گستاخ طوائف

گستاخ طوائف ۔
اُس نے آتے ہی دہائی دی ۔
مولوی صاحب غضب ہو گیا،
میری جان کیوں نہ چلی گئی،
میری آنکھیں،میرا سر سلامت کیوں ہے؟۔
یااللہ مجھے معاف کردے ۔۔
مولوی صاحب اور حاضرین مجلس نے عجب بے قراری کے عالم میں رفیق عرف فقیریا سے پوچھا۔۔
او کچھ بتا بھی ہوا کیا ہے ؟
رفیق المعروف فقیریا ہاتھ جوڑ کر روہانسے انداز،میں گویا ہوا۔۔
وہ جی شمی بائی کے کوٹھے پر ایک لڑکی ہے سمیرا،
پیار سے لوگ اُسے سمو کہتے ہیں اُس نے مجھ سے سورہ یاسین لے کر اُس کی بے حرمتی کی ہے۔۔
فقیریے کیا کہ رہے ہو تمہیں ہوش تو ہے؟
مولوی صاحب نے َگرجدار آواز میں کہا۔
او جی میں وہاں اسلامی جنتریاں اور سورہ یاسین بیچنے گیا تھا۔
اُس رنڈی سمو نے سورہ یاسین لے کر پاؤں کے نیچے روند دی مولوی صاحب۔
فقیریے کے چُپ ہونے سے قبل ہی حاضرین مجلس میں سے دو نوجوان غصے سے تلملاتے ہوئے اُٹھے ۔
لیکن مولوی صاحب نے سب کو مخاطب کرکے کہا۔۔
کوئی شخص بھی شمی بائی کے کوٹھے پر نہ جائے جب تک میں اس معاملے کی تحقیق نہ کر لوں۔
یہ کہ کر مولوی صاحب نے دو معززین محلہ کو ساتھ لیا اور شمی کے کوٹھے پر جا پہنچے۔
شمی بائی نے مولوی صاحب کو بالا خانے کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر معاملے کی نوعیت کا اندازہ لگایا اور جلدی سے استقبال کیلئے آگے بڑھی ۔
لیکن مولوی صاحب نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا ۔
نہیں شمی بائی اُس لڑکی سمو کو لے کر آؤ جس نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی ہے ۔
شمی بائی نے مولوی صاحب کے سامنے آواز لگائی۔۔
سمو، نی سمو، باہر آ کلموہی تیرے گناہوں کے کفارے کاوقت آگیا ہے ۔۔
اگلے لمحے ایک سانولی سی ادھ کھلی پنکھڑی جیسی لڑکی مولوی صاحب کے سامنے کھڑی تھی۔۔
مولوی صاحب نے غضب ناک لہجے میں سمو سے کہا۔۔
تو نے ایسا کیوں کیا؟
شمی بائی نے آگے بڑھ کر کہا۔
مولوی صاحب
گستاخ یہ کلموہی نہیں بلکہ وہ فقیریا ہے جس نے آج کلام اللہ کے بدلے اس نصیب جلی سے جسم طلب کیا ہے۔۔
جس نے آج دروازے پر دستک دی۔
جب یہ دروازہ پر گئی تو اُس نے سورہ یاسین آگے کردی سمو بھاگ کر میرے پاس آئی کہ ہم ناپاک لوگ کلام مقدس کو ہاتھ کیسے لگائیں کہ ہمارے تو جسم کے ساتھ ساتھ روح بھی ناپاک ہے۔۔
بس اسی ادھیڑبن میں ہم نے فقیریے سے کہا کہ ان سب کی قیمت ہم سے وصول کر لو اور اِن کو مسجد میں رکھ دے۔
لیکن فقیریے نے جواب دیا کہ آپ یہ پیسے بھی رکھ لیں اار تمام سورہ بھی بس کچھ دیر کیلئے یہ سمو سے مجھے اپنی خواہش پوری کرنے دیں۔
مولوی صاحب ہم سب نے اُس کی اس بات پر جی بھر کر دھلائی کی اور وہ خبیث آپ سے جا کر ہمیں گستاخ بناتا رہا۔۔
فقیریا اُس دن کے بعد کبھی اُس کوچہ میں دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔۔

Avatar
محمد عمر عافی
آپ کے محروم قبیلے کا آپ جیسا فرد جو لفظوں کی جھیل کا ہلکا سا شناور ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *