مکالمہ، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 209 )

الوداع، بیرسٹر قادری، الوداع۔۔اشتیاق گھمن

الوداع، بیرسٹر قادری، الوداع۔۔اشتیاق گھمن/بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے کئی اہم کتب لکھیں۔ آپ انسانی حقوق کے جاندار وکیل رہے۔ آپ دو بچوں، اہلیہ اور ہزاروں دوستوں کو سوگوار چھوڑ کر کل کینسر کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔←  مزید پڑھیے

جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے۔۔سیّدہ ہّما شیرازی

وہ نومبر کی  پہلی تاریخ  تھی، موبائل کی سکرین روشن ہوتے ہی مجھے احساس ہوا ،کیا تاریخ بدل چکی ہے؟؟ یہ ایک بڑا سوال تھا، کون سی تاریخ؟ ہماری تاریخ؟ یا واقعی دوسری تاریخ ،دوسری تاریخ سے شاید میرا مطلب←  مزید پڑھیے

​ذاتی فیصلہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اور پھر ایسے ہُوا’ اک نرتکی نے (نرتکی۔ رقـاصہ) خوب رُو آنند کو بانہوں میں بھر کر یہ کہا: ’’تم سَنگھ سے باہر چلے آؤ، یہ میری دولت و ثروت’ یہ جاہ و حشم، یہ اونچا محل اور سب سے←  مزید پڑھیے

گلبدین خان صاحب ۔۔سکندر پاشا

 گلبدین خان صاحب رہتے تو وہ ہماری گلی کے آخر میں ہیں اور ہم ان سے اتنا ہی دور رہتے ہیں جتنا ایک پڑوسی کے شریر بچوں سے رہنا چاہیے، اور ان کے بچے واقعی بہت شریر ہیں۔خان صاحب ہم سے ہماری دینداری کی وجہ سے محبت کرتے ہیں لیکن انہیں کیا پتہ کہ ہمارے دوست ہمیں "دینداری کا لبادہ اوڑھے سیکولر و لبرل مولوی" کہتے بھی ہیں←  مزید پڑھیے

سنگ مزار /گی دَ موپاساں (2،آخری حصّہ)۔۔مترجم : محسن علی خاں

یکدم اُس کے جسم میں جنبش ہوئی جیسے بید کے درخت کو ہوا چیرتی ہے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ اب رونا شروع کر دے گی۔ پہلے وہ آہستہ سے رونا شروع ہوئی ، پھر اپنی گردن اور شانوں←  مزید پڑھیے

میڑو پہائی ۔۔جاویدخان

کبھی پیمائش کرکے نہ دیکھا،اَندازاًساڑھے چار فٹ کاقد،اُس پر بالکل گول، قدرے جھومتا ہوا سر،اُس پر جالی دارسفید ٹوپی،کسی قدر سیاہی مائل چہرہ،اِس پر داڑھی۔جب مَیں نے دیکھا تو وہ آدھی سفید ہو چکی تھی۔ہنستے تو سامنے کے سارے دانت←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(9)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

دس یہ کتنی ناممکن بات تھی، بھابھی جانتی تھی۔ پھر بھی اس بات کو اپنے دل میں پالے جا رہی تھی۔ آخر کیوں؟ آدمی کیلئے جینے کا سہارا اسی طرح ضروری ہے، جیسے ہوا اور پانی۔ کسی کے پاس کوئی←  مزید پڑھیے

مولانا وحید الدین خاںؒ/ ذاتی مشاہدات وتاثرات کے آئینے میں(دوم،آخری حصّہ)۔۔۔مولانا ڈاکٹر محمد وارث مظہری

مسلم مخالف ہندوتنظیموں اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان مولانا ایک بیچ کی کڑی ہوسکتے تھے اور وہ رول ادا کرسکتے تھے جوجنگ احزاب کے موقع پر صحابی رسول حضرت نعیم بن مسعود ؓنے ادا کیا تھا اور جن کی دانش←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

راگنی دو دن سے مختارے سلام کو نہیں آیا, کدھر ہے وہ؟ جرنیلی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا؟ میں خبر لیتی ہوں میڈیم، کہیں دو دن کی لگاتار بارش میں بھیگ کر بیمار نہ ہو گیا←  مزید پڑھیے

کیا ہم خدا کے وجود کا سرا ڈھونڈ پائیں گے؟۔۔عبدالستار

ہم خدا کے وجود کا اپنی پانچ حسیات(دیکھنا ،سننا ،چکھنا ،چھونا)کے ذریعے سے سراغ نہیں لگا سکتے یعنی مذاہب عالم نے اپنےIntellectual gap یعنی فکری خلا کو خدا کے وجود کا سہارا لے کر بھرنے کی کوشش کی مگر سائنٹیفیک انکوائری آج بھی مصروف عمل ہے←  مزید پڑھیے

ماحولیاتی آلودگی اور بھارت۔۔ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

اس بار گلاسگو میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی اجلاس شاید کیوتو اور پیرس اجلاس سے زیادہ معنی خیز ہوگا۔ ان اجلاسوں میں ان ممالک نے سب سے زیادہ ڈینگیں ہانکی تھیں جو دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں۔انہوں←  مزید پڑھیے

یکم نومبر 1947جنگ آزادی گلگت بلتستان کی حقیقت کیا ہے ؟۔۔اشفاق احمد ایڈووکیٹ

یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان سے تاج برطانیہ اور ڈوگرہ حکومت کا خاتمہ ہوا۔بقول Martin Sokefeld یہ درست ہے کہ 1840 کے وسط کے بعد کئی دہائیوں تک کشمیر کے حکمرانوں نے گلگت میں اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لئے مقامی حریف حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی، خاص طور پر یاسین ویلی کے حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی اور جنگ و جدل کے  ذ ریعے گلگت بلتستان پر قبضہ کیاِ←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(8)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

مٹرو کے منہ سے ایک لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ وہ تو کچھ اور سوچ کر چلا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ کتنے ہی درد کے سوئے ہوئے تاروں کو چھیڑنے جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ کافی دیربعد←  مزید پڑھیے

دلنواز بستی کے شام و سحر۔۔سیّد مہدی بخاری

بلتستان کا ضلع گانچھے الگ تھلگ سربلند پہاڑوں کے بیچ بسی دلکش وادیوں، دلنواز بستیوں اور کھلی دریائی زمینوں کے ساتھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے حسن و جمال کے پورے ادراک کے ساتھ سہمی گھبرائی ہوئی←  مزید پڑھیے

اقبالؒ کا تصورِ خودی۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

اقبالؒ کے شعر کی تشریح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بیان کرنے والا کم از کم قلندر ہو اور سننے والا کم از کم رموزِ قلندری سے آگاہ ہو۔ اِس بات پر آپ غور کریں۔ مَیں اپنا فرض ادا کروں گا۔ آپ اپنی استعداد دیکھ لیں‘‘ محاورے صدیوں پرانی دانائی کا اظہاریہ ہیں، محاورہ ہے’’قلندر را قلندر می شناسد‘‘ ( یعنی قلندر قلندر کو پہچانتا ہے)←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(1)۔۔شاہین کمال

آدم اپنی کامیابی کی میٹھائی لینے چورنگی تک گیا ہے اور میں آدم کا رزلٹ ہاتھوں میں تھامے ساکت بیٹھا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ مجھے اپنے آپ سے کیا گیا وعدہ بھی تو نبھانا←  مزید پڑھیے

دردِ زہ عرف سنامی(ایک لوک کہانی)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ذرا سا پلٹ کر سمندر نے اک آنکھ کھولی کہا خود سے، اب کیا کروں میں، بتاؤ مرے پیٹ میں آگ کا زلزلہ جس کی بنیاد صدیاں ہوئیں ۔۔۔ کچھ دراڑوں میں رکھی گئی تھی نکلنے کو اب کسمسانے لگا←  مزید پڑھیے

دیوسائی کا عشق۔۔سیّد مہدی بخاری

کشمیر سے ہجرت کر کے دیوسائی آنے والے خانہ بدوشوں کی قدیم گزرگاہ یہی میدان ہے جو اپنے ساتھ بھیڑ بکریاں لے کر دیوسائی کی ہیبت میں چلتے جاتے ہیں۔ دیوسائی میں عمیق خاموشی اور صدیوں کی تنہائی خیمہ زن←  مزید پڑھیے

گنگا میّا۔۔بھیرو پرسادگپت(7)۔۔ہندی سے ترجمہ :عامر صدیقی

’’ کوئی بات نہیں۔ گنگا میا کی کرپا سے سب اچھا ہی کٹ رہا ہے۔ تم سب خیال رکھنا۔ زمیں داروں کے پنجوں میں کسان نہ پھنسیں، کوششیں کرتے رہنا۔ پھر تو آکر میں دیکھ ہی لوں گا۔ اور بتاؤ←  مزید پڑھیے

“میں ایسا ہی ہوں” -ایک وہم۔۔تنویر سجیل

"میں ایسا ہی ہوں" -ایک وہم۔۔تنویر سجیل/آپ نے اکثر لو گوں کو یہ کہتا سنا ہو گا کہ میں ایسا ہی ہو ں۔مجھے آپ جو مرضی نصیحت کر لیں ،  راہ دکھا لیں ، ڈرا دھمکا لیں!←  مزید پڑھیے