کلیڈو سکوپ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

راگنی دو دن سے مختارے سلام کو نہیں آیا, کدھر ہے وہ؟
جرنیلی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا؟
میں خبر لیتی ہوں میڈیم، کہیں دو دن کی لگاتار بارش میں بھیگ کر بیمار نہ ہو گیا ہو، پرسو  ں بھی کھانس رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں لرزتے ہوئے جرنیلی کو جواب دیا کہ مجھے مختارے کا مستقبل تاریک ہی لگ رہا تھا۔
میڈم نے ہنکارہ  بھرتے ہوئے کھڑکی کے شیشے کا بٹن دبا دیا۔
میں نے فون ملایا، جواب ندارد۔ ابھی میں باہر نکلی ہی تھی کہ مجھے جمن، مختارے کا پڑوسی مل گیا۔
ارے جمن، مختارے کدھر ہے؟ فون بھی نہیں اٹھا رہا ، میڈیم پوچھ رہی ہے۔
میرے کو کیا معلوم، دو دن سے اس کی کھولی میں تالا جھول ریا ہے۔
کیا؟ کیا کہہ  رہے ہو ، کھولی میں تالا پڑا ہے؟
مگر وہ بتائے بغیر کیسے جا سکتا ہے؟
عجب پریشانی میں ڈال دیا مختارے نے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے میڈم کو یہ خبر دی مگر اس کا کوئی خاص رد عمل نہ تھا ۔ بس پوچھا تو صرف اتنا پوچھا کہ وہ نئی لڑکی (بچے کی ماں، نازنین) کام کے لیے تیار ہوئی کہ نہیں؟
میں نے کہا میڈیم بس ایک دو دن میں بالکل چالو ہو جائے گی۔

جرنیلی کسی گہری سوچ میں تھی بس سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ میں حیران تھی کہ مختارے کے متعلق کوئی باز پرس نہیں؟ شاید وہ اب واقعی اس کے کام کا نہیں رہا تھا۔

julia rana solicitors

وقت گزرتا گیا ڈیرے کی زندگی معمول پر تھی اب مختارے کی ڈیوٹی ماسٹر قمر نبھا رہا تھا۔ سب کچھ روٹین کے مطابق گو کسی اور کو تو نہیں پر مجھے مختارے کی کمی محسوس ہوتی تھی، جانے منحوس مارا کدھر کو دفعان ہوا تھا؟ ڈیرے پر اس کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ نازنین بھی اب بچے کی جدائی کو قبول کر کے گاہک سنبھال رہی تھی۔ بس کسی کسی دوپہر اس کی کبوتر کی طرح خونم خون آنکھیں دیکھ کر میرے دل کو کچھ ہوتا اور جہنم کی بھڑکتی آگ میرا وجود   جھلسانے لگتی۔ ایک دفعہ میں نے مختارے سے پوچھا تھا کہ مختارے ہم سب جہنم میں جلائے جائیں گے نا؟ مختارے بہت ہنسا تھا اور بولا،
رے دیوانی !  ہم لوگ تو ہیں ہی جہنم کا ایندھن۔ یہاں دنیا میں بھی رلتے ہیں، وہاں بھی جھلسیں  گے ،کیا فرق پڑتا ہے۔

مگر یقیناََ فرق پڑتا ہے کہ اب مجھے بہت ڈر لگنے لگا ہے اور میرا دل چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کہیں بھاگ جاؤں مگر میرے پیروں میں سجیلی کے علاج کی بیڑیاں ہیں۔ اس سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں مگر سجیلی نے اس وقت میرا دفاع کیا تھا جب میں بالکل اکیلی اور بے آسرا تھی۔ جب میں اس ڈیرے پر بیچی گئی تھی اور کام نہ کرنے کی  پاداش میں بجلی کے تار سے مار کھاتی اور بھوک کی اذیت برداشت کرتی تو یہ سجیلی ہی تھی جو میرے زخم پر مرہم لگاتی اور چپکے سے اپنے حصے کا کھانا مجھے دیتی۔ اب وہی سجیلی لاچار میری کھولی میں پڑی ہے اور میں نے از خود اس کی تیمارداری اور علاج کی ذمّہ داری اٹھا لی ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ علاج بہت مہنگا ہے اور میری بساط سے باہر۔ اب دنیا کا تو یہ ہے کہ یہاں صرف انسان اور موت سستی ہے باقی سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے بہت بہت دور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لینے کو تو میں  اپنے ساتھ اس بچے کو لے آیا ہوں پر اپنے اس عمل پر خود ہی حیران بھی۔ ظاہر ہے وہ دو سال کا بچہ تھا اور اپنی ماں کے لیے بلک رہا تھا مگر سالا پلا میرا نشہ بھی خراب کر رہا تھا۔ سوچا آج سالے کا ٹیٹوا دبا کر یہ ٹنٹا ہی ختم کر دوں۔ میں  نے جیسے ہی گلا دبانے کو اس کی نحیف سی گردن پر ہاتھ رکھا، اس کی گردن میں بندھی تعویذ کی شکستہ ڈور ٹوٹ گئی  اور ڈوبتے سورج کی آتشیں کرن نے اس تعویذ کے چپٹے خول سے اچٹ کر منعکس ہوتے ہوئے مجھے بہت کچھ یاد دلا دیا اور یکلخت اس کی گردن پر میرے ہاتھوں کی گرفت بالکل ڈھیلی پڑ گئی۔ میں نہ جانے کس رو میں اسے لے کر ڈیرے سے بھاگ آیا، میں نے یہ قدم اٹھانے  کو اٹھا تو لیا تھا پر اب سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کا کروں کیا؟
میرے خدا !  بچہ پالنا بھی کس قدر مشکل کام ہے، دانتوں میں پسینہ آ جائے۔ میں  نے مچھر کالونی میں کھولی کرائے پر لی اور کچھ عرصہ وہاں چھپ کر بیٹھ رہا، مگر کب تک؟ کام کا سمجھ میں آتا نہ تھا کہ کروں تو کیا کروں؟ ہاتھوں میں نہ کوئی ہنر اور نہ ہی تعلیم۔ پچھلی زندگی سے میں تائب ہو چکا تھا سو اس ڈگر پر اب چلنا نہیں اور پلے کچھ خاص جمع جتھا نہیں۔ جرنیلی کے خوف سے کچھ مہینے تو میں  روپوش رہا پر جانے کیوں مجھے یقین تھا کہ جرنیلی مجھے نہیں ڈھونڈ ے  گی۔ سو کام کاج کی ٹھانی مگر میں  تھا ہی کس جوگے؟ جس کام میں ماہر تھا اسے میں ترک  کر چکا تھا۔ پھولوں سے ہمیشہ کی قربت نے گجرے بنا کر سگنلز پر بیچنے کے دھندے سے لگا دیا۔ اس میں آسانی یہ تھی کہ آدم بھی میرے ساتھ رہتا۔ ارے میں  تو بتانا بھول ہی گیا ، بچے کا نام میں  نے آدم رکھ دیا تھا۔ بس گجرے کا  کام چل پڑا اور ساتھ ہی ساتھ زندگی بھی۔ آدم کا ساتھ ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ واقعی بچے اللہ کی رحمت ہوتے ہیں، اس ننھے وجود نے میری زندگی بدل دی۔ کہاں میں  لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتا تھا اور اب اتنا حساس کہ   چیونٹی روندنے سے بھی جھجھکتا۔
جب آدم نے اسکول جانا شروع کیا تو میں  مچھر کالونی چھوڑ کر غریب آباد منتقل ہو گیا اور مینا بازار میں دکان پر کپڑوں کی رنگائی کا کام شروع کر دیا اور رات کو سگنلز پر گجرے کا کام بھی برابر جاری رکھا۔ آدم کے پاس میرے لیے ہزارہا سوالات تھے پر میں  اس کو ٹالتا رہتا مگر کب تک؟

مجھے یاد ہے انٹر کے بعد اس نے گہری سنجیدگی سے اپنے متعلق سوال کیا تھا اور میں  نے اسے جھوٹی کہانی سنائی کہ میں  نے اسے کوڑے کے ڈھیر پر سے اٹھایا تھا، یوں میں اس کی نظروں میں فرشتہ بن گیا اور اب اس کا سُپر ہیرو تھا۔ قسم سے میں  یہ بالکل نہیں چاہتا تھا کہ آدم مجھے فرشتہ مانے اور یہ حقیقت ہے کہ میں  اس کی پرورش اپنے گناہوں کے کفارے کے طور پر کر بھی نہیں رہا تھا۔ میں  اچھی طرح سے جانتا ہوں میری بخشش کا کوئی چانس نہیں کیوں کہ یہ معاملہ تو اللہ تعالیٰ کا ہے ہی نہیں اور بندوں کے معاملے میں اللہ میاں مارجن دیتے نہیں۔ یہ سب نئی نئی اور ان سنی و انجانی باتیں تھیں جو میرے کبھی کبھار کے جمعہ کے خطبہ میں شرکت کی دین تھیں۔ مگر میں  یہ بھی سوچتا کہ یہ مُلا لوگ خالی پیلی ڈراوے ہی کیوں دیتا ہے؟
کیا اللہ مہربان نہیں؟

ویسے سچ تو یہ ہے کہ نہ جاننے ہی میں سُکھ ہے۔ اب مجھے ہر لمحے اپنے گناہ ڈراتے ہیں۔ جن کی زندگیاں میں  نے برباد کی ہیں میں  ان سے اپنے ظلم کی معافی کیوں کر مانگوں۔ سچ تو یہ ہے کہ آدم نہ ہوتا تو شاید میں کسی مزار کا فقیر ہوجاتا مگر آدم کی ذمہ داریوں نے مجھے کولہو  کا بیل بنائے رکھا۔ کبھی کبھی مجھے راگنی بھی یاد آتی ہے وہ کتنا ڈرتی تھی جہنم سے اور اس وقت میں بے وقوف انجان، انجام سے بےخبر ہنستا تھا اور بے فکری سے کہتا، “ری ہم لوگ یہاں بھی جھلستے ہیں اور وہاں بھی جلیں  گے”, مگر اب میں  واقعی خوفزدہ تھا۔
رو رو کر اللہ سے معافی مانگتا تھا مگر اللہ مجھ ظالم کو کیوں معاف کرے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آخر آج میرا یوم حساب آ ہی گیا۔ میں  نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ جس دن آدم کی تعلیم مکمل ہو گی میں اسے اصل قصہ سنا دو ں گا۔ آج آدم کا پولی ٹیکنیک کا نتیجہ آیا ہے اور یہ اچھے نمبروں سے کامیاب ہو گیا ہے اور اب زندگی اپنی پوری توانائی اور مواقع سمیت اس کے سامنے بکھری پڑی  ہے۔
پچھلے ایک ہفتے سے گھر میں تاریکی اور تنہائی ہے کہ آدم گھر چھوڑ کر جا چکا ہے اور مجھے آگے کا کچھ بھی نہیں سوجھتا ۔ آدم کے رزلٹ کے دو دن بعد میں نے اسے اس کی اصل کہانی سنا دی تھی اور اسے جرنیلی کا پتہ بھی دے دیا تھا گو کہ مجھے یقین ہے کہ نازنین اب تک زندہ نہ ہو گی۔ بھلا موم بتی کے دونوں سروں کو آگ دیکھا دو تو شمع کتنی دیر۔ یہ سب سننے کے بعد پہلے تو آدم بے یقینی سے مجھے تکتا رہا پھر گویا مغلظات کا دہانہ کھل گیا اور پھر اس نے مجھے لاتوں گھونسوں پر رکھ لیا اور میں  بغیر مزاحمت کے پٹتا رہا کہ یہ اس کا حق تھا۔ جب وہ مجھے مار مار کر ادھ موا ہو گیا تو روتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ وہ دن گزرا اور آج دسواں دن ڈوب رہا ہے اور آدم کی کوئی خیر خبر نہیں۔ دو دن تو میں  لاچار بستر پر پڑا کراہتا رہا پھر خود ہی اپنے زخموں کی سکائی کر کے اسے ڈھونڈنے نکلا۔ سارے ہسپتال اور مردہ خانے چھان مارے مگر اس کا کہیں کوئی سراغ نہ تھا۔ جو سچ کہوں تو میرا جی اب زندگی سے اچاٹ ہو چکا ہے۔اور زندگی کرنے کو کچھ بچا بھی نہیں۔ مجھے شدید دکھ ہے کہ میں  نے آدم کو اس کی اصلیت کیوں بتائی؟
یہ سب جان کر آدم کو بھلا کیا فائدہ ہوا؟
اس کی زندگی تو اور مشکل ہو گئی کہ آگہی کا آزار بھی جگر پاش۔ یہ میں نے کیا کر دیا؟
میری زندگی تو یوں بھی پچھتاؤوں کی گٹھڑی ہے۔ اب میں  نے اپنے لیے مزید پچھتاوے اکٹھے کر لیے۔
میں  مرنے سے پہلے اپنے ضمیر کا بوجھ ضرور اتار پھینکنا چاہتا تھا مگر میں  یہ کیوں نہ جان سکا کہ میرا یہ بوجھ آدم کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو گا۔ میں  اسی خسارے اور زیاں کے جوڑ توڑ میں الجھا صحن میں دھری ٹوٹی چارپائی پر بیٹھا ڈوبتے سورج کی سہمی پیلاہٹ میں اسے یاد کر رہا ہوں جو جانے دنیا کی اس بھیڑ میں کہاں بھٹک رہا ہو گا۔
وہ گھر سے جاتا ہوا بکھرا شکستہ وجود ویسے ہی رنجیدہ و وحشت زدہ تھا جیسے آدم جنت سے جدائی پر۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply