نے اپنے طلائی و نقرئی زیورات ایوب خان صاحب کی اپیل پر فوج کی امداد کے لیے چندے میں دے دئیے تھے۔ گھر کے برآمدے کے سامنے پلاٹ میں← مزید پڑھیے
ہم سے ساری دنیا ناراض ہی رہتی ہے ۔معتدل لکھنے والے سے کبھی کوئی خوش نہیں ہوتا ۔ کبھی ایک فریق ناراض تو کبھی دوسرا شاکی۔ آج کل ناراض ہونے کی باری ہے ن لیگ اور پی پی پی کے← مزید پڑھیے
تجزیے کرتے کرتے دل اُوب گیا ہے، سیاسی مباحث کر کے اعصاب شل ہو چکے ہیں۔ امید کی ڈوری سے بندھے ہاتھوں پہ زخموں کےنشان ثبت ہو چکے ہیں۔ شعور اور اصول ناپید ہو چکے ہیں۔ تاویل نے منطق کا گلا← مزید پڑھیے
حصہ اوّل میں ہم نے “صحرا” کے بارے جانا تھا اور وہاں پر موسموں کے اتار چڑھاؤ کے متعلق پڑھا تھا۔ اس پوسٹ میں ہم بات کریں گے سمندر کی، جہاں موسم بنتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں۔ زمین کے← مزید پڑھیے
اللہ پوچھ نہ کرے، مبد فیض سے اجمل نیازی کو بے نیازی بھرکے عطا ہوئی تھی ۔ محبّی امجد اسلام امجد اورعطا الحق قاسمی کے تابڑ توڑ اور تیکھے جملے ناصرف سالم ہضم کر جاتے تھے بلکہ بسااوقات اپنی گرہ← مزید پڑھیے
ہمارانظام ِحکومت اور معاشرہ ایک خارش زدہ کُتا ہے۔اس کی جِلد ختم ہو گئی ہے اور گوشت نکل آیا ہے۔ دھوپ سے گوشت جلتا ہے تو اس کی بدبو ہر طرف پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔مکھیاں اس پہ بھنبھنا رہی← مزید پڑھیے
جُون23، 1973 جھیل سلیٹی آئینے کے بھیس میں فضا میں اُڑتے پتنگوں کو ورغلا کر اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ پانی کی چادر کے بالکل نیچے متوقع مچھلیاں سبک رفتاری سے اُس چادر کو توڑتیں اور پتنگوں کو نِگل لیتیں۔← مزید پڑھیے
لندن کے ایک انگریزی ریستوران میں بھرپور توجہ کے ساتھ کھانا کھاتے ہوۓ میں ایک دم سے چونکی، “ذرا اپنی بائیں جانب دیکھو”۔ میری دوست رمشہ نے مجھے کہنی سے ہلکا سا ٹہوکا دیتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔← مزید پڑھیے
ایک مریض جو بیک وقت کئی مختلف امراض میں مبتلاء ہو اوراسکے امراض کی تشخیص بھی ہوجائے توطبیب یقیناً ایک ایک کر کے مرض کا علاج شروع کرے گا کیونکہ بیک وقت ایک سے زیادہ امراض کا علاج مریض کیلئے← مزید پڑھیے
ہائے بڑے دنوں بعد کنوارے ہاتھوں کا کھانا کھایا ہے سواد ہی آ گیا۔ اس ایک جملے کے خلاف احتجاج نے مجھے ہر طرح کی ہتک برداشت کرنے پر مجبور کیا اور جب میری ہمت جواب دے گئی، میں نے← مزید پڑھیے
میں نے میاں میرپل سے فورٹریس کراس کیا تو میرے سامنے لاہور کینٹ ایسی حالت میں تھا جیسے دشمن کی کسی فوج نے حملہ کر دیا ہو۔ اس سے پیچھے میں اس جمخانہ کلب کے سامنے سے گزرا تھا جس← مزید پڑھیے