سعودی عرب اور ایران مسلم دنیا کے دو اہم ترین اور طاقتور ممالک ہیں۔ دنیا نے انہیں سنی اور شیعہ اسلام کے نام پر تقسیم کرکے عالم اسلام کی طاقت کو تقسیم کر رکھا ہے۔ سعودی عرب اور خطے کے← مزید پڑھیے
ریاست مدینہ ایک اسلامی نظامِ حکومت کا نمونہ تھی جس کے معمار خود سرور کائنات ﷺ تھے اور جس کی بنیاد انصاف، برابری ، امن ، محبت اور بھائی چارہ پر رکھی گئی، جس کے قوانین کا سرچشمہ قرآن و← مزید پڑھیے
میں بندوبستِ پنجاب کے اُس چھوٹی سی اقلیتی تجزیہ نگاروں کی ٹیم میں شُمار ہوتا ہوں جو نوے کی دہائی سے پاکستان کی “سول سوسائٹی ( لبرل پروفیشنل مڈل کلاس سیکشن) کی اکثریت کے اینٹی پی پی پی رجحان کو← مزید پڑھیے
۔29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ نے ارض فلسطین کی تقسیم کا صہیونی منصوبہ منظور کیا تھا جس کے بعد فلسطینیوں پر ایک نا ختم ہونے والا عذاب جاری ہے۔ فلسطین دنیا کی واحد بد قسمت مملکت ہے جسے اقوام← مزید پڑھیے
زندگی کا مقصد اوروں کو بتا دیا اور کسی وجہ سے اسے حاصل نہ کر سکے تو نہ صرف ہم ان لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوں گے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسرے سب کو بتاتے رہیں کہ یہ نالائق شخص ہے، کرتا کراتا کچھ بھی نہیں اور ایویں ہی دوسروں کے سامنے شیخیاں مارتا رہتا ہے← مزید پڑھیے
انوکھا محل۔۔زبیر بشیر/خواب دیکھنے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ آپ اس جملے سے اختلاف کر سکتے ہیں اور میں بھی شاید آپ ہی کی طرح کرتا اگر میری ملاقات ان سے نہ ہوئی ہوتی← مزید پڑھیے
یوایچ ایس ڈگری کا حصول اور ڈگری سیل کی کوتاہیاں۔۔ڈاکٹر محمد شافع صابر/یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور (UHS, LAHORE) ، صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی میڈیکل یونیورسٹی ہے۔ صوبہ بھر کے 90 فیصد سے زائد پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میڈیکل کالجز اسی یونیورسٹی سے منسلک ہیں← مزید پڑھیے
سلگتی ذات(1)۔۔رمشا تبسّم/فون کان سے لگائے وہ بالوں کو انگلی پر لپیٹنے میں مصروف تھی۔ فون پر رِنگ مسلسل سنائی دے رہی تھی اور اسکی نظریں گویا کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئیں بھی کچھ دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی تھیں ۔← مزید پڑھیے
تصورِ ذات کے اختیار کا موسم۔۔تنویر سجیل/آپ نے اکثر لوگوں کو اپنے بارے میں یہ کہتے سنا ہو گا کہ میری تربیت ہی ایسی ہوئی ہے مجھے ماحول ہی ایسا ملا تھا میرے والدین نے مجھے یہی سکھایا ہے میرے حالات ہی ایسے تھے میرے دوست احباب بھی میرے جیسے ہی تھے میرے پاس کوئی اختیار ہی نہ تھا میرے بس میں کچھ بھی نہ تھا ۔← مزید پڑھیے
پال کاربون ایک تجربہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سوال یہ تھا “ابتدائی سٹیج کے کینسر میں اگر آپریشن کے ساتھ کیموتھراپی بھی کر دی جائے تو کیا بہتر نتائج مل سکتے ہیں؟” لیکن انہیں ایک مسئلہ تھا۔ کینسر کے← مزید پڑھیے
میں ایک دوست کے ہاں ڈِنر پر مدعو تھا، ڈِنر تھوڑا لیٹ تھا اس لیے مجھے سخت بوریت ہورہی تھی۔ اتنے میں اُن کی 6سالہ بیٹی کھیلتے کھیلتے میرے قریب آئی اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ٹافی میری طرف لہرا← مزید پڑھیے
ہریانہ، بھارت کی ایک ریاست ہے۔ جس کے شمال مغرب میں پنجاب، شمال مشرق میں ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ، جنوب اور جنوب مغرب میں راجستھان، مشرق میں دہلی اور اتر پردیش ہیں۔ ریاست کا صدر مقام چندی گڑھ ہے، جو← مزید پڑھیے
اگلے ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوتن کا نئی دہلی کاطوفانی دورہ اور اسکے ساتھ ہی جدید ترین ایس۔400 دفاعی میزائلوں کی پہلی کھیپ کی ترسیل، بھارتی سفارت کاری کیلئے امتحان کا مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ اس وقت← مزید پڑھیے
ضیاء صاحب عرصہ ہوا گوشہ نشین ہوچکے تھے۔ کچھ نہ کچھ کرنے کو بے چین صحافیوں کو اکثر ان کی رہ نمائی لیکن درکار ہوتی۔ اس کے علاوہ آزادیٔ صحافت کی جدوجہد کو زندہ رکھنے والی تقریبات میں بھی ان← مزید پڑھیے
ندامت سے بھرا ہے دامن میرا۔۔ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد/چارسدہ کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس پر اُٹھنے والے سوالات ہمارے معاشرے کی تباہی کا پتہ دے رہے ہیں ۔ ایسا معاشرہ جس کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے ۔ جن کے رہبر کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا گیا تھا۔← مزید پڑھیے
بے وزن۔۔رزاق لغاری/مولانا وحید الدین خان نے اپنی کتاب ڈائری کے صفحے نمبر 216 پر ایک واقعہ نقل کیا ہے جو اس طرح ہے۔ تین “خلائی ہیرو راکیش شرما ، پوری مالی شو ، گناڈی اسٹریکالوف اپریل 1984 کو اپنے← مزید پڑھیے
گئے دنوں کی یادیں (7)۔۔مرزا مدثر نواز/کسی بھی دوسرے تہوار کی طرح شادی بیاہ میں بھی بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور ایسے مواقع پر وہ اپنی موجودگی یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شادی ہالز اور مارکیز کی موجودگی سے پہلے گاؤں میں کسی خالی جگہ پر تنبوں، کناتیں اور کرسیاں لگائی جاتی تھیں← مزید پڑھیے
آخری چیٹ -چوبیس نومبر کا سچا واقعہ ۔۔محمود اصغر چوہدری/ بس تم اپنا فون بند نہ کرنا ۔ آج کی رات میرے نام کردو ۔۔بس میرے ہی ساتھ رہو ،میرے ساتھ سنیپ چیٹنگ کرتے رہو۔ تمہارا ساتھ رہا تو یہ سفر پل میں گزر جائے گا۔ تیرے لئے میں سات سمندر پار کر آئی ہوں۔← مزید پڑھیے
کچھ ہی دن ہوئے حضرت شاہ جمال کا عرس منعقد ہوا۔ یہ دربار اپنی بے پناہ خوبصورتیوں اور کرامات و اثرات کی وجہ سے ہر طبقۂ فکر کے لوگوں میں مقبول اور محبوب ہے۔ ان کا خاندان کشمیر میں آباد← مزید پڑھیے
وہ سندھ سے بہت دور بستے ہیں۔ پھر بھی سندھ ان کی جانب تکتا ہے۔وہ شالہ کی پہاڑیوں میں بھی نہیں پر پھر بھی بلوچستان کے پہاڑوں کے سر فخر سے بلند ہیں۔وہ پنجاب میں نہیں پر اب محسوس ہوتا← مزید پڑھیے