انقلاب/ناصر خان ناصر(2،آخری حصّہ)

65 کی جنگ کے دوران ہماری والدہ محترمہ اور دادی محترمہ نے اپنے طلائی  و نقرئی  زیورات ایوب خان صاحب کی اپیل پر فوج کی امداد کے لیے چندے میں دے دئیے تھے۔
گھر کے برآمدے کے سامنے پلاٹ میں ہم نے کم سنی میں اپنے کزنز کے ساتھ مل کر خندق کھودی تھی۔
ہمارے والد محترم 1965 کی جنگ میں پاک فوج کی جانب سے کشمیر محاذ پر شریک تھے اور ایک گولہ کان کے قریب پھٹنے سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ان کا ایک کان بہرا ہو گیا اور انھیں جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا حالانکہ ان کے صوبیدار میجر بننے میں صرف چند ماہ باقی تھے۔ ان کی پنشن کے کاغذات بھی دبا لیے گئے۔ پنشن کے لیے انھیں برسوں دربدر ہو کر دفتروں کی خاک چھاننی پڑی۔ وہ ایک علیحدہ دردناک قصہ ہے۔

فوج میں جے سی اوز اور نچلے درجے کے کارکنان کو کوئی  خاص مراعات ملتی ہیں نہ اچھی تنخواہ۔
سب سے زیادہ مشفقت اور محنت والا کام بھی یہی لوگ کرتے ہیں اور کارزار جنگ میں یہی لوگ دشمن کے آگے سینہ سپر ہو کر زیادہ شہادتیں پاتے ہیں یا ہمارے والد محترم کی طرح غازی بنتے ہیں مگر ان کا پُرسان حال کوئی  نہیں ہوتا۔

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے والدین نے اپنے تمام بچوں کو پوسٹ گریجویٹ تعلیم دلوائی ۔ بڑے بھائی  ڈاکٹر طاہر صاحب کا احسان ہے کہ انھوں نے نا  صرف بوڑھے والدین کی بے پناہ خدمت کی بلکہ اپنے سارے بہن بھائیوں کو امریکہ میں مکمل طور پر سیٹ کرنے میں ہر ممکن تعاون اور معاونت کی۔

ہماری افواج کی ناجائز لوٹ مار، اپنے ہی لوگوں پر ظلم و ستم اور جبر کی قیام ِ پاکستان سے لے کر اب تک کی کہانی پاکستان کے بچے بچے کو مکمل طور پر معلوم ہو چکی ہے۔

عمران خان صاحب کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عوام جی ایچ کیو راولپنڈی اور کئی  دیگر چھاؤنیوں میں جا کر جو نقصان کر رہے ہیں اس کی مذمت بھی ضروری ہے۔
ایک بے حد غریب اور غیر ملکی قرضے میں بال بال جکڑے ملک کی اشرافیہ ایسے محلات اور قلعہ جات میں عیش و عشرت کی بے فکر زندگی گزارتی ہے، کم از کم ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا۔

یہ تصاویر ایک بینک کرپٹ ہوتے ہوئے غریب ملک کی ہرگز ہرگز محسوس نہیں ہوتیں، جہاں عوام مہنگائی اور بھوک کی بدولت بڑی تعداد میں خود کشیاں کرنے لگے ہیں۔

ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے اندر شہر در شہر ڈی ایچ اے سوسائٹیز اور پوش چھا ؤنیوں کی صورت میں ایک اور جداگانہ مملکت آباد کی جا چکی ہے جہاں بلڈی سویلین پرندے کو پر مارنے کی اجازت تک ہرگز نہیں ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس دور میں ایسی لوٹ مار، امریکہ کو مات کرتی وی وی آئی  پی پُر تعش رہائش گاہوں، احمقانہ دہشت گردی، ناجائز ظلم و ستم اور ناحق استمراری قوت کی کوئی  گنجائش نہیں ہے۔ پاکستانی افواج پر اپنی جان و مال نچھاور کرنے والے ہم لوگوں کی نئی  نسلوں میں ان کے خلاف اتنا غم و غصہ ہی بھرا ہُوا ہے کہ کسی نئی  جنگ میں حسبِ  عادت شکست ہونے کی صورت میں ان کے لیے رونے والا بھی کوئی  نہیں ملے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply