ابھے کمار کی تحاریر
Avatar
ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

اقلیتوں کے مذہب سے ڈرتے کیوں ہو؟۔۔ابھے کمار

کانگریس کے سینئر لیڈر اور مشہور مصنف ششی تھرور ایک بار پھر تنازع  میں گِھر گئے ہیں۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ “شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہے احتجاج کے دوران ظاہر ہوئی “اسلامی بنیاد←  مزید پڑھیے

جامعہ، علی گڑھ مظاہرے کو ہندی اخبارات کیسے دیکتے ہیں؟۔۔ابھے کمار

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں چل رہے احتجاج کو منفی طریقے سے پیش کر،قومی ہندی اخبارات نے ایک بار پھرصحافتی ضابطوں کو ٹھیس پہنچایا ہے۔←  مزید پڑھیے

سگریٹ ،شراب اور ملک مخالف نعرے۔۔ابھے کمار

آر ایس ایس جے این یو کے بارے میں اتنا ہی جانتی ہے۔ سردی کی آمد کے بعد بھی جے این یو کی طلبہ تحریک ٹھنڈ پڑتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ فیس میں بے تحاشا  اضافہ کے خلاف طلبہ ←  مزید پڑھیے

جامعہ تیرے جذبے کو سلام۔۔ابھے کمار

چوٹ بھلے ہی آپ پر کی گئی ہو، مگر درد ہر طرف محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا دن دیکھنے کو مل رہا ہے جب تعلیم کے ادارے خون سے لت پت ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور آسام←  مزید پڑھیے

میرا ضمیر مجھے جشن منانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے ۔۔۔ ابھے کمار

بشکریہ The Truth کیا ہوتا اگر 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کے بجائے رام مندر کو منہدم کردیا گیا ہوتا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تب بھی ایسا ہی ہوتا؟ کیا آپ←  مزید پڑھیے

ہندوستانی عوام کا دشمن کون ہے؟۔۔۔ابھے کمار

بھارت میں ان دنوں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اچھال دیکھنے کو ملا ہے۔ تہوار کے موسم میں اگر رسوئی گھر میں پیاز نہ ہو تو سارا ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔ لہٰذا عوام میں غصہ ہونا لازمی ہے۔ ایک طرف←  مزید پڑھیے

آزادی اور ہندو مسلم اتحاد۔۔۔۔ابھے کمار

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ۱۹۴۰ کی دہائی میں ہندو مسلم تعلقات کشیدہ ہونے لگے۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر ایک کے بعد ایک گہری چوٹ کی گئی۔ فرقہ پرستوں نے خوب پروپیگنڈا پھیلایا کہ ہندو اور مسلمان کے آپسی←  مزید پڑھیے

فرقہ پرست طاقتوں سے کیسے مقابلہ کریں؟۔۔۔ابھے کمار

ایک طویل عرصے  تک کانگریس اعلیٰ ذات بالخصوص برہمنوں کی پارٹی سمجھی جاتی تھی۔کانگریس کی ٹاپ لیڈرشپ ہمیشہ برہمنوں کے ہاتھ میں رہی ہے وہیں دلت اور مسلمان اُن کے روایتی حمایتی رہےہیں۔۱۹۹۰ کی دہائی تک اعلیٰ ذات کانگریس کے←  مزید پڑھیے

جسٹس مار کنڈے کاٹجو سے !مسلمانوں کی سچی تصویر کشی کریں۔۔۔ابھے کمار

جسٹس مارکنڈے کاٹجو صاحب کا ایک متنازعہ مضمون (’’انقلاب‘‘ 6 جولائی شمارہ) قارئین کرام کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ اس مضمون میں انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی اور اس کی وجوہات کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی اور اس←  مزید پڑھیے

امبیڈکر نے ہندو دھرم ترک کیوں کِیا؟۔۔۔۔ابھے کمار

اپنی وفات سے صرف دو مہینے قبل، دلتو ں و پسماندوں کے مسیحا اوربھارتی آئین کے معمار بابا صاحب امبیڈکر نے ہندو دھرم کو ترک کر دیا۔ 14 اور 15 نومبر 1956 کے روز ناگپور میں لاکھوں کی تعداد میں←  مزید پڑھیے

ہمیں ہندوستان کو بچانا ہوگا۔۔۔۔۔ابھے کمار

آزادی ملنے سے دو سال قبل بمبئی  میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے مسیحا ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سیاسی جماعت کو یہ نصیحت کی تھی کہ اکثریت حاصل کرنے کا یہ قطعی←  مزید پڑھیے

کیا مودی کی کامیابی بھارت کا تشخص بدل دے گی؟۔۔۔۔۔۔۔ابھے کمار

نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی دوبارہ سرکار بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس بار تو بھگوا سیاسی جماعت کا مظاہرہ پہلے سے کافی بہتر رہا ہے۔ حزب اختلاف کی کون کہے، خود حکمران بی جے پی←  مزید پڑھیے

فوج کے نام پر ووٹ طلب کرنے کے خطرے ۔۔۔۔ابھے کمار

ہندوستانی فوج کے موضوع پر کئی دہائیوں سے تحقیق کر رہے مؤرخ اسٹیفن  ولکنسوں  کے مطابق، ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہرلال نہرو نے سیاست میں فوج کی مداخلت کو روکنے یا کم کرنے کے لئے بہت سارے اقدامات اٹھائے.←  مزید پڑھیے

ووٹ کی خاطر جمہوریت پر چوٹ۔۔۔۔ ابھے کمار

گزشتہ پانچ سالوں میں اگر خوب ‘وکاس’ ہوا ہے، تو پھر انتخابی تشہیر کے دوران بھگوا لیڈران ذات برادری، دھرم اور مذہب کا کارڈ کیوں کھیل رہے ہیں؟ اگر مودی حکومت کے دور اقتدار میں ملک میں اتنی ترقی ہوئی←  مزید پڑھیے

انتخابی تشہیر سے غائب ہوتے بنیادی سوالات۔۔۔ ابھے کمار

ہندوستانی جمہوریت کے لیے یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ برسر اقتدار مودی حکومت کی کارکردگی کا احتساب کرنے سے کترا رہا ہے. اکثر اوقات وہ خود سرکار کے دفاع میں کھڑا نظر آتا ہے۔←  مزید پڑھیے

انتخابات اور مسلمان۔۔۔ابھے کمار

پارلیمانی انتخابات اب کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔ امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ موقع بے محل نہیں ہوگا اگر ہم یہاں محروم طبقات ، با لخصوص مسلمانوں ، کی پارلیمنٹ اوردیگر قانون ساز←  مزید پڑھیے

چھُوت چھات، فرقہ پرستی اور بھگت سنگھ ۔۔۔۔۔ابھے کمار

تاریخ تھی 23مارچ 1931 اور مقام تھا لاہور جیل۔اس دن 23سال کے ایک نوجوان کو پھانسی دے کر برطانوی حکومت اور ان کے دیسی ایجنٹوں نے سوچا تھا کہ ان کے استحصالی نظام کے خلاف اب کوئی بھی علم بغاوت←  مزید پڑھیے

ہندوستانی صحافت میں مارکیٹ اور مندر کا بڑھتا دبدبہ۔۔۔ابھے کمار

صحافت کا مقصد کیا ہو؟ اس سوال پر لوگوں کی ایک رائے نہیں رہی ہے۔ کچھ لوگ اس کو خالص منافع کمانے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دیگر کاروبار کی طرح ہے ۔مگر دیگر افراد جمہوریت←  مزید پڑھیے