گھروندا ریت کا(قسط2)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اپنے گھر کے بیرونی تھڑے پر بیٹھا اور وہاں محفلیں سجاتا اب وہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ ایک تو اُس نے تاڑ جتنا قد نکال لیا تھا۔ دوسرے اب وہ کوئی ارمنی ٹولہ ہائی  سکول کے چوتھے پانچویں درجے میں تھوڑی پڑھتا تھا بلکہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں آنرز کا سٹوڈنٹ تھا۔ سیاست اور فلسفہ اُس کے دل پسند مضامین تھے۔
اِس لمبے چوڑے تھڑے سے آگے اُس کا بڑے بڑے محرابوں پیل پایوں اور شہہ نشینوں والا محل نما گھر تھا جس میں سبز کھڑکیوں والا ایک کمرہ اُس کا بھی تھا۔ یہ عجیب بات تھی اُسے اپنے کمرے سے ذرا بھی رغبت نہ تھی۔ سارے گھر کی طرح وہ بھی اُسے اجنبی ہی لگتا جو شانتی اور سکون ملتا تو اِسی سُرخ سُرخ نتھری اینٹوں والے تھڑے پر جہاں اُس کی دنیا آباد ہوتی۔
وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان کے مستقبل پر بحث کرتا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے اساتذہ کے بخیے اُدھیڑتا۔ ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں پر تبصرے کرتا۔ نکڑ پر پھول محمد کے چھوٹے سے کھوکھے سے چائے منگواتا۔ خود بھی پیتا اور وں کو بھی پلواتا۔ رات ڈھلنے پر اُٹھتا اور اپنے کمرے میں آتا یوں جیسے کوئی اجنبی شب بسری کے لیے کسی سرائے میں جاتا ہے اس کا بس چلتا تو اپنا بستر بھی وہیں اُٹھا کر لے جاتا۔ اپنے بھائیوں سے وہ قدرے دبتا تھا بڑے دو نے تو اُسے اُس کے حال پر چھوڑ رکھا تھا۔ پر چھوٹے دو اکثر و بیشتر اسے تھڑے پر یوں محفل سجانے پر ٹوکتے رہتے۔
یوں یہ اور بات تھی کہ وہ اُن کی کم سُنتا تھا اور وہی کرتا تھا جو اُس کا دل چاہتا۔

گھروندا ریت کا(قسط1)۔۔۔سلمیٰ اعوان
اُس کے اِس رویّے کے پسِ منظر میں اُس گھر کے مکینوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اُس کی نصف درجن بھاوجیں جو نیلے، پیلے،سبز اور سُرخ باڈروں والی ساڑھیوں سے بندھے چابیوں کے گُچھے کمروں پر چھنکاتی بڑی سی انگنائی میں پُھنکارے مارتی شانوں پر بھاری بھر کم جوڑوں کا بوجھ ڈھلکائے، کلوں میں پان کی گلوریاں دبائے،کھٹا کھٹ بنگلہ اور کبھی کبھی اُردو بولتیں کسی طور بھی ٹُھسے کی لکھنوی بیگمات سے کم نظر نہ آتیں اور جب وہ لڑنے پر آتیں تو ایک دوسرے کی سات پُشتیں تک گِن ڈالتیں۔ ایک سے ایک بڑھ کر سازشی حاسد چُغل خوراور مکاّر بستے رَستے گھروں میں آناً فاناًآگ لگا کر تماشا دیکھنے اور اچھے بھلے ذہنوں میں شکوُک وشبہات کے بیج بو کر اُنہیں پروان چڑھانے والیاں۔ اُن کے چھوٹے چھوٹے کچر پکر سُڑ سُٹر کرتے ناکوں والے بچے۔
اُسے نفرت تھی اُن سب سے۔ وہ بیزار تھااُن کے بچوں سے۔ وہ بھاگ جانا چاہتا تھا اُس گھر سے۔ پر مجبوریاں تھیں جو پاؤں باندھے ہوئے تھیں۔ بھلا اپنے پاؤں پر کھڑا ہوئے بغیر وہ کہاں جاسکتا تھا۔
ماں کاتو اُسے ایک ہیولا سا یاد تھا۔ جہاں آراآپا کا دم بس غنیمت تھا۔ اُن کے بچوں کے ساتھ گھِستا گھِستا تا وہ پل گیا۔
اور جو کوئی یاد تھا تو سفید براق داڑھی والا وہ انسان جو ڈھاکہ کی علمی ادبی اور سیاسی شخصیت تھی۔ جو میر حبیب الرحمن کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھاجس کی آنکھوں میں ہمہ وقت اپنے اور غیروں کے لئے محبت کے سوتے اُبلتے جس کی آواز میں دبدبہ، گُونج اور کڑک ہونے کے ساتھ ساتھ محبت کی مٹھاس بھی گھُلی ہوئی ہوتی۔ وہ اِسی علم دوست اور باغ وبہار شخصیت کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔
اِس لمبی چوڑی ڈیوڑھی کے بائیں ہاتھ اُ س کا کمرہ تھا۔یہ کمرہ جو اب مقفل تھا۔ پہلے ہمیشہ کھُلا رہتا۔ صاف ستھراچاندنی کا فرش جس پر گاؤ تکیے رکھے ہوتے۔ پیچوان کی گڑگڑاہٹ اُونچی اور جوشیلی آوازوں کے ساتھ مل کر عجیب سا سماں پیدا کرتی۔ دروازے میں کھڑا ملازم چھوکرہ حکم بجا لانے کے لئے مستعد ہوتا۔ اِسی سرخ اینٹوں والے تھڑے کی سیڑھیاں چڑھ چڑھ کر ڈھاکہ کی نامور شخصیات اِس کمرے میں آتیں۔ چائے کا دور چلتا۔ اتوار کی صبح نہاری ہوتی۔سیاسی بحثیں طُول پکڑ جاتیں تو رات کا ایک بج جاتا۔ محفل شعر وسخن جمتی تو واہ واہ،سبحا ن اللہ کے نعروں سے پُوراگھر گونج اُٹھتا۔ اِن آنے والوں میں نُورالامین اور خواجہ ناظم الدین اُسے بُہت اچھی طرح یاد تھے اور یاد کیسے نہ ہوتے کہ وہ دونوں کی گو د میں بار ی باری ضرور بیٹھتا۔

وہ اگلے جہان کیا گیا کہ خُوشیوں کے ہنڈولے میں جُھولتا گھر دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔ اِس گھر کے اتفاق ومحبت کو جیسے کسی کی نظر کھا گئی۔ اس کے مرنے کے بعد کیا کچھ نہ ہوا۔ ابھی تو اُس کا کفن بھی میلا نہ ہوا تھا کہ جائیداد کے بٹوارے پر جھگڑے فسادشروع ہوگئے۔ اُس کی چار عدد بہنیں اپنے شوہروں سمیت اپنے اپنے حصے بخروں کے لئے اس گھر میں آ دھمکیں۔ ایسے ایسے دل دہلادینے والے منظر اُس کی آنکھوں نے دیکھے کہ کبھی وہ گھر کے کسی کونے میں منہ دے کر زار زاررو دیتا اور کبھی اُس کا جی چاہتا کہ وہ اِن سبھوں کوجو خونی رشتے کے ناطے اُ س کے بہن بھائی ہیں۔ مٹی کا تیل چھڑک کر بھسم کر ڈالے۔ وہ ابھی اتنا بڑا نہیں تھا۔ اتنا سمجھدار بھی نہ تھا۔ لیکن خودغرضی، فریب اور ریاکاری کے ایسے ایسے نمونے اُ س کے سامنے آتے کہ وہ بسا اوقات کڑھ کر اپنے آپ سے کہتا۔

”اِنہیں کیا ہوگیا ہے؟ اِن کی آنکھوں پر حرص وہوس نے کیسی پٹیاں باندھ دی ہیں کہ نہ تو اُنہیں اپنے اتنے بڑے باپ کا احسا س ہے اور نہ ہی یہ خیال کہ اُنہوں نے اپنے مرحوم باپ کی عظمت اورخاندان کا وقارسب اپنی اغراض کے لئے داؤ پر لگا دیا ہے۔ مجھے تو یوں جان پڑتا ہے جیسے اُن کا خون سفید ہوگیا ہے۔ اچھے بُرے کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔ میرے اللہ تو مہربا ن ہے اُنہیں ہدایت دے۔“
آج صبح ہی صبح اُس کی طبیعت سخت مکّدر ہوگئی۔ ابھی سُورج اچھی طرح نہیں نکلا تھا کہ اُس کی منجھلی بھاوج اور تیسرے نمبر کی بہن میں خوفناک قسم کی جنگ چھڑ گئی۔ جلتا بھُنتا وہ اپنے بستر سے اُٹھا اور باہر آگیا۔تھڑے پر بیٹھ کر اُ س نے گلی میں نظر دوڑائی۔ ابھی اُس کی چہل پہل اوررونق بحال نہیں ہوئی تھی۔ اِکاّ دُکاّ لوگوں کی آمدوروفت جاری تھی۔ اندر سے آوازوں کا شور گھٹنے کی بجائے بڑھ رہا تھااور وہ پریشان خود سے باتیں کئے جاتا تھا۔

امریکہ نے کتناظلم کیا تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم برسائے۔ بھولے بھالے معصوم جاپانیوں کو تباہ وبرباد کیا۔ میری مانتا تو ایک بم یہاں گراتا۔ اِس گھر کو کتنی اَشد ضرورت ہے کسی ایسی ہولناک تباہی کی جو اِس کے مکینوں کو موت کی میٹھی نیند سُلا دے۔ کیونکہ جیون کی سکون بھری نیندیں اُنہوں نے اپنے اُوپرحر ام کر لی ہیں۔ کاش میرے بس میں ہوتو اُ ن کے چیختے چلاّتے اور چنگھاڑتے گلوں میں لکڑیاں ٹھونس دوں کہ اُن کے گلے پھٹ جائیں اور اُن سے کوئی آواز نہ نکلے۔
لڑنے جھگڑنے والی کوئی بات تو نہ تھی۔

کل نور الزماں دیوان کے ہاں گھر کی سب عورتیں ولیمے کی دعوت میں شرکت کے لئے گئی تھیں۔ مگ بازار سے بابا کے چچیرے بھائی کا کُنبہ بھی آیا ہوا تھا۔ دیوان جی کی بڑی بہو اول نمبر کی کُٹنی اور چالباز عورت کتنی دیر جانے منجھلی بھابھی کے کان میں کیا کیا کانا پھوسیاں مارتی رہی۔ کِس کِس کے خلاف لگائی بجھائی کی کہ منجھلی بھابھی تو وہیں پھوں پھوں کرنے لگیں۔
تائی اماں نے کہا۔
”اے دلہن کاہے کو اتنا چلاّ چلّی کرتی ہو۔ آپے میں رہو۔
منجھلی بھاوج ایسی بیوقوف۔سمجھی سارا کیا دھرا نند کا ہے جس نے تائی اماں جیسی صُلح جُو قسم کی عورت کو اتنے سخت لفظ کہنے پر مجبور کر دیا۔ منہ بند اور پیٹ پھلائے جانے اُس نے را ت کیسے گزاری؟“
صبح شامت اعما ل سے نند کا چھوٹا بیٹا لڑھکتا لڑھکاتا اُس کے حصے میں آگیا اور پاخانہ کر دیا۔ اُونگھتے کوٹھیلے کا بہانہ جو شروع ہوئیں تو بھادوں کی بارش کی طرح رُکنے کانام نہ لیں۔
بڑے بھیا گھاٹ تک سیر کے لئے گئے ہوئے تھے۔ وہ واپس آئے تو گھر میں حشر کا سا سماں تھا۔ بہتیرا چُپ کروایا۔ پر منجھلی بھابھی تو اُس دن طعنوں کی توپ وتفنگ سے نند کو اِس طرح گھائل کر دینا چاہتی تھی کہ وہ دنوں اِس تواضع کو یاد رکھے۔

اُس نے گلی میں چاروں طرف پھر نظریں دوڑائیں۔ پھُول محمد کی دکان پر کافی بھیڑ تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچے گلاس ہاتھوں میں پکڑے گائے کا پاؤ پاؤ بھر دودھ لینے کے لئے کھڑ ے تھے اور ایک دوسرے سے پہلے لینے کے لئے حلق کی پوری آواز سے اُسے متوجہ کرنے میں مصروف تھے۔
عبد الرب اپنی سائیکل پر گزرا اور تازہ اخبار اُس کی طرف پھینکتا ہوا بولا۔
”خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا گیا۔“
اُس نے چونک کر اُسے دیکھا اوراخبار پکڑ کر اپنے گھٹنے پر پھیلاتے ہوئے تیز ی سے اُس پر نظریں دوڑائیں۔
پہلی شہ سُرخی اُس کی برطرفی کی تھی۔
”یہ بُہت غلط ہوا ہے۔“
اُ س نے اپنے آپ سے کہا۔
اور جب اُس نے خبر کی تفصیل اور اداریہ پڑھ لیا تب وہ دُکھ بھرے لہجے میں اپنے آپ سے بولا۔
”امن، سکون اور شانتی کیسے دُنیا سے اُٹھتی جارہی ہے؟ گھر ہوں یا مُلک ہر جگہ مال وزر کے حصول کی اندھی ہَوس اقتدار اور کُرسیوں کی تڑپ نے حق سچ کو تہہ تیغ کر دیا ہے۔“
اور اخبار اُٹھا کر جب وہ اندر گیا تو اُس کی بڑی سے چھوٹی بہن دُلدوآپا کے بچے بھی اُس خبر پر تبصرہ کر رہے تھے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply