محبت، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 4 )

وہ کہتا،مفتی بڑھاپا لاہور میں گزاریں گے۔۔اسد مفتی

کسی شخص کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ وہ مر گیا ہے،بے حد آسان بات ہے،لیکن ایک یار،فنکار،اور عظیم انسان کے بارے میں اُس کی موت کا یقین کوئی آسان مرحلہ نہیں،بیتے ماہ و سال کی لوح پر سعید←  مزید پڑھیے

احمد شمیم کی وجہء شہرت۔۔ساغر جاوید

آزادی کے ان ساٹھ برسوں میں شاعری پر جو باتیں ہوئی ہیں ان میں جس نظم کو ادبی مباحث میں سب سے زیادہ  جگہ ملی، اس کے لکھنے والے ترقی پسند نظم نگار تھے اس کی واضح وجہ یہ بھی←  مزید پڑھیے

محبت شیشے سی۔۔رمشا تبسم

پاؤں تک لمبے کالے فراک میں آہستہ سے چلتی ہوئی وہ کھڑکی کے پاس رُک کر چاند کو  دیکھنے لگی۔چاند کی روشنی میں اسکے چہرے پر پڑی انتظار کی لکیریں واضح تھیں۔اسکے چہرے پر بکھری زلفیں ہوا سے لہرا رہی←  مزید پڑھیے

محبت۔۔محمد اسلم خان کھچی

سیاست پہ لکھتے لکھتے ایک تھکن کا سا احساس ہونے لگا ہے۔۔۔ وہی روز  کی فرسٹریشن ،وہی روز کی لعن طعن۔ سوچا کوئی اور موضوع تلاش کیا جائے۔ بہت سوچ بچار کے ایک ایسا موضوع تلاش کیا ہے جو میری←  مزید پڑھیے

ایک میٹر کے سمندر۔۔ حبیب شیخ

چاروں اطراف ہُو کا عالم تھا۔ صبح کاذب کے اندھیرے اور کہر میں سب چھپا ہوا تھا۔ شلوار قمیض میں ملبوس عدنان کمبل میں ٹھٹھرتا ہوا ،کچھ ٹھوکریں کھا کر ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔ “مجھے معاف کر دو۔←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط3)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب ایسی بھی کوئی بات نہ تھی کہ وہ اپنی اِس گھبراہٹ اور بے چینی کو جویوں بیٹھے بٹھائے تپ ملیریا کی طرح یکدم اُس پر چڑھ دوڑی تھی کے پس منظر سے ناواقف تھا۔ ٹھنڈے پانی سے لبالب بھرے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط2)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اپنے گھر کے بیرونی تھڑے پر بیٹھا اور وہاں محفلیں سجاتا اب وہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ ایک تو اُس نے تاڑ جتنا قد نکال لیا تھا۔ دوسرے اب وہ کوئی ارمنی ٹولہ ہائی  سکول کے چوتھے پانچویں درجے میں←  مزید پڑھیے

دو ٹکے کا لڑکا۔۔محمد افضل حیدر

شام کو حمید صاحب کام سے فراغت پاکر گھر واپس آئے تو کھانے کے دستر خوان پر زویا کو موجود نہ پاکر مضطرب ہوئے۔ زویا کہاں ہے۔نظر نہیں آرہی؟ کالج سے واپس آنے کے بعد سے دروازہ بند کرکے بیٹھی←  مزید پڑھیے

” رب” کو کسی بھی طرح راضی کریں۔۔۔جمال خان

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل میں جارہے تھے ،انہوں نے ایک چرواہے کی آواز  سنی،وہ کہہ رہا تھا،”اے میرے جان سے پیارے خدا،تو کہاں ہے؟۔۔میرے پاس آ،میں تیرے سر میں کنگھی کروں،جوئیں نکالوں،تیرا لباس میلا ہوگیا ہے،اُسے دھوؤں،تیرے←  مزید پڑھیے

خط۔۔محسن علی

ہاں مجھے یاد ہے وہ وعدے سارے کہ کہیں پہاڑوں پر ہم لکڑی کا گھر بنائیں گے ، مجھے یاد ہے جو نقشہ ہم نے  ترتیب دیا تھا، ٹیرس میں دو کُرسیاں و میز جس پر شام میں چائے پیتے←  مزید پڑھیے

یقین ۔۔مختار پارس

مذہب تو محبت، زہد، ہدایت اور بنیاد کا مخفف ہے۔ مذہب کا فلسفہ نہ سمجھنے والا بت پرست بن جاتا ہے۔ بت پرست کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ خدا سے زیادہ خود کو دیکھتا ہے۔ وہ←  مزید پڑھیے

ساحل سمندر کی منظر نگاری۔۔سدرہ محسن

یہ کیا خاموش منظر ہے کیسا سناٹا ہے ۔۔کیا لہریں سرگوشیاں کر رہی ہیں، کیا یہ میرے اندر کی تنہائی کو ابھار رہی ہیں؟یا میرے بنجر دل کو اپنی سنسناہٹ سے سیراب کرنے کو بے تاب ہیں؟ یہاں جو کنارہ←  مزید پڑھیے

نگاہ۔۔مختار پارس

نہ خواب میرے،نہ حقیقتیں۔۔ مگر دونوں کا دیکھنا فرض ۔ خواب نہ دیکھیں تو سراب تک دکھائی نہیں دیتا اورحقیقت سے آنکھیں چرائیں تو وقت کا سیلاب رہنے نہیں دیتا ۔ نہ سوال کی کوئی حیثیت ہے اور نہ جواب←  مزید پڑھیے

جب عورت محبت کرتی ہے۔۔رابعہ الرَبّاء

جب عورت محبت کرتی ہے مہکتے ہیں اس کے انگ کے رنگ سارے اس کے پور پور سے پھول کھلتا ہے اس کے من میں اگلتی آبشاریں وجود کے سیراب سے وجود کے وجود تک کو یوسف بنا دیتی ہیں←  مزید پڑھیے

اقرار نامہ۔۔وجیہہ جاوید

میری بات تو سنو !اے سخن ور وجیہ مرد، نہ جانے تمہارا ساتھ نصیب ہوئے کتنے ہی دن،ہفتے ،مہینے گزر گئے۔میں ازلوں سے حساب کی کچی عورت محض باتیں بنانے کے فن سے ہی واقف ہوں ۔ تمہارے آجانے کے←  مزید پڑھیے

ادھوری محبت کے نام آخری خط۔۔۔محمد شافع صابر

ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر پاؤں بھی شل ہیں ،شوق سفر بھی نہیں جاتا! “اجالا! تمہارا پیمانِ وفا اب تلک یاد ہے مجھے ،اب تک تمہارے اس دلاسے کے سہارے شب و روز گزارتا ہوں کہ ساتھ نہیں چھوٹے←  مزید پڑھیے

ہاں ! میں بے وفا تھا۔۔۔چوتھی آخری قسط/عثمان ہاشمی

لگا کہ وقت کچھ تھم سا گیا ہے ۔۔۔۔ میں جو صوفے پر اکڑوں بیٹھا تھا ،ایک دم پیچھے کو ہو لیا اور سر صوفے کی پشت کے ساتھ ٹکا لیا ۔۔ مگر نظریں اس کی نظروں سے آزاد نہ←  مزید پڑھیے

روبینہ فیصل کے افسانے” عورت اور محبت”۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ ملک اور عہد کے ادیب ’ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے←  مزید پڑھیے

“قانون محبت” یعنی Law of Love کی ضرورت ۔۔امیرجان حقانی

میری بات ان لوگوں کو سمجھ نہیں آسکتی جو “اسٹبلشمنٹی” ذہن یا اداروں سے تعلق رکھتے ہیں، یا خود ساختہ تقدس کے مالک ہیں۔ وہ تمام معاملات کو ریاستی نقطہ نظر اور تقدسی بھرم سے دیکھتے ہیں جبکہ میرا انداز←  مزید پڑھیے

یک طرفہ محبت۔۔روبینہ فیصل

یک طرفہ محبت اوربھیک میں کچھ فرق نہیں،ہے بھی تو کم از کم مجھے نظر نہیں آتا۔ پاکستانی ڈراموں میں حلالہ اور زنائے محرم) انسسٹ)کے بعد جو سب سے زیادہ چیز دکھائی جاتی ہے وہ ہے یک طرفہ محبت۔ اور←  مزید پڑھیے