گھروندا ریت کا(قسط1)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اس  ناول کا پس منظر متحدہ پاکستان کی سر زمین ہے جو کبھی اپنی تھی۔اس میں سابق مشرقی پاکستان کی جھلکیاں یقیناً آ پ کو محظوظ کریں گی۔ یہ نچلے متوسط طبقے کی لڑکیوں کی نا آسودہ خواہشیں، حسرتیں، خوابوں اور ان کی تعبیروں کی وہ دل گداز داستان ہے جو   آپ کو احساسات و جذبات کی بہت سی کیفیات میں سے گزاریں گی۔ آپ دل گرفتہ بھی ہوں  گے اور انشااللہ  لطف بھی اٹھائیں گے۔

باب نمبر ۱:
بیوی نے ہاتھ پکڑ کر بٹھانا چاہا پر وہ تو اُس وقت تماشا دکھانے والے مداری کا وہ بندر بنا ہوا تھا جو غُصّے سے بَل کھاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے سے بندریا کا سر توڑ دینا چاہتا ہو۔ نفیس طلائی چوڑیوں سے سجے اُسکے سڈول بازو کو جو اُسے روکنے اور بٹھانے کے لیے آگے بڑھا تھا، بیزارگی سے جھٹک کر زہر بھرے لہجے میں بولا تھا۔
”مجال ہے جو تمہارا دماغ کبھی اِس گھمن گھیری سے نکل جائے۔ زبان ہے تو وہ کمبخت سان پر رکھی ہوئی ہے۔ دل گردہ بھی اتنا مضبوط نہیں کہ موقع محل ہی مد ِنظر رہے۔“
اس نے رُخ پھیرا۔ غصیلے چہرے اور سُرخ آنکھوں سے اُسے ایک بار پھر گھُورا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
اور وہ جو سُرخ اور سیاہ پھُولوں والی راجشاہی سِلک کی ساڑھی پہنے شانوں پر بوجھل سا جُوڑا ٹکائے بڑی تمکنت سے اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اُس نے مُضطرب اور خوف زدہ سی ہو کر اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دیکھا کہ کوئی ان کے درمیان ہونے والے اس جھگڑے اور گفتگو کو دیکھ اور سُن تو نہیں رہا تھا۔ پر کوئی اُن کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ کسی نے اُن کی باتوں کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

ہال کی Lights بُجھ چکی تھیں اور سکرین پر سینما میں چلنے والی اگلی فلم” The Gold Finger “کا اشتہار دکھایا جا رہا تھا۔ وہ قدرے پُر سکون ہوئی اس کے دونوں بچے داہنے ہاتھ کی سیٹوں پر بیٹھے شان کونری کو دیکھ رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ ابھی ابھی ما ں اور باپ کے درمیان کسی بات پر تُو تُو میں میں ہو گئی ہے اور باپ احتجاجاً اُٹھ کر چلا گیا ہے۔

اس کے دل سے ایک ہُوک سی اُٹھی ،جس نے اس کی آنکھوں کو نم کر دیا! چہرے پر یاس کا رنگ بکھیر دیا۔ لہجے میں درد کو گھول دیا۔اور جب وہ اپنے آپ سے یہ سب کہتی تھی اُس کی آواز تلخی سے بھری ہوئی تھی۔
اللہ مزاج ہے اِس کاٹھکانے۔ کیسے اِس خوبصورت شام کا ستیا ناس کر دیا ہے؟ کِس بیدردی سے میرے جذبات پاؤں تلے روند گیا ہے؟ میٹنگ پر جانے سے بھی روکا اور جو تفریح کے لیے لایا اُس کا بھی بیڑہ غرق کیا۔اُس کی خودکلامی نے اک ذرا توقف کیا پھر سلسلہ جاری ہو گیا۔

اوریہ دل گردے کی مضبوطی بھی خوب رہی۔ میں پُوچھتی ہوں وہ کونسی عورت ہے جس کا شوہر تاکا جھانکی کرتا پھرے اور وہ لبوں کو سیے بیٹھی رہے۔ اب سچی بات پر تو مرچیں لگنی ہی ہیں اور جو آن، عزت کا اتنا ہی خیال ہے تو آنکھوں کو گنہگار کرنے سے فائدہ۔

بات تو کچھ بھی نہ تھی بس اتنی سی کہ تھوڑی دیر قبل وہ آفس سے گھر آیا۔ گاڑی سے اُتر کر اندر آتے آتے اُس نے کوئی دس بار اُونچے اُونچے ”طاہرہ بھئی کہاں ہو؟“ کی صدائیں لگائیں۔ کچن میں دوپہر کے کھانے کو چیک کرتی طاہرہ بوکھلا کر بھاگی بھاگی لیونگ روم میں یہ کہتے ہوئے آئی۔
”کیا مسئلہ ہے؟“ اتنا کیوں چلّا رہے ہیں؟
”مسئلہ وسئلہ کچھ نہیں۔“ اُس نے بریف کیس ریک پر ٹکاتے ہوئے کہا۔
”میں ’مدھو میتا‘ میں میٹنی شو کے لیے ریزرویشن کروا آیا ہوں راجر مور کی ’فکشن میکر‘ بہت رش لے رہی ہے۔ کھانا کھانے کے بعد تم فوراً تیار ہو جاؤ۔“
”مائی گاڈ۔ آج تو مجھے اَپوا کی میٹنگ میں جانا ہے۔ ویسٹ پاکستان سے مسز سلیمہ احمد آ رہی ہیں۔“
”مسز احمد کو تو گولی مارو اور آج کی شام میرے ساتھ گزارو۔ شوہر کو بھی کسی کھاتے میں رکھ لیا کرو۔“
”کمال ہے۔سارا دن آپ اور آپ کے بچوں کے چاؤ چونچلوں میں گزرتا ہے اور ابھی بھی آپ کو وقت اور توجہ نہ ملنے کی شکایت ہے۔میں توتمہاری اِس میل ڈومینیٹنگ Male Dominating ذہنیت سے عاجز آ گئی ہوں۔“

واش بیسن میں ہاتھ دھو کر وہ کھانے کی میز پر آ بیٹھا۔ کھیرے کے قتلے کو منہ میں رکھتے ہوئے اُس نے ڈونگے میں سنگی مچھلی کو شوق و رغبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”سالن کی صورت بتاتی ہے کہ اِسے یہ رنگ و روپ مالکن نے دیا ہے۔“
بھات پر دو موٹے قتلے رکھتے ہوئے وہ اس کی طرف متوجہ ہوا جو بہت پھرتی سے میز پر کھانا لگانے میں مصروف تھی۔
”رحمٰن“ وہ ممیائی۔
”پلیز کینسل کر دو نا آج جانا۔“
”ہر گز نہیں۔“ اس کا انداز جیسے دھاڑنے والا تھا۔
بچے کھانے کے لیے ٹیبل پر بیٹھے اور انہوں نے فلم کا سُنا تو تالیاں بجاتے ہوئے ساتھ جانے کے لیے شور مچایا۔ ماں نے ڈانٹا اور پیار بھری خفگی سے کہا۔
”کوئی ضرورت نہیں۔ اچھے بچے فلمیں نہیں دیکھتے۔ ہوم ورک کرنا ہے۔“
پر باپ نے کہا۔ ”خیر ہے کبھی کبھی تفریح ہونی چاہیے۔“

وہ اہتمام سے تیار ہوئی۔ سُرخ اور سیاہ پھُولوں کی راجشاہی سلک کی ساڑھی اس پر بہت اچھی لگ رہی تھی۔ بوجھل سا جُوڑا اس کے گداز شانوں پر پڑا تھا۔ نفاست سے کیے گئے میک اپ نے چہرے کو دلآویزی دی تھی اور جب وہ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تو اس نے جوشیلی اور محبت کی بھرپور نظریں اس پر ڈالتے ہوئے کہا۔
”طاہرہ بس ذرا موٹاپے نے کام خراب کر دیا ہے وگرنہ۔۔۔۔“
اس نے اپنے شوہر کی بات سُنی اور گردن کو ادائے ناز سے اُس کی طرف جنبش دی۔
”مدتوں بعد میری تعریف میں تم نے کچھ کہنا چاہا بھی تو اُسے اُدھورا ہی چھوڑ دیا۔ بات تو پوری کرتے کہ مجھے بھی پتہ چلتا کہ میں کِس حسینہ ء عالم سے مماثلت رکھتی ہوں۔“
اس کے موٹے اور قدرے سیاہی مائل ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ پیدا ہوئی۔گاڑی کو چوتھے گئیر میں ڈالتے ہوئے اُس نے کہا۔
”تمہارا دماغ توپہلے ہی بہت آوٹ رہتا ہے۔ایسا کچھ خوبصورت ساسُن کر بات کہاں جائے گی؟“
اُس نے اِس بات کا بُرا تو منایا پر چہرے پر ناگواری کا کوئی تاثر پھیلنے نہیں دیا۔ شوہر کی عادت جانتی تھی۔

اور پھر وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلتے گیلری میں آئے اور اپنی نشستوں پر بیٹھے۔ بچوں نے بیٹھتے ہی ماں سے تلے ہوئے بادام (مونگ پھلی کے دانے) خریدنے کی ضد کی جنہیں ایک نو عمر لڑکا لکڑی کی ٹرے میں سجائے بیچ رہا تھا۔ اس نے تین چھوٹے پیکٹ خریدے۔ دو بچوں کو دئیے۔ ایک اپنے لیے بیگ میں رکھا۔ لڑکے کو پانچ کا نوٹ دیا اس سے بقیہ لیا اور جب وہ اس سارے کام سے فارغ ہو کر شوہر کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں طنزیہ مسکراہٹ تیر گئی۔ چند لمحوں تک اُس نے کمال تحمل اور صبر سے اس عمل کو دیکھا پھر جیسے ضبط کا یارا نہ رہا اور شوہر کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ جیسے پھٹ سی پڑی۔
”بس بھی کرو اب۔ کیا نگلنے کا ارادہ ہے اُنہیں۔“

واقعہ یہ تھا کہ بائیں طرف آخری سرے پر آٹھ دس شوخ و چنچل لڑکیوں کا ایک ٹولہ خوش گپیوں اور چہلوں میں مُصروف تھا۔چُلبلی لڑکیاں ایسی ایسی حرکتیں کررہی تھیں کہ ہال میں بیٹھے بیشتر لوگ اُنہیں ہی دیکھ رہے تھے۔ اُن کی وضع قطع سے اُس نے اندازہ لگایا تھاکہ ڈھاکہ ہولی کراس کونونٹ کی طالبات ہیں۔
طاہرہ سے نظریں چار کیا ہوئیں اُس کے تن میں جیسے آگ سی بھڑک اٹھی۔
”عجیب عورت ہے یہ۔آدھا ہال اُن کی طرف متوجہ ہے اور اِسے فقط میں ہی اُنہیں گُھورتا ہوا نظرآرہا ہوں۔
اُس کا دماغی میٹر گھوم گیاتھا۔ اپنے صحت مند جسم کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور اُسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا باہر نکل گیا۔ اس کا بھی جی چاہا کہ وہ اُسی وقت اُٹھے۔ دونوں بچوں کے ہاتھ پکڑے اور گھر چلی جائے۔

پر وہ چاہتے ہوئے بھی ایسا نہ کر سکی۔ وہ ایک ماں تھی جس کے پیش نظر اپنے بچوں کی خوشی تھی۔ دماغ میں غم و غصے کا لاوہ پکتا تھا۔ ہاتھ اضطراری حالت میں ادھر اُدھر حرکت کرتے تھے۔ آنکھیں سکرین پر جمی ہونے کے باوجود کچھ نہیں دیکھتی تھیں بس وہ کرسی میں پھنسی بیٹھی صورت حال پر پیچ و تاب کھاتی تھی۔

ریس کورس روڈ پر جگمگاتے ڈھاکہ کلب کے کمپاؤنڈ میں جب اُس نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی اور کھٹاک سے دروازہ کھولا تو نیلگوں روشنی میں ڈوبے لاؤنج میں درمیانی میزوں میں سے ایک پر بیٹھا بادل جو کوک ٹیل کے گلاس میں برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو شیشے کی سلاخ سے ہلاتے ہوئے اس موٹے تازے دیو ہیکل اٹیلیئن کی گفتگو کو بڑی محویت سے سن رہا تھا چونک پڑا۔
وہ تیز تیز چلتا ہوا آیا۔ خالی کُرسی پر دھم سے گرتے ہوئے اُس نے بغیر کچھ کہے کوک ٹیل کا گلاس بادل کے آگے سے اُٹھایا۔ لبوں سے لگایا۔ چند گھونٹ بھرے اور پھر اُسے میز پر رکھتے ہوئے بولا۔
”ایک ذہین اور تیز طرار بیوی بھی کسی خدائی عذاب سے کم نہیں۔“
بادل مسکرایا ضرور پر اُس نے کچھ پُوچھا نہیں۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ دونوں میں آج پھر کھٹ پٹ ہوئی ہے۔
دیو ہیکل ا ٹیلیئن اطالویوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا تھا۔ انہیں ذمہ دار اور فرض شناس ثابت کرنے کی کوشش میں اُس کا سُرخ چہرہ چقندر جیسا ہو رہا تھا۔
وہ کچھ دیر تک غایت سکون سے یہ لن ترانیاں سُنتا رہا۔ کوک ٹیل پیتا رہا اور جب معاملہ قوت برداشت سے بڑھ گیا۔ تب زہر بھرے لہجے میں بولا۔
”ذرا سنو اِس کی بکواس۔ اوّل نمبر کی چور اُچکّی قوم۔“

ٹیرس پر رقص شروع ہو گیا تھا۔ ساز تیز تیز بجنے لگے۔ قریبی میز پر بیٹھی ڈورتھی اور سروج شرما اُٹھ کر جانے لگیں۔ عبداللہ اور ونود بھی اُٹھ گئے تھے بادل بھی کھڑا ہو گیا اور اس سے بولا۔
”چلو نا ایک راؤنڈ ہو جائے۔“
اُس نے معذرت کی۔ ”یار دل نہیں کرتا۔“
اور جب بادل چلا گیا۔ اطالوی بھی اُٹھ گیا۔ میز خالی ہو گئی۔ تب خود کو کُرسی میں اور زیادہ ڈھیلا کرتے ہوئے اس نے غربی سمت پینس کھیلنے والوں کی ٹولی کو ایک نظر دیکھا اور پھر آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھا۔

”بھلا طاہرہ اس وقت کہاں ہو گی۔ سینما میں یا گھر پر۔“؟

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *