جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے۔۔سیّدہ ہّما شیرازی

وہ نومبر کی  پہلی تاریخ  تھی، موبائل کی سکرین روشن ہوتے ہی مجھے احساس ہوا ،کیا تاریخ بدل چکی ہے؟؟ یہ ایک بڑا سوال تھا، کون سی تاریخ؟ ہماری تاریخ؟ یا واقعی دوسری تاریخ ،دوسری تاریخ سے شاید میرا مطلب مہینے کی تاریخ تھا ،میں چونک گئی، عجیب ہندسوں کا گورکھ دھندا ہے ،یہاں ہر طرف ہی نرالا کھیل ہے، میں نے ہڑ بڑا کر کہا۔۔ لیکن اس پر مستزاد یہ کہ کھیل میں شریک افراد کھیلنا جانتے ہی نہیں۔  وہ میں کہہ رہی تھی  کہ تاریخ بدل چکی ہے، گزری رات کی کچھ دھندلی تصویر میرے شعور اور لاشعور کے درمیان روشن ہوئی، ملکی حالات اب بہتر ہو  گئے ہیں۔

کیا ملکی حالات کبھی بہتر تھے؟

julia rana solicitors london

یہ سوال منہ کھولے میرے سامنے تھا جس کا بہترین جواب تاریخ کے پاس موجود تھا ،کونسی تاریخ؟

وہ تاریخ جس کو ہم جیسوں نے ہی لکھا؟ جس کے واقعات اپنے مورخ کی شعوری اور لاشعوری کی گئی کوتاہیوں کا بال کھول کر ماتم کر رہے ہیں ،کیا موجودہ حالات اسی تاریخ کی مرہون منت ہیں؟ نئے سوال نے موجودہ تمام سوالوں کا گلا گھونٹنے کی مضبوط کوشش کی۔ تاریخ لکھی جاتی ہے یا لکھوائی جاتی ہے؟

سوالات کے درمیان ایک نیا دنگل سج چکا تھا، انسان بڑی عجیب شئے  ہے، میں نے سوچا۔۔کبھی کبھی تو سوال میں ہی جواب تلاش کر لیتا ہے۔ ہاں آج تاریخ بدل چکی ہے حکومت اپنی رٹ قائم کر چکی ہے لیکن دوسری طرف کھڑا ہجوم اپنی رٹ کو مضبوط سمجھ رہا ہے، پھر کون جیتا؟

ایک عجیب سی آواز پیدا ہوئی میں نے خود کو تسلی دیتے ہوئے سوچا ،آج کے دور میں ہار کا  کانسپٹ ختم ہو چکا ہے “کانسپٹ” سے یاد آیا انگریزی ہمارے اطراف آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی ہے( کانسپٹ کی بجائے وجود کا لفظ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے)۔ دونوں فریقین کی جیت بھی تو مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے، میں نے قدرے سنجیدہ ہونا چاہا، لیکن یہاں تو سب کچھ ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ انسان کا وجود اور اس سے جڑے معاملات، سب مذاق ہی تو ہے، ورنہ کون کسی کو ملحد ،کافر اور نجانے کیا کیا کہہ دے، ایسا احمقوں اور بے وقوفوں کے ہاں ہی ہوتا ہے ،

ہم بیوقوف ہیں ؟

نہیں احمق ہیں ،احمق اور بیوقوف میں کیا فرق ہے؟

فی الحال مجھے احمق صوتی اعتبار سے بیوقوف سے ذرا نچلے درجے پر نظر آ رہا ہے ،ہاں ہم احمق ہیں، تاریخ بھی تو کچھ ایسے ہی حقائق سے جڑی ہوئی ہے۔

حقائق؟؟

اس قدر وسیع المعنی لفظ کے بےدھڑک استعمال سے  میں حیران ہوئی۔

مجھے اسی لمحے احساس ہوا یہ میرا نہیں معاصر لکھنے والے اور ہر اُس فرد کا مسئلہ ہے جو الفاظ سے برتاؤ کرتا ہے ،ہم بحیثیت مجموعی لفظ کی تہذیب سے ناآشنا ہیں ، ہر لفظ کی اپنی دنیا اور فضا ہوتی ہے، جس میں معنی کے عمل سے لے کر اس کے برتاؤ  تک کا راز پوشیدہ ہوتا ہے، لفظوں کی دنیا میں مَیں  نے بے اختیار خود کو داد دی۔

لیکن ہمارے جیسے خداؤں، جنہیں الفاظ کا برتاؤ نہ جوانی میں آیا اور نہ پیری میں، ہم زندگی میں سب سے زیادہ کھیل الفاظ سے کھیلتے ہیں، مجھے ایک لمحے کے لئے محسوس ہوا کہ  موجودہ منظر نامہ الفاظ کے غلط اور بے دریغ استعمال کا نتیجہ ہے ۔یہ بہت باریک بات ہے لیکن ہمارے ہاں ایسے حساس مسائل کو اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی اس ملک میں صدر پاکستان کو ،یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے ساتھ ساتھ الفاظ کی بھی اہمیت کھوتے جاتے ہیں۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جو روایتی اور سوشل میڈیا کے ذرائع پر چھایا ہوا ہے ،جس کی زد سے بچنا جوئے شِیر لانے کے مترادف ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بہت سے الفاظ میرے قلم کی نوک پر محوِ رقص ہیں لیکن میری انگلیاں ہر رقص کرنے والے الفاظ کو تحریر میں متشکل کرنے اور ان سے معنی پیدا کرنے کی محتمل نہیں ہو سکتیں ۔ بات تاریخ کی ہو رہی تھی، ہاں!وہ نومبر کی پہلی تاریخ  تھی ،یہ مہینہ رومانویت سے بھرپور ہوتا ہے جس میں کئی اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ہر طرح کی شدت پسندی نے ان لطیف جذبات کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے، جبکہ ہر چیز کی خوبصورتی کو محسوس کرنے اور اس سے لطف کشید کرنے کے لیے اعتدال ضروری ہے، موبائل کی سکرین اب سیاہ ہو چکی ہے، شاید وہ اپنے حصے کا پیغام دے چکی ہے، اب کسی نئے پیغام کے ساتھ اپنے وجود کو روشن کرے گی۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply