مکالمہ، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 27 )

زوال،زوال،زوال/ڈاکٹر اظہر وحید

مسلم امہ کے زوال کے اسباب ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے نہیں، صدیوں سے لکھا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان جب مسلم معاشرے میں شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اسے دائیں بائیں سے یہی سننے کو←  مزید پڑھیے

11 ستمبر’ یومِ وفات قائد اعظم /انور مختار

قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے کچھ پہلو ایسے ہیں جو آج تک کسی بھی عام پاکستانی کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں کچھ ایسے حقائق منظر عام←  مزید پڑھیے

سی پیک کے مقابلہ میں جی 20 راہداری ناقابلِ عمل اور غیر منطقی منصوبہ/ غیور ترمذی

انڈیا کے ایماء اور مودی کے الیکشن سٹنٹ کے نام پر جی 20 نے جو اقتصادی راہداری بنانے کا اعلان کیا ہے وہ عملی طور پر ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ بادی النظر میں بھی جی 20 راہداری کا نقشہ←  مزید پڑھیے

عرب قصّہ گوئی کا فن اور ہمارے مذہبی خطباء و موٹیوشنل سپیکر/منصور ندیم

برصغیری سماج میں مسلمانوں کو دین کی اک الگ تشریح و تعبیر وضع کرکے دکھائی جاتی ہے، ہمارے ہاں منبر سے لے کر قصہ گو خطباء مقبول ہیں، جو ماضی کے مقبول بزرگوں کے نام پر مبالغہ آمیز کہانیاں سنا←  مزید پڑھیے

سراب زدہ سرمایہ کاری/جمیل آصف

جب بھی گاہے با گاہے مختلف سرمایہ کاری کی سکیموں میں دھوکہ دہی کی خبریں آتی ہیں تو ایک چیز واضح ضرور ہوتی ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بہت ہے۔ پیسہ موروثی ہے یا حادثاتی یا کسی ادارے میں ریٹائرڈ←  مزید پڑھیے

کرّہ ارض سے بیگانگی،سرمایہ داریت اور کارونجھر کی نیلامی/ناصر عباس نیّر

اب تک ہم بیگانگی کی تین قسموں سے واقف تھے۔ محنت کش، جب اپنی محنت کا صلہ نہیں پاتا تو محنت کےعمل ہی سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ یہ بیگانگی کا اشتراکی تصور تھا۔ جب کوئی شخص دنیا کو اپنے وجود←  مزید پڑھیے

دل چاہے ہے/حسان عالمگیر عباسی

دل تو چاہے ہے ہر لمحہ محسوس کیا جائے اور انھیں قید کر لیا جائے! انھیں لکھا جائے اور کتاب میں چھپا دیا جائے یا ان کی تصاویر فون گیلری کو تحفتاً پیش کر دی جائیں لیکن انسانوں کی تشکیل←  مزید پڑھیے

ہم نے دشمن کیسے ایجاد کیا؟/ناصر عباس نیّر

آپ کہاں سے ہیں؟ اٹلی سے۔         آپ کے دشمن کون رہے ہیں؟ میں سمجھا نہیں۔ میرا مطلب ہے وہ کون لوگ ہیں، جن کے خلاف صدیوں تک آپ لڑتے رہے ہیں، زمین کی ملکیت، نسلی رقابت،←  مزید پڑھیے

شوگر کا مرض کلچر کا حصّہ بن چکا ہے؟/ضیغم قدیر

بچپن میں اکثر شوگر کے مریض دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتا تھا تب لوگوں کی زبان پر شوگر کا نام نیا نیا آیا ہوا تھا اور میں حیران ہوتا تھا کہ یہ کس بلا کا نام ہے؟ تب کسی کے←  مزید پڑھیے

شاہد صاحب کے تبصرے کا جواب/انوار احمد

شاہد صاحب کے تبصرے پر میرا جواب جو انہوں نے میرے مضمون “ ایک اور دو قومی نظریے ” کے تناظر میں کیا۔           میرے بہت محترم شاہد حسین صاحب ۔ محبوب صاحب اور محمد سلیم←  مزید پڑھیے

نام نہاد شعراء کو خراج تحسین/فرزانہ افضل

دو چار معیاری نظمیں بھی خرید شدہ شاعری سے چھپی ہوئی کتابوں سے لاکھ درجے بہتر ہوتی ہیں کیونکہ وہ لکھنے والے کی اپنی کاوش اور اپنا خیال ہوتی ہیں۔           ان نقلی شاعروں کی طرح←  مزید پڑھیے

ایک اور ” دو قومی نظریہ”/انوار احمد

قیام پاکستان کے جواز کے لیے مسلم لیگ کی قیادت نے” دو قومی نظریہ ” پیش کیا جس کی توجیہہ یہ تھی کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور انکا ساتھ رہنا ممکن نہیں ،لہذا مسلمانوں کے←  مزید پڑھیے

امریکہ کے رنگ، بے رنگ/ڈاکٹر مجاہد مرزا

مثل برگ اوارہ’سے سہیل نیویارک شہر دکھانے لے تو جاتا تھا مگر اس کا مسئلہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بے توجہی تھا۔ ایسا کئی بار ہوا کہ جو دخول شہر میں لے جاتا تھا وہ اس سے آگے نکل گیا۔ زیادہ←  مزید پڑھیے

توہین مذہب کا معاملہ سنجیدگی کا متقاضی/ڈاکٹر ابرار ماجد

ناموس مذہب کے نام پر افراتفری، تشدد، قتل و غارت، انتشار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہمارا بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ہم مسلمان جو کبھی بُردباری، عفوودرگزر، صبروتحمل اور←  مزید پڑھیے

میانوالی میں ڈاکٹر سدرہ کے قاتل باپ کے نام ایک خط/محمد وقاص رشید

” ڈاکٹر سدرہ مرحومہ کے باپ کے نام ایک کھلا خط “           جشن منا بے ! خوشیوں کے شادیانے بجا۔ پوری میانوالی کی سرزمین میں چراغاں کا اہتمام کر ۔ اپنے ہم خیال “غیرت مندوں”←  مزید پڑھیے

دوست بنانے کے راز/ڈاکٹر خالد سہیل

میرے ایک پاکستانی دوست جو بہت شرمیلے اور تنہائی پسند ہیں جب مجھ سے ملنے کینیڈا تشریف لائے اور ان کی فیملی آف دی ہارٹ کے ممبروں سے ملاقات ہوئی تو ایک شام مجھ سے کہنے لگے      ←  مزید پڑھیے

اسباب/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

گزشتہ رات کی بات ہے،   تقریباً گیارہ بجے کا وقت ہو گا۔ میں ایک پُل پہ کھڑا نیچے بہتی ٹریفک کی روانی کو دیکھ رہا تھا۔ بے نام سی اداسی وجود پہ چھائی ہوئی تھی ، زندگی بے مقصد سی←  مزید پڑھیے

خراسان میں گزرے چالیس دن/سراجی تھلوی(2)

یہ ورکشاپ “طرح ولایت ،چالیس روزہ چلّہ معرفتی “ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ایران کے شہر مشہد مقدس سے 64 کلومیٹر دور “مفتاح”نامی دیہات میں منعقد ہوتا ہے۔اس سال بھی 2023ء کے اوائل میں اعلامیہ جاری ہوگیا کہ خواہش←  مزید پڑھیے

بلراج کومل کی افسانہ نگاری اور تنوع/شاہد عزیز انجم

بلراج کومل کے افسانوں میں جو چیز سب سے پہلے متوجہ کرتی ہے وہ ان کے افسانوں کا “تنوع” ہے۔ یہ تنوع موضوع کا بھی ہے، تکنیک کا بھی اور اسلوب کا بھی۔ تنوع کی یہ کثرت اگر ایک طرف←  مزید پڑھیے

مذہبی جنونیت /رابعہ الرباء

ڈر لگتا ہے۔۔۔ مجھے ہمیشہ مذہبی لوگوں، مذہبی شہروں، مذہبی ملکوں سے ڈر لگتا رہا۔۔ ان کے اندر کا خدا پوجا مانگتا ہے بندگی چاہتا ہے جھکے رہنے کا طلب گار ہوتا ہے۔ اس کے غرور کی چادر آسمان کی←  مزید پڑھیے