مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 1: لالہ صحرائی

قسط نمبر 1
حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ سوانح حیات حصہ اول

تحریر  لالہ صحرائی

tripako tours pakistan

تعارف اور حالات زندگی

Advertisements
merkit.pk

حضرت مولانا صاحبؒ کا اصل نام محمد، لقب جلال الدین ھے جبکہ رومیؒ کے نام سے مشہور ہوہوئے۔ آپ تقریباً آٹھ سو سال پہلے 30 ستمبر سن 1207ء کو بلخ میں پیدا ہوۓ، اور 17 دسمبر 1273ء میں 66 سال کی عمر میں ترکی کے شہر قونیہ میں وفات پائی، سن ہجری کے حساب سے 670 – 604 سنِ ہجری کا عرصہ بنتا ھے، لیکن ایک مستند جگہ پر سن وفات سن 672 ہجری لکھا گیا ھے۔ آپ کے والد شیخ بہاؤالدینؒ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد پاک میں سے ہیں، اور اپنے وقت کے مشہور عالم تھے جن کے حلقہء ارادت میں شہنشاہ وقت محمد خوارزم شاہ اور ایک مشہور بزرگ مولانا فخرالدین رازیؒ سمیت شیوخ اور علماء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ شیخ بہاؤالدینؒ کی شہرت اور علم و فضل کا چرچا جب حد سے بڑھا تو یہ بات حاکمِ وقت اور امام فخرالدین رازیؒ کو کچھ بارِ گراں محسوس ہونے لگی تھی، اسی بات کے پیشِ نظر کسی ممکنہ مد بھیڑ سے بچنے کے لئے شیخ بہاؤالدینؒ ترک وطن کر کے نیشاپور چلے گئے جہاں ان کی ملاقات تصوف پر مشہورِ زما نہ کتاب ”تذکرۃالاولیاء” کے مصنف خواجہ فریدالدین عطارؒ سے ہوئی جو ایک مثنوی اسرار نامہ کے بھی خالق ہیں۔ خواجہ فرید الدین عطارؒ نے مولانا کو دیکھ کر شیخ بہاؤالدینؒ سے کہا کہ اس بچے کی حفاظت کرنا یہ مستقبل کی بہت خاص شخصیت ہیں، اسی موقع پر خواجہ عطار نے مولانا کو اپنی مثنوی اسرار نامہ تحفے کے طور پر دی اس وقت مولانا کی عمر شریف چھ سال تھی اور یہ سن 610 ہجری کا زمانہ تھا۔ شیخ بہاؤالدین نیشاپور سے بغداد اور پھر شام ہوتے ہوۓ زنجان پہنچے اور آخر کار لارندہ میں مستقل سکونت اختیار کی، یہیں مولانا روم کی شادی کی گئی اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ مولانا کی تبحر علمی کا شہرہ چہار سو پھیلنا شروع ہو چکا تھا اور ہوتے ہوتے یہ بات حاکم وقت علاؤالدین کیقباد بن کیخسرو تک جا پہنچی، اس وقت روم پر سلجوقی خاندان کی حکمرانی تھی اور پایہء تخت قونیہ تھا، علاؤالدین کیقباد کی دعوت پر آپ قونیہ تشریف لے گئے اور باقی زندگی وہیں گزاری، آپ کا مزار شریف موجودہ ترکی کے شہر قونیہ میں ہی واقع ھے۔ اساتذہ اکرام : مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی تھی بعد ازاں اپنے والد کے شاگرد سید برہان الدین محققؒ سے مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جو ایک بلند پایہ عالمِ دین تھے۔ جب تک آپ کے والد حیات تھے آپ ان کی خدمت میں حاضر رھے، سن 629ء میں آپ کے والدِ گرامی کا وصال ہوا، اس وقت آپ کی عمر 25 سال تھی، والد کی وفات کے بعد آپ حلب تشریف لے گئے اور ایک مشہور تاریخی شخصیت مولانا کمال الدین حلبیؒ سے اکتسابِ علم کیا جو کہ تاریخ حلبی کے مصنف بھی ہیں۔ پیر رومیؒ کا تبحرِ علمی: حضرت مولانا روم اپنے عہد کے ایک بڑے عالم تھے، بڑے عالموں کا دستور تھا کہ جب وہ کہیں جاتے تو ان کے شاگردوں کا جمِ غفیر بھی ساتھ ساتھ ہوتا، ہر عالم کا قدکاٹھ اس کے شاگردوں کی تعداد، اس کے علمی مرتبے اور فتویٰ نویسی کی گہرائی پر ناپا جاتا تھا، مولانا روم قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور منطق پر بھی عبور رکھتے تھے اور ان کے فتاویٰ عصرِ حاضر میں اپنی مثال آپ تھے، آپ علمی تحقیق اور اس کی تعلیم و تدریس میں بھی یکتا تھے۔ اس دور میں عالم حضرات لمبے لمبے جبے اور دستاریں پہنتے تھے ایسی کہ جب وہ چلتے تو شاگرد حضرات ان کے جُبوں کے کونے اٹھا کر ساتھ ساتھ چلتے تاکہ وہ زمیں پر نہ لگیں، یہ عالمانہ پروٹوکول تھا جو عالم کی فضیلت وضع کرنے کے لیئے اس وقت دستورِ زمانہ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ حضرت مولانا روم کے تبحرِ علمی کا عالم یہ تھا کہ ایک بار کسی نے ایک مجمع میں کہا آپ چونکہ وعظ کی خوب تیاری کرکے آتے ہیں اس لئے اچھی تقریر کر لیتے ہیں، مزا تو جب ھے اگر فی البدیہہ بول کے دکھائیں آپ نے اس شخص کی بات سن کے فرمایا، ٹھیک ھے آپ کوئی موضوع بتاؤ میں اس پر بات کر لیتا ہوں، اس بندے نے سورۃ والضحیٰ کی تشریح بیان کرنے کی فرمائش کی جس کے جواب میں مولانا روم نے کہا، اس سورۃ پاک کا پہلا حرف “و” ھے میں آج اسی پر بات کروں گا کہ خدائے تعالیٰ نے یہاں “و” کیوں استعمال کی، پھر آدھا دن “و” کی تشریح میں لگا دیا۔ مجھے مولانا کے اس کلام کی تلاش تھی لیکن کسی تذکرے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں سوائے اس کے کہ جب چھ گھنٹے “و” کی تشریح میں گزر گئے تو بالآخر وہ بندہ اٹھ کر پاؤں پڑ گیا اور اعتراف کیا کہ اسے کسی حاسد عالم نے اس کام پر معمور کیا تھا۔ حضرت رومیؒ کے تبحر علمی کا مزید بیان آگے چل کر حضرت شمس تبریزؒ کے ساتھ ہونے والے مکالمات میں بھی آئے گا۔ حضرت شمس تبریزؒ : حضرت شمس تبریزؒ اپنی موج میں رھنے والے ایک تنہا شخص تھے، ان کا وطن تبریز تھا اسی نسبت سے تبریزی کہلاتے تھے، وہ خود بابا کمال الدین جُندیؒ کے مرید تھے لیکن آگے ان کا اپنا کوئی مرید نہ تھا حضرت شمس تبریز تاجرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور ہمیشہ منزل بمنزل محو سفر رھتے تھے، وہ انتہائی زِیرک انسان اور کامل ولی اللہ تھے، بے باک اور قلندرانہ مزاج رکھتے تھے، حضرت شمس تبریز کا آئی-کیو لیول جتنا اعلٰی تھا اور روحانی پرواز جس قدر بلند تھی اس کے پیش نظر مرید کرنے کے قابل نہ ہی انہیں کوئی پسند آتا اور نہ ہی ان کا کوئی مرید تھا، ان سے فیض اٹھانا کسی ہما شما کے بس کی بات بھی نہیں تھی شمس تبریز صاحب ایک دن اپنے مرشد کمال الدین جُندیؒ صاحب کے پاس گئے اور عرض کی کہ یہ جو اتنا کچھ مجھ میں بھر دیا ھے اسے میں کہاں لے کے جاؤں کوئی بندہ نظر ہی نہیں آتا، یہ سب کس کو دوں، اس دنیا میں کوئی اس کا اہل ھے یا مجھے یہ سب کچھ اپنے ہی ساتھ لے جانا ہوگا ؟۔ بابا کمال الدین جُندیؒ نے کہا ” شمس تم روم جاؤ، وہاں ایک جگر سوختہ شخص موجود ھے، اسے گرم کر آؤ” مولانا روم کے ایک خاص مرید سپہ سالار کے مطابق یوں کہا گیا ھے کہ شمس بابا نے دعا کی تھی کہ خدایا کوئی ایسا شخص عطا کر جو میری صحبت کا متحمل ہو سکے، اس پر انہیں غیبی اشارہ ہوا کہ قونیہ جائیں وہاں آپ کے مطلب کا ایک عالم موجود ھے۔ مولانا رومؒ اور شمس تبریزؒ کی ملاقات : مولانا روم اور شیخ شمس تبریز کی ملاقات ایک تصادم سے کم نہیں تھی، یہ واقعہ جتنا اہم ھے اتنا ہی اس میں تضاد بھی پایا جاتا ھے، یعنی اس ملاقات کے بارے میں تاریخ متضاد روایات بیان کرتی ھے تاہم سب ہی دلچسپ ہیں اور بزرگوں کے خاص ہتھیار جسے تصرف کہتے ہیں اس کے مظاہرے پر مبنی ہیں۔ میں تصرف کے اس ہتھیار کو بزرگانہ کرفیو بھی کہتا ہوں لیکن آپ کو میری بات پر نہیں جانا چاہیئے اسے کسی سلجھے ہوۓ انداز میں بیان کرنا ہو تو بزرگوں کی ویٹو پاور بھی کہا جا سکتا ھے۔ میں نے کرفیو لگانا اس لیئے کہا کہ صاحبانِ تصرف اس قوت کو اس وقت استعمال کرتے ہیں جب انہیں اپنی بات ہر قیمت پر منوانا ہو یا جہاں بات چیت سے میدان نہ جیتا جا سکے وہاں تصرف کر کے مرعوب کر لیا جاتا ھے۔ ایک دن مولانا روم اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک بڑے مجمعے میں ایک حوض کے کنارے رونق افروز تھے، ان کے ارد گرد کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا اور کسی مسئلے پر بڑی پُرمغز گفتگو جاری تھی، کہ اچانک مجمع کو چیرتا ہوا درویش مولانا کے سامنے جا کھڑا ہوا، اس ہلچل نے مولانا کی توجہ میں دخل ضرور دیا تھا مگر نووارد کی آمد پر نظر ڈالتے ہوۓ وہ بدستور بات جاری رکھے ہوۓ تھے کہ درویش نے اپنے قلندرانہ اسٹائل میں کتابوں کی طرف اشارہ کیا اور اپنا سوال داغ دیا “یہ سب کیا ھے؟” حضرت مولانا کا تبحر علمی اوپر واضع کیا گیا ھے یہ سب وہ علم تھا جو انہی کتابوں سے حاصل کیا گیا تھا، یہی بات مدِ نظر رکھ کر اور شمس بابا کی ظاہری حالت کو دیکھتے ہوۓ مولانا نے جواب دیا “یہ وہ کچھ ھے جو تیری سمجھ میں نہیں آ سکتا” شیخ شمس تبریز نے کتابوں کو دھکا دیا تو وہ سب حوض میں جا گریں، مولانا نے سخت افسوس کے لہجے میں کہا میاں درویش یہ تم نے کیا کیا، ان کتابوں میں ایسے نادر نکتے تھے جو اب ملنا محال ہیں، علم کا ایک نادر ذخیرہ تم نے ضائع کر کے رکھ دیا۔ (اس وقت کتابیں کچی روشنائی سے لکھی جاتی تھیں جو پانی سے دھل جاتی تھی، چھاپہ خانہ بہت بعد میں شروع ہواھے) کتابوں کے اس ضیاع پر مولانا کی افسردہ حالت دیکھ کر شمس بابا نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور سب کتابیں باہر نکال کے رکھ دیں، دیدنی صورتحال یہ تھی کہ سب کتابیں خشک حالت میں موجود تھیں اور ان کی تحریریں بھی محفوظ تھیں، مولانا نے انتہائی حیرت سے پوچھا کہ یہ سب کیا ھے؟ تب شمس بابا نے ری-ساؤنڈنگ جواب دیا کہ “یہ وہ کچھ ھے جو تیری سمجھ میں نہیں آ سکتا” تم ٹھہرے قال والے اور یہ معاملات حال کے ہیں، یہ کہہ کر درویش چل دیا اور مولانا روم درویش کے پیچھے پیچھے چل دیئے۔ دوسری روایت یہ ھے کہ شمس بابا کے اشارے سے کتابوں میں ایک بھیانک آگ بھڑک اٹھی مگر پھر مولانا کے احتجاج پر آگ بجھا دی گئی اور کتابیں سلامت رہیں۔ تیسری روایت یہ ھے کہ مولانا اپنے شاگردوں کے ساتھ نہایت تزک و احتشام کے ساتھ کہیں جا رھے تھے کہ شمس بابا سامنے آ کھڑے ہوۓ اور کہا کہ ایک سوال کا جواب دو، مجاہدہ اور ریاضت کا کیا مقصد ھے؟ مولانا نے جواب دیا کہ اتباع شریعت شمس تبریز نے کہا یہ تو سب ہی جانتے ہیں مگر اس کا اصل مقصد یہ ھے کہ وہ انسان کو منزل تک پہنچا دے پھر حکیم سنائی کا یہ شعر پڑھا ؎ علم کز تو ترا نہ بستاند —– جہل زاں علم بہ بود بسیار جو علم تجھے تجھ سے نہ چھین لے —– اس علم سے جہالت بہت بہتر ھے اس بات سے مولانا پر وجد طاری ہو گیا اور کہا سچ ھے کہ جو علم بندے کا اسٹائل چھین کر اسے اللہ سبحانہُ تعالیٰ کا فرمایا ہوا طور طریقہ نہ پہنا دے ایسے علم سے جہالت ہی بہتر ھے۔ ایک اور تاریخ دان نے لکھا ھے کہ ان سب واقعات سے بڑھ کر معتبر وہ واقعہ ھے جو سپہ سالار بیان کرتے ہیں اور اس کی وجہ اس واقعے کا مدلل ہونا اور علمی بنیاد پر ہونا ترجیحاً قابلِ ستائش ھے۔ سپہ سالار مولانا کے خاص مرید تھے اور تقریباً چالیس سال تک مولانا کی خدمت و صحبت میں رھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ برنج فروشوں (مٹھائی والوں) کی سراۓ کے پاس ایک چبوترہ تھا وہاں امراء اور عمائدین اکثر اکٹھے ہوا کرتے تھے جہاں علمی و ادبی گفتگو ہوا کرتی تھی، وہاں ایک دن شمس تبریز جو بابا کمال جندی کے مرید تھے وہ تشریف لاۓ۔ چبوترے پر محفل لگی ہوئی تھی، شمس بابا نے پوچھا، مولانا یہ بتائیں کہ بایزید بسطامی علیہ رحمۃ کے بارے میں یہ مشہور ھے کہ انہوں نے ساری زندگی خربوزہ نہیں کھایا اس لیئے کہ اس بات کی سنت نہیں معلوم کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خربوزہ کیسے تناول فرمایا، ایک طرف تو بایزید بسطامی کا اتباع سنت کا یہ جذبہ ھے اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ “سبحانی ما اعظم الشانی” (میں پاک ہوں اور میری شان بلند ھے) حالانکہ یہ شریعت اور سنت کے سخت خلاف ھے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اپنی مستند شانِ رسالت کے فرماتے ہیں کہ میں دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ اب بایزید بسطامیؒ کا سنت سے جو فرق ھے یہ کیسے منطبق کیا جاۓ جواب میں مولانا رومؒ نے فرمایا۔ “اگرچہ بایزید بسطامیؒ بہت پائے کے بزرگ تھے لیکن مقام ولایت میں وہ ایک خاص درجے پر ٹھہر گئے تھے اور اس درجے کی عظمت کے زیرِ اثر ان کی زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے تھے، جبکہ رسالت مآبﷺ منازلِ تقرب میں متواتر اعلیٰ مقام پر جا رہے تھے اس لئے جب بلند پائے پر پہنچتے تو پہلا پایہ اس قدر پست نظر آتا تھا کہ اس سے استغفار کرتے تھے” مولانا رومؒ کا جواب سن کر حضرت شمس تبریزؒ بہت خوش ہوئے، اس گفتگو کے بعد ان کی دوستی ہو گئی، پھر یہ دونوں صلاح الدین زرکوب کے حجرے میں چالیس روز تک چلہ کش رھے اس دوران سب کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور اس حجرے میں صلاح الدین زرکوب کے علاوہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 1: لالہ صحرائی

Leave a Reply