انوکھا محل۔۔زبیر بشیر

انوکھا محل۔۔زبیر بشیر/خواب دیکھنے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ آپ اس جملے سے اختلاف کر سکتے ہیں اور میں بھی شاید آپ ہی کی طرح کرتا  اگر میری ملاقات ان سے نہ ہوئی ہوتی۔ ان کی عمر اس وقت 92 برس ہے۔  اس کہانی کا آغاز مشرقی چین کے شہر جنگ ڈاہ جن میں سنہ 2010 میں ہوا جب ان کی عمر80 برس تھی۔

یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ جنگ ڈاہ جن شہر  کو چین کا سرامکس کیپیٹل  کہا جاتا ہے۔ یہ شہر کوزہ گری میں اپنی خاص شہرت رکھتا ہے۔ یہاں معروف پورسلِين یعنی چینی مٹی کے برتن بنائے جاتے ہیں جو دنیا بھر میں  مشہور ہیں۔  یہاں چینی مٹی کے برتن بنانے کی تاریخ کم و بیش 1700 سو سال پر محیط ہے۔ شہر میں موجود مٹی کے منفرد وسائل، قدیم تاریخ ، ظروف سازی کے ماہرین کی موجودگی  اور یہاں  بننے والے برتنوں سے  لوگوں کی محبت نے اس شہر کو بہت “متبرک” بنا دیا۔ اس فن کے چاہنے والے اس شہر سے عشق کرتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

پورسلِين کے برتن تو ہم سب   نے دیکھ رکھے ہیں لیکن پورسلِين کا محل  شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ ہاں خواب میں ضرور دیکھا ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی محل کا خواب  محترمہ یو ارمے نے کھلی آنکھوں سے اسی برس کی عمر میں دیکھا تھا ۔ انہوں نے اپنے اس خواب کو محض چھ برس میں پورا کر دیا۔ ان کی پورسلِين سے محبت فطری تھی۔ جب وہ بارہ برس کی تھیں تو  انہوں نے  شہر میں موجود ایک ٹریننگ سینٹر میں چینی مٹی کے برتن بنانے کی ایک ورکشاپ میں اس فن کی ابتدائی  مہارتیں سیکھیں۔ یہ ورکشاپ سرکاری طور پر پورسلِين کے برتن بنانے والی دو فیکٹریوں کی معاونت سے چلتی ہے۔ یو ارمے کی دلچسپی اور مہارتیں دیکھ کر انہیں یہاں کام کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔  یوں پورسلِين سے ظروف سازی ان کی زندگی کی اوڑنا بچھونا بن گیا۔

محل کی بات ہور ہی تھی، یہ محل 1200 مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے، عمارت کی تعمیر اور سجاوٹ کے لیے تقریباً 80 ٹن ٹوٹے ہوئے چینی مٹی کے برتنوں کا استعمال کیا گیا ہے۔  ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو یو نے اپنے تیس سالہ کام کے دوران جمع کئے تھے۔

یہ محل  جنگ ڈاہ   جن شہر کے قریب شی پنگ  گاؤں میں واقع ایک شاندار تین منزلہ سرکلر عمارت ہے۔ اس کے گراؤنڈ فلور اور بیرونی دیوار پر پورسلِين کے ٹکڑوں سے شاندار انداز میں پچی کاری کی گئی ہے۔ موزیک ورک کے ان نمونوں میں چینی ثقافت کی بھرپور طریقے سے جھلکتی ہے۔ یہاں آپ چینی بروج کی تصاویر، ڈریگن اور فینکس  کے عکس سمیت  تائی چی کے نشانات دیکھ سکتے ہیں جنہیں پورسلِين کے ہزاروں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

محل کے اندر ایک طلسماتی دنیا آپ کا استقبال کرتی ہے۔ اندر بنی کھڑکیاں چینی مٹی سے بنے گلدانوں کی شکل کی ہیں۔  چھت  پر  بھی نہایت دیدہ زیب نقاشی کی گئی ہے۔ اندرونی دیوار پر موزیک ورک کی مدد سے روایتی چینی لوک  داستانوں کے کرداروں کی تصاویر بنائی گئی ہیں۔ یہ مناظر  اس عمارت کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں۔

وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اچھی بھلی آرام دہ زندگی گزار سکتی تھیں  تو انہوں نے چینی مٹی کے برتنوں کا محل بنانے کی پریشانی کیوں اٹھائی؟ آپ کی طرح یہ سوال میرے ذہن میں بھی آیا۔  جب انہوں نے پہلی بار یہ خیال اپنے گھروالوں اور دوستوں کے ساتھ شئیر کیا تو انہوں نے سمجھا وہ سٹھیا گئی ہیں۔ لیکن یو کے لیے یہ محل ایک چینی مٹی کے برتن کی کاریگر اور تاجر کے طور پر اپنے زندگی بھر کے کیریئر کو  کا ایک بامعنی طریقے  سے خراج  تحسین پیش کرنے کا ذریعہ تھا ۔ ا نہوں نے کہا جنگ ڈہ جن  چینی مٹی سے ظروف سازی  سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک مقدس شہر ہے اور میں اس شہر کو ایک تحفہ دینا چاہتی تھی۔

جیسا کے میں نے پہلے عرض کیا کہ وہ اس شہر میں 12 برس کی عمر میں آئی تھیں۔ انہوں نے ظروف سازی کے فن میں مہارت حاصل کرنے کے بعد  اپنا ذاتی کاروباری شروع کیا ۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر میں  پورسلِين کی مصنوعات بھیجیں اور خوب دولت اور عزت کمائی۔ ان کے پاس اپنی تیار کردہ 60 ہزار سے زائد مصنوعات کا ذخیرہ بھی اکٹھا ہو گیا۔وہ نہیں جانتی تھیں کہ  وہ اس بڑے  ذخیرے کا  کیا کریں گی۔ اتفاق سے وہ شمالی چین کے شہر تیانجن تشریف لے گئیں جہاں انہوں نے چینی مٹی کے برتنوں سے بنا ایک انوکھا گھر دیکھا اسی روز انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگ ڈاہ جن میں پورسلِين کا محل بنائیں گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس کام کے لئے انہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی خرچ کردی جو کہ تقریباً70 لاکھ یوآن  بنتی ہے۔ اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لئے انہوں نے اپنے تمام زیورات اور کام کے نادر نمونے تک بیچ دئیے۔ چھ برس کی محنت کے بعد ان کا خواب حقیقت بن چکا ہے۔ اس محل میں داخل ہونے کا ٹکٹ 25 یوآن رکھا گیا ہے۔ ہر روز یہاں سینکڑوں لوگ آتے ہیں۔ محترمہ یور ارمے کہتی ہیں کہ ٹکٹ کا مقصد پیسے کمانا نہیں ہے۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ یہاں آنے والے  پورسلِين کے فن کی دلکشی اور  خوبصورتی کی تحسین کریں۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply