• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لڑیں ضرور لیکن بے تیغ نہیں۔۔۔محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ

لڑیں ضرور لیکن بے تیغ نہیں۔۔۔محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ

پوری قوم ڈاکٹرز، پیرا میڈکس اور ہیلتھ کیئر سٹاف کیلئے ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ ہسپتالوں میں نیم فوجی دستے باقاعدہ انہیں سلامیاں دے رہے ہیں، راہ چلتے ڈاکٹروں کو روک کر پولیس اور رینجرز کے جوان دائرے بنا کے سلیوٹ پیش کر رہے ہیں۔ اداکار، گلوکار، میڈیا کے نمائندے اور عام عوام اپنے اپنے انداز میں خراج تحسین کے پیغامات ارسال کر رہے ہیں۔ سلامیاں دینا, سلیوٹ پیش کرنا اور خراج تحسین کے پیغامات دینا بجا طور پر درست ہے کہ قوم کے یہ مسیحا اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر وائرس کے شکار مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جو باآسانی اُن تک منتقل ہو سکتا ہے اور ہو بھی رہا ہے، لیکن کیا یہ زبانی خراج تحسین کافی ہے؟

ہم دعوے کر رہے ہیں کہ قوم کرونا کے ساتھ حالت جنگ میں ہے اور ہمارا یہ میڈیکل سٹاف فرنٹ لائن سولجر ہے،کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ کوئی فوج محاذ جنگ پہ بھیجی جا رہی ہو اور اسے ہتھیاروں کے بغیر ہی محاذ پر بھیج دیا جائے؟ مجھے میڈیکل کے ایک سٹوڈنٹ نے ایک ویڈیو بھیجی جس میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے معیار کے مطابق وائرس کے شکار مریضوں کے علاج کے لیے پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ (PPE) میں scrub، جوتوں کے اوپر shoe cover، اُس کے بعد اوپر نیچے دو decontamination suit، اُن کے اوپر surgical gown،ہاتھوں پر ڈبل surgical gloves، نیچے دوبارہ long shoe cover، چہرے پر N-95 ماسک اور اُس کے اوپر face shield۔ یہ ہیں وہ ہتھیار جو WHO کے مطابق فرنٹ لائن پر لڑنے والے اِن مسیحاؤں کو وائرس کے شکار مریضوں کے علاج کرتے وقت پہننا ہیں۔

میرے سامنے اس وقت آغا خان ہسپتال کی PPE سے متعلق ہدایات کھلی ہوئی ہیں جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ high risk areas یعنی جہاں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج ہو رہا ہو وہاں میڈیکل سٹاف N-95 ماسک، سرجیکل گاؤن، گاگلز اور closed work shoes کا استعمال کرے۔ ہر مریض کو دیکھنے کے بعد gloves تبدیل کیے جائیں اور گاؤن بھی اگر کوئی فلوئڈ گرنے سے گیلا ہو جائے تو تبدیل کیا جائے۔ آغا خان، شفا انٹرنیشنل اور قائداعظم انٹرنیشنل جیسے بڑے اور مہنگے پرائیویٹ ہسپتال تو اپنے سٹاف کو غالباً یہ ایکوپمنٹ مہیا کر رہے ہیں لیکن وائرس کا شکار کتنے مریض ہیں جو اِن ہسپتالوں کا رُخ کر رہے ہیں؟ اکثریت سرکاری ہسپتالوں میں جا رہی ہے اور وہاں میڈیکل سٹاف کے پاس ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

وفاقی وزیرِ کلائمیٹ چینج زرتاج گُل نے ڈیرہ غازی خان میں قائم قرنطینہ سنٹر کا دورہ کیا، وزیر صاحبہ کے ساتھ اُن کی ذاتی ملازمہ بھی تھیں ۔ دورے کے بعد اُن کی ڈاکٹرز کے ساتھ جو گروپ فوٹو شیئر ہوئی اُس میں وزیر صاحبہ اور اُن کی ملازمہ دونوں نے N-95 ماسک پہن رکھے تھے جبکہ ڈاکٹرز میں یہ سہولت کسی کو میسر نہ تھی اور تمام ڈاکٹرز نے عام سرجیکل ماسک پہن رکھے تھے۔ PPE میں شامل کوئی ایک بھی چیز اُن داکٹرز کے پاس نہیں تھی اور اُنہی میں سے دو ڈاکٹرز وائرس کا شکار بھی ہو گئیں۔ گلگت میں ڈاکٹر اسامہ ریاض تو علاج کے دوران وائرس کا شکار ہو کے اپنی جان بھی دے چکے ہیں۔ اِس وقت حالت یہ ہے کہ سیاستدان اور بیوروکریٹ آپ کو N-95 ماسک پہنے ہوئے نظر آئیں گے، میڈیکل سٹاف سرجیکل ماسک اور عام آدمی سڑک کنارے سے خریدا گیا سادہ کپڑے کا ماسک پہنے ہوئے ملے گا جس کی رتی برابر فائدہ بھی نہیں ہے۔ کپڑے کے ماسک کا نقصان البتہ ہو سکتا ہے۔

پنجاب کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر دوست بتا رہے ہیں کہ وہ بغیر PPEs کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جو ظاہر ہے کہ انتہائی خطرناک ہے۔ PKLI میں حکومتِ پنجاب نے خاصی معیاری PPEs مہیا کی ہیں لیکن باقی صوبے میں ہر ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر، DHQ ہسپتال کے ایم ایس اور فوج کے نمائندے پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد ضلع بھر میں PPEs کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے لیکن میڈیکل سٹاف PPEs کے حوالے سے شدید قلت کا شکار ہے۔ کوئٹہ سے ایک ڈاکٹر دوست نے بتایا کہ بلوچستان میں بھی میڈیکل سٹاف ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والے ایک دوست ڈاکٹر سے جب میں نے PPEs کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے بتایا کہ ہمارے پاس انتہائی محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔ میں نے اپنی معلومات کے لیے پوچھا کہ ایک PPE کتنی بار استعمال ہو سکتی ہے تو انہوں نے بتایا کہ اگر یقینی کرونا مریضوں کا علاج ہو رہا ہے تو ہر مریض کو دیکھنے کے بعد اس کا بدلنا ضروری ہے  ورنہ جب یہ گیلی ہو جائے یا واضح کندی نظر آنے لگے تو اس کا بدلنا ضروری ہے، مطلب دونوں صورتوں میں ایک PPE ایک بار کے لیے ہی قابلِ استعمال ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ میڈیکل سٹاف کو PPEs کی قلت کا سامنا ہے اور اگر میڈیکل سٹاف علاج کرتے وقت مناسب PPEs کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وائرس کا شکار ہو گیا تو کیا ہوگا؟ اِس پر انہوں نے کہا کہ یہ مشکل سوال ہیں، اِن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ نعرے ہم لگا رہے ہیں کہ ڈرنا نہیں، لڑنا ہے اور یہ ہے اُن سپاہیوں کی حالت جن کو ہم نے بے تیغ لڑنے کیلیے محاذ پر بھیج دیا ہے۔

وزیراعظم نے کرونا ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے جو مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں  گھر گھر راشن اور ضروری اشیاء فراہم کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔ یہ فورس رضاکاروں پر مشتمل ہو گی لیکن اس فورس کی سرگرمیوں، رجسڑیشن،  یونیفارم اور دیگر لوازمات پر اربوں روپے پھونکے جائیں گے اور پھر بھرتی ہونے والے رضاکار ناتجربہ کار بھی ہوں گے- ٹریننگ کے بغیر شاید وہ اتنے کارآمد بھی نہیں ہوں گے، اس فورس پر ایک بڑا بجٹ پھونکنے کی بجائے نیک نام این جی اوز سے رابطہ کیا جا سکتا تھا جن کے رضاکار ہر آفت میں کام آتے ہیں اور اس وقت بھی حکومتی گرانٹوں کا انتظار کیے بغیر اہلِ خیر کی مدد سے ایک بڑا امدادی پروگرام ملک کے ہر کونے میں شروع کر چکے ہیں۔ حکومت ان تجربہ کار رضاکاروں کی مدد سے کم بجٹ میں شاید زیادہ بہتر نتائج حاصل کر سکتی اور ٹائیگر فورس پر پھونکا جانے والا بجٹ میڈیکل سٹاف کو PPEs کی یقینی فراہمی پر لگاتی تو اچھا ہوتا۔  بے فائدہ فورس کھڑی کرننے پر بجٹ لگانے کی بجائے مقامی سطح پر PPEs تیار کرنے والی صنعتوں کو سہولیات دینے کا اعلان کر کے دن رات PPEs تیار کروا کے ڈاکٹرز کو اُن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے ۔

اِس وقت کرونا وائرس کا پوری دنیا شکار ہو چکی ہے اور امریکہ اور برطانیہ جیسی سپر طاقتیں بھی اس حوالے سے قلت کا سامنا کر رہی ہیں۔ اٹلی، جس کا ہیلتھ کیئر نظام یورپ میں بہترین سمجھا جاتا تھا، وہاں جو حالات ہیں ہم سب دیکھ اور سن رہے ہیں۔ WHO کے مطابق پوری دنیا کو میڈیکل سٹاف کے لیے ان ہتھیارون کی قلت کا سامنا ہے اسی لیے عالمی ادارے نے PPEs کے استعمال کے حوالے سے بہت جامع ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔   پوری دنیا کے لاک ڈاؤن میں چلے جانے سے ماحول بھی بہتر ہوا ہے۔ فضا میں آلودگی میں انتہائی کمی آنے کی وجہ سے زندگی میں پہلی بار صاف اور شفاف فضا دیکھنے کو مل رہی ہے۔ صنعت اور جنگیں رکنے کی بدولت پھٹی ہوئی اوزون لیئر بھی  ازخود بحال ہو رہی ہے۔  اس وائرس نے دنیا بھر کے ممالک خاص طور پر امیر ممالک کے نظام ہائے صحت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے ۔ دنیا کا طاقتور ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کر رہا ہے کہ ہم اس وبا سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ دنیا کو سمجھنا ہو گا کہ ہمیں جنگوں کی نہیں، امن کی ضرورت ہے۔ اسلحے کے ڈھیروں کی نہیں، تعلیم گاہوں اور ہسپتالوں کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کے قدرت کے اصولوں کے مطابق زندگیاں گزارنے کی ضرورت ہے، صرف اسی صورت میں  ہم ایسی وباؤں سے بچ بھی سکتے ہیں اور ان کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *