میڑو پہائی ۔۔جاویدخان

کبھی پیمائش کرکے نہ دیکھا،اَندازاًساڑھے چار فٹ کاقد،اُس پر بالکل گول، قدرے جھومتا ہوا سر،اُس پر جالی دارسفید ٹوپی،کسی قدر سیاہی مائل چہرہ،اِس پر داڑھی۔جب مَیں نے دیکھا تو وہ آدھی سفید ہو چکی تھی۔ہنستے تو سامنے کے سارے دانت نمایاں ہو جاتے۔ہمیشہ سر جھکا کر چلتے۔ ایک چھڑی جو اُن کے کاندھے کے برابر تک جاتی تھی۔ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہتی تھی۔لوگ انھیں ”میڑو“ کہَہ  کر پکارتے اَوربلاتے۔لحاظ والے ”میڑو“ کے ساتھ ”پہائی“ کا اضافہ کردیتے تھے۔جس کامطلب تھا”بھائی“۔پہاڑی زبان میں ”میڑو“ خوبانی کی گٹھلی سے نکلنے والے دانے کو کہتے ہیں۔یہ بادام کی دوسری شکل ہوتی ہے۔اَصل نام جانے کیا تھا۔مگر عُرف ہی معروف ہوگیاتھا۔

میڑو پائی چلتے ہوئے خودکلامی کرتے رہتے اَور ہنستے رہتے تھے۔بعض دفعہ یوں لگتا جیسے وہ کسی کی بات سُن کر ہنس پڑے ہوں۔کبھی کبھی نادیدہ مخاطب سے سوال و جواب بھی کرتے جاتے۔باتیں کرتے کرتے ٹھہر جاتے،تصدق کرتے اَور پھر چلنے لگتے۔جمعہ باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔میرے گھر سے ایک رستہ  بازار تک جاتاتھا۔میڑو پائی کامحلہ میرے محلے کے بالکل سامنے ہے۔وہاں کی ساری آبادی تب مرکزی جامع مسجد سون ٹوپہ میں نماز اَداء کیا کرتی تھی۔جمعہ کو بازار جانے والی پگ ڈنڈی سفید پوش افراد سے بھری رہتی۔ایک بجے تک لوگ بازار کی سمت چڑھتے نظر آتے۔پھر شام تک اُترتے جاتے۔یہ رستہ جو ایک چڑھائی ہے۔اَب ویران ہے۔کیوں کہ گرد ونواح میں بے شمار جامع مساجد بن گئی ہیں اَور شاہرات کی تعمیر ہو چکی ہے۔میڑو پائی اس رستے پر ہر جمعہ کو ٹھیک ۱۱ بجے چڑھتے ہوئے نظر آتے۔
کوئی پوچھتامیڑو پہائی کدھر ۔۔؟
جواب دیتے ”پہاٹوٹیا جمعہ پڑھیا“(بھیا جمعہ پڑھنے کے لیے)۔وہ ہر ایک کو’پہاٹو‘یا’پہاٹوٹیا‘کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ لفظ پہاٹو یا پہاٹوٹا پہاڑی میں بھائیوں کو لاڈسے پکارتے وقت استعمال ہوتاہے۔

julia rana solicitors london

ساڑھے چار فٹ کے قد میں قدرت نے ساری سادگیاں،نادانیاں اَور مزاح جمع کر رکھاتھا۔سو ہر بوڑھا،جوان اَور بچہ ِانھیں اَپنی طعبیت کے مطابق چھیڑتا رہتا۔
اَیسے ہی محلے کے کچھ شرارتیوں نے ایک منصوبہ بنایا۔میڑو پہائی کو قائل کیاگیاکہ آپ کی شادی ہونی ضروری ہے۔فلاں صاحب کی فلاں بیٹی سے آپ کارشتہ کروا رہے ہیں۔فلاں فلاں صاحب آپ  کارشتہ مانگنے جار ہے ہیں۔بات صیغہ راز میں رہے۔کسی سے کہیے گانہیں اَور کسی کی سنیے گانہیں۔ورنہ بات بگڑ سکتی ہے۔یہ بے حد خوش ہوئے۔آخر انھیں بتایا گیا کہ رشتہ پکا ہو گیاہے۔فلاں تاریخ کو شادی ہے۔یہ موج میں تھے۔سادہ سادہ باتیں کرتے اَور ہنستے جاتے۔ہوتے ہوتے شادی کادن آگیا۔جس کے لیے میڑو پہائی کو تیار کیا گیا تھا۔مَن چلوں میں سے ایک نے دلہن کاکردار اَدا کرنا تھا۔چنانچہ فرضی دُلہن نے سرخ زنانہ سوٹ زیب تن کیا،سرخ جالی دار دوپٹہ اُوڑھا اَور کچے گھر کے ایک کونے میں بٹھا دیا گیا۔مہندی کاخاموش اَور غیر روایتی دن گزر گیا۔انھیں سمجھا دیا گیا تھاکہ بہت واویلا نہیں کریں گے۔خاموشی سے شادی کررہے ہیں۔نہیں تو کوئی دشمن،کوئی سازشی دُلہن کو ہی مکرا دے گا۔یہ اپنی سادگی اَور بھو لپن میں راضی بہ رضا تھے اَور یقین صادق رکھتے تھے کہ سب ٹھیک جارہا ہے۔۔جیسے تیسے بارات لے جانے اَور ڈولی لانے کا  ڈھونگ رچایاگیا۔سادہ ذہن کو مَن چلوں نے اَیسے ویسے مطمئن کردیا۔رات کو انھیں دلہن کے کمرے میں بھیجا گیا۔پاسار (بیٹھک)کے باقی کونوں کھدروں میں باقی مَن چلے چھپ کر بیٹھ گئے۔میڑو پہائی کو کمرے میں جانے سے پہلے کچھ ضروری باتیں سمجھا دی گئیں تھیں۔مثلاً دلہن کو کیسے مخاطب کرنا ہے۔گھونگٹ کیسے اٹھانا ہے اَور کیا کیا سوالات پوچھنے ہیں۔شرارتیوں نے ریکارڈنگ کاانتظام بھی کر رکھا تھا۔یہ جیسے ہی دروازے سے داخل ہوئے۔سب کچھ سمجھا سمجھایا بھول بیٹھے۔وہی مسکینی،سادگی اَور بھول پن لیے،سوال کرتے،ہنستے اَور کچھ دَوڑتے ہوئے دُلہن کے سر پر جاپہنچے۔کھڑے کھڑے ہنستے جاتے اَور باتیں کرتے جاتے۔پھر ترنگ میں آ کر اُچھلنے لگے۔پھر جانے کیا جی میں آئی کہ  لگے دُلہن کی چٹکیاں بھرنے۔اِن کے سوالات اَور اُچھل کود سے مَن چلوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔یہ ِادھر اُدھر دیکھنے لگے۔کچھ سمجھ نہ آیا توچھت کی طرف دیکھ کر باتیں کرنے لگے۔جب دلہن بھی ہنس پڑی اَور ساتھ چاروں کونوں سے ہنسی اَور قہقہے نکل پڑے تو اِنھیں ہوش آیا۔دُلہن کی طرف دیکھا۔۔ہنسی جانی پہچانی تھی۔لگے شور مچانے۔ماے جو مٹین دے مٹین۔۔۔۔ہاوے جو مٹین دیا۔۔مٹین۔۔۔جو میراج نہیا مٹین دیا۔۔۔۔۔اوے جو مٹین دیا۔۔۔۔۔(ماں یہ متین ہے متین۔۔اَرے یہ متین ہے متین۔۔۔یہ دُلہن نہیں ہے اوے یہ متین ہے۔)تماشا تو ہو گیا مگر یہ مدتوں غمگین رہے۔شادی بیاہ کروانے والوں سے سخت ناراض ہوئے۔اَور سنا ہے روے بھی بہت۔مگر وہی سادگی اَور بھول پن۔۔۔ یا زمانہ ہی سادہ تھا یا پھر زمانے کی ساری سادگیاں آکر اِن میں سما گئی تھیں۔ مَن چلوں نے سمجھایا کہ اَصل دُلہن کو کوئی سازش کے تحت کوئی اَور لے گیا۔اَور اس کی جگہ متین میاں کو بے ہوش کرکے ڈال گیا۔یوں ہمیں بھی نہ سمجھ آئی اَور دھوکا ہوا۔جلد پتہ کریں گے اَور مجرم لوگوں کو سزا دیں گے۔شادی کی کیا بات ہے جلد دُوسری شادی کی کوشش کرتے ہیں۔یہ مان گئے اَور راضی بھی ہوگئے۔

اس ساڑھے چار فٹ کے قد کاٹھ اَور اَنداز پر قدرت نے جو لکنت کی قلعی چڑھا دی۔تو مسکینا اَور فقیرانا رُوپ بھر پورہوگیا۔’ت‘کو ’ٹ‘پڑھتے تھے۔ جب مَیں نے اِن کو دیکھا تو جوانی پارکرچکے تھے۔اِن کے جوانی کے زمانے کاکوئی فلمی گیت تھا۔بول تھے۔
ہوامستانی،ہوامستانی
سانوں لے کے چلیاں
یہ اَکثر ترنگ میں آکر یہ گیت گانے لگتے اَورساتھ ساتھ رقص بھی کرتے جاتے۔لکنت کے باعث درست تلفظ اَدا نہ کرسکتے تھے۔لہٰذا یوں گایا کرتے۔
ہوامیٹو ٹانی،ہوا میٹو ٹانی
سانوں لے کے چلیاں
باقاعدہ عام فقیروں کی طرح مانگنے کے عادی نہ تھے۔مگر کبھی کبھار مخصوص لوگوں سے گیارہ روپے یا کچھ وصول کرتے رہتے تھے۔وصول کرنے کے بعد آسمان کی طرف منہ  کرتے اَور لمبی دعا کرتے۔پھر”اَمین کہنے کے اَنداز میں منہ  پر ہاتھ پھیر کر اختتام کرتے“۔پھر کہتے اچھا کوئی بات بُری لگی ہو میری تو معاف کر دینا۔یا یہ کہتے ”اچھا ناراض نہیں ہونا“۔

ان کے گھر کے پاس ایک زیارت تھی۔ماضی قریب میں ان علاقوں میں خانقاہوں اَور درگاہوں کاخاص احترام تھا۔یہ بھی اس خاص ماحول کے آدمی تھے۔ہر جمعرات کو محلے والوں سے آٹا،چینی اَور چاول جمع کرتے اَور لنگر پکاتے۔خود دعا کرتے،بچوں کو بلاتے،انھیں کھلاتے۔کبھی یوں بھی کرتے۔لوگوں سے پیسے جمع کرتے۔بازار جاتے دکان داروں سے چاول،چینی،گھی،کھوپرا اَور کش مش خرید تے۔اکثر دکان داران سے کھوپرے ااَور کشمش کے پیسے نہ لیتے تھے۔

صبور صاحب ڈار ہائی سکول میں صدر معلم ہیں۔انھیں درویشوں سے خاص لگاؤ ہے۔میڑو پہائی ان کے محلے دارتھے۔چنانچہ  انھوں نے ان سے بھی دوستی بنا لی۔میڑو پہائی ہر اتوار کو صبور صاحب کے گھر پہنچ جاتے۔یہ ان کی خوب خاطر تواضح کرتے۔یہ صبح کے گئے بیٹھے رہتے۔دوپہر کاکھانا کھا کر آتے۔میڑو پہائی پیسوں کے حساب کتاب میں صفر تھے۔اَگر پانچ سو لے کر کوئی دس دس کے دو نوٹ تھما دیتا تو یہ تمیز کرنے میں ناکام رہتے تھے۔لِہٰذا لڑکے بھالے ان سے اکثر ہاتھ کرجاتے۔کافی مدت بعد انھیں اَندازہ سا ہو گیاکہ دال میں کچھ کالاہور رہا ہے۔یوں یہ صبور صاحب کے پاس جاتے اَور ان سے پیسے گنواتے۔صبور صاحب چھٹے پیسے گنتے انھیں تھماتے پھر اپنی طرف سے بھی حسب حال پکڑاتے اَور بتاتے کہ اَب اتنے ہوگئے ہیں۔میڑو ان سے درخواست کرتے۔کہ کھلے آپ رکھ لو اَور بندے ان کے بدلے دے دو۔صبور صاحب کے گھر سے ہر اتوار کو رخصت ہوتے وقت ان کابازو پکڑ تے کافی آگے راستے تک ساتھ لے آتے اَور انتہائی راز دارانہ اَندازمیں پیسے نکال کر تھماتے۔اَور کہتے پہاٹو ٹیا یہ گن کر دو۔

یہ اکثر نیازکے پیسے ان سے بھی وصول کرتے رہتے تھے۔وہ پوچھتے نیاز کیوں دے رہے ہیں۔؟بولتے بارش نہیں ہو رہی اس لیے نیاز دے رہا ہوں۔یہ پوچھتے بارش بے شک نہ ہومیڑو پہائی آپ کاکیاجائے گا۔؟سادگی سے جواب دیتے۔پہاٹو لوگوں نے مکی کاشت کرنی ہے۔زمین سوکھی ہے۔بارش نہیں ہورہی۔لوگوں کو تکلیف ہے۔دعاکروں گا۔بارش ہو جائے گی۔نیاز کے لیے یہ بارہا صبور صاحب کو بھی دعوت دے چکے تھے۔ایک مرتبہ وہ کسی بزرگ کو ساتھ لیے ان کی نیاز میں چلے آئے۔یہ کسی رشتہ دار باورچی سے نیاز کے چاول پکوارہے تھے۔محلے سے پلیٹیں جمع کرکے لے آتے تھے اَور بعد واپس کردیتے تھے۔نیاز پکی،انھوں نے مہمانوں سے دعاکروائی۔اَور خود ڈال ڈال کر تقسیم کی۔پھر صبور صاحب کو بتایاکہ وہ پانی کاگھڑا لاکر رکھا ہے۔غسل کروں گا۔پھر اللہ سے گڑگڑا کر دعا کروں گا۔پھر اُوپر ٹیلے پر چڑھے غسل کیا۔اَور زارو قطار رونے لگے اَوربارش کی دعامانگنے لگے۔

ایک بار صبور صاحب نے انھیں اَپنے گھر دعوت پر بلایا۔کھانا کھایا گیا۔اِن سے اِن کے مزاج کے مطابق گفتگو ہوتی رہی۔سونے کاوقت آیا تو صبور صاحب نے اپنے کمرے میں ان کابستر لگاکردیا۔یہ بستر میں بیٹھ کر خود کلامی میں مصروف ہو گئے۔ہنستے، کسی نادید ہ کو مخاطب کرتے اَور نادیدہ مخاطب کے جواب دیتے جاتے۔ایک دو مرتبہ صبور صاحب سے پوچھا آپ میری وجہ سے پریشان تو نہیں ہو رہے۔یہ بولے نہیں نہیں۔میں ٹھیک ہوں۔ میڑو پہائی پھر اپنی دُنیا میں چلے گئے۔صبور صاحب تماشا دیکھتے دیکھتے کسی وقت نیند کی وادی میں اُتر گئے۔کمرے میں زیروکابلب روشن تھا۔رات کسی وقت جاگے،وقت دیکھا تو شب کے تین بج رہے تھے۔اَور میڑو پہائی اپنی دنیا بسائے بیٹھے تھے۔ صبور صاحب کی نیند جاچکی تھی۔لہٰذا اَب کے انھوں نے انہی پر دھیان لگادیا۔میڑو پہائی کسی نادیدہ ہستی سے مکالمہ کررہے تھے۔
مثلاً ہاں خاں۔
اچھا۔اچھا (ہنستے ہوئے۔)
اچھا تے تُس اللہ دیا نا۔(اچھا تو آپ اللہ میاں ہیں نا۔۔۔!)
تے فیر ماڑی گل بھوجا۔(ٹھیک ہے پھر میری بات بھی سنیں)
میڑو پہائی کی وہ رات اللہ میاں سے مکالمے میں گزر گئی۔یہاں تک کہ موذن صبح کی اَذان دینے لگا۔

ایک مرتبہ کسی نے انھیں اپنی ماں جی کی قبر کھودتے دیکھا اَور سخت ڈانٹا۔یہ قبر کھودنا چھوڑ کر گھر چلے گئے۔جب حسب معمول صبور صاحب کے گھر پہنچے تو انھوں نے باتوں باتوں میں قبر کھودنے کی واردات کاپوچھا۔
میڑوپہائی۔؟
یہ:جی پہاٹو۔
کیا اپنی ماں کی قبر کھود رہے تھے۔؟
یہ: جی ہاں کھود رہاتھا پہاٹو۔
کیوں۔؟
یہ:پہاٹو دیکھنا چاہتاتھاکہ ماٹی کیاکررہی ہے۔
یہ اپنی ماں جی کو ماٹی کہہ َ کر بلاتے تھے۔

کہتے ہیں جب سے جمعہ پڑھنے لگے تھے۔ہر جمعہ کو چشمے پر جاتے اَور غسل کرتے۔یہ عادت سخت برفانی موسموں میں بھی نہ ترک ہوئی۔کبھی کسی نے ان کو غسل کے بعد بیمار نہ پایا۔نماز پڑھنے کااَنداز بھی الگ تھا۔یہ دیکھا دیکھی قیام کرتے۔اَیسے ہی رکوع اَور سجود بھی۔سلام پھیرتے تو دُوسروں کو دیکھ کر۔پھر مخصوص اَنداز میں دعا شروع کردیتے۔جماعت کی نمازوں میں تو دقت کم ہوتا۔مگر انفرادی قیام و سجو د میں ادھر سے اُدھر کردیتے۔اَپنے سے بڑی عمر کی عورتوں ’کو دیدّی‘ کہتے تھے۔بچوں سے خاص لگا ؤ تھا۔کو ئی خاتون اَپنے بچے کو ڈانٹ رہی ہوتو یہ درمیان میں آجاتے۔
لوگ شرارتاً بھی اَور اَصلاً بھی انھیں دعا کے لیے کہتے تھے۔یہ آسمان کو دیکھ کر او اللہ۔۔۔۔! او اللہ۔۔۔۔! او اللہ۔۔۔۔! کہتے ہوئے آسمان کو اس یقین سے دیکھتے جیسے آسمان میں واقعی انھیں خدا  نظر آ گیاہو۔لڑکوں کی شرارتوں سے تنگ بھی ہوجاتے تھے۔مگر انھیں کبھی کسی کو بدعادیتے نہیں دیکھا گیا۔

کشمیر میں شادی کی رسم اَداکرتے وقت دُلہے کے بازو پر گانا (دھاگوں سے بناربن یاراکھی جو کافی خوب صورت ہوتاتھا۔) باندھا جاتاہے۔کسی گاؤں سے گزرتے ہوئے کچھ عورتوں نے شرارتاً اِن کے ہاتھ پر گانا باندھ دیا اَورکہا ہم میں سے یہ لڑکی آپ سے شادی کرے گی۔بلکہ ہم سب کریں گی۔یہ گانا باندھے مدتوں محو خیال رہے۔گانادیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔اٹھلاتے اَور لوگوں کو دکھاتے۔اَگر کوئی گانے کو چھو کر دیکھنے کی کوشش کرتاتو ناراض ہوجاتے۔معلوم نہیں اس ہرجائی مذاق سے کیسے سنبھلے۔

ایک مرتبہ گاؤں کے کچھ لڑکوں نے انھیں شرارتاً بلوایا۔کہ ہم میں سے ایک مر گیاہے۔آپ نماز جنازہ پڑھادیں۔دعا کے لیے تو انھیں ہر کوئی کہتاتھا۔مگر آج نماز اَور وہ بھی نماز جنازہ۔۔۔۔کیسے پڑھائیں۔اصرار تھاکہ بڑھتا جارہاتھا۔یہ تھے کہ منع کیے جارہے تھے۔ مگر جان نہ چھوٹی۔جیسے تیسے انھوں نے نماز جنازہ پڑھائی۔جب دعا کے بعد جنازے پر سے چادر ہٹائی گئی تو وہ مرا ہواایک کتا تھا۔یہ لگے وایلاکرنے۔۔۔ بہت سٹپٹائے جدھربھی جاتے ہر ایک سے یہی پوچھتے اچھا تو کیا کتے کاجنازہ بھی ہوتا ہے۔اُن لڑکوں نے میرے ساتھ یہ مذاق کیا۔بھلا مجھے کیا۔۔؟مجھے کیاپتاتھاکہ کتاہے۔؟ کیا مجھے گناہ ہو گا۔۔؟ اس میں میرا کیاقصور۔۔؟ احساس گناہ ہمیشہ اُن پر چھایا رہا۔ اتنا زیادہ کہ یہ احساس اَگر تقسیم کیاجائے تو شاید بڑے بڑے عالم فاضل اپنے علم کے بوجھ سے نکل کر ان کے احساس گناہ کی چھتری تلے آکر بخشے جائیں۔خوف خدا ہمیشہ ان پر سوار رہتاتھا۔کسی سے بات کرنے کے بعد رخصت ہوتے ہوئے معافی مانگ لیتے تھے۔کہ میری کسی بات سے ناراض نہ ہونا۔کوئی بات دل میں نہ رکھنا۔کہا سُنا معاف کرنا۔کسی کے گھر پانی بھی پیتے تو پہلے شکر اللہ کہتے۔پھر کہتے’کھادا پیتا معاف کر یا۔‘(کھایا پیا بخش دینا)

وفات سے کچھ دن قبل یہ سارے قریبی گاؤں  کے متعلقہ گھروں میں گھومتے گئے اَور ملنے والوں سے پوچھتے گئے۔اَگر میں مر گیا تو میرے جنازے پر آؤ  گے نا۔؟ پھر دوچار دن بعد واقعی اللہ میاں کے پاس چلے گئے۔
ؔ فقیرانہ آئے صداکر چلے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جس نے بھی ان کے مرنے کی خبرسنی دوڑا چلا آیا۔علاقے میں ان کاجنازہ باقی جنازوں میں سب سے بڑا تھا۔میڑو پہائی تیلی خاندان سے تھے۔مگر خاندانوں میں کیارکھا ہے۔اَگر انکساری اَور عاجزی کے باب میں دیکھا جائے۔توبڑے بڑے خاندانی لوگ شایدصدیوں تک وہاں نہ پہنچ سکیں۔جہاں ساڑھے چار فٹ کایہ درویش کھڑا نظر آتاہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply