دو ٹکے کا لڑکا۔۔محمد افضل حیدر

شام کو حمید صاحب کام سے فراغت پاکر گھر واپس آئے تو کھانے کے دستر خوان پر زویا کو موجود نہ پاکر مضطرب ہوئے۔
زویا کہاں ہے۔نظر نہیں آرہی؟
کالج سے واپس آنے کے بعد سے دروازہ بند کرکے بیٹھی ہے۔کہتی ہے میں نے آج دروازہ نہیں کھولنا۔تم لوگوں کو پرواہ نہیں میری۔
بیوی سکینہ نے روٹی کا ٹکڑا چباتے ہوئے انہیں جواب دیا۔
عجیب بات ہے!
انہوں نے کھانا وہیں چھوڑا اور زویا کے کمرے کی جانب چل دئیے۔
دروازہ کھولو زویا بیٹے!مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔؟
ایک دو بار دروازہ کھٹکھٹانے پر اس نے دروازہ کھول دیا۔
لو پگلی کہیں کی۔۔عجیب سا منہ بنا کر بیٹھی ہے۔چلو بتاؤ اپنے ابو کو کیا بات ہے۔
اگر آپ کو بتایا تو آپ مانیں گے بات؟
ہاں کیوں نہیں۔پہلے کبھی رَد کی ہے تمہاری بات جو اب کروں گا۔
ابو مجھے سیل فون چاہیے۔میری سب سہلیوں کے پاس ہے۔جب وہ اس حوالے سے باتیں کرتی ہیں تو مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔کلاس کا وٹس ایپ گروپ ہے ہم سب فیلوز نے نوٹس ایکسچینج کرنے ہوتے ہیں۔میری پڑھائی  کا بھی حرج ہو رہا ہے۔پہلے بھی آپ سے کئی  بار کہا,آپ نے بات نہیں مانی۔
بیٹا!بڑوں کے سامنے ضد کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔
ابھی ان چیزوں کا وقت نہیں آیا۔تھوڑا انتظار کرلو سب کچھ مل جائے گا۔ابھی اپنی پڑھائی  پر توجہ دو بس۔
ابو پلیز!آپ کو میری قسم!
میں فون کا بہت کم کم استعمال کروں گی,جسٹ اپنی پڑھائی  کی ضرورت پوری کرنے کے لئے۔قسم سے اب آپ نے فون لیکر نا دیا تو مجھے کچھ ہو جائے گا۔
اب تم مجھے بلیک میل کرنا بند کرو,اچھا! لے دوں گا فون۔۔اب خوش؟
یس، یہ ہوئی  نا بات۔اس نے باپ کے منہ سے ہاں سنتے ہی اچھلنا شروع کر دیا۔
شکریہ ابو۔۔آئی  لو یو۔۔آپ دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں۔۔تھینک یو سو مچ ابو۔

اگلے دن کی شام اس کے ہاتھ میں ایک مہنگے برینڈ کا موبائل فون تھا۔اس رات وہ مارے خوشی کے سو نہ  پائی ۔
وہ ایک مقامی پرائیویٹ کالج میں انٹر سال دوم کی طالبہ تھی۔کالج میں اس کا زیادہ تر وقت سہیلی ہانیہ کے ساتھ گزرتا۔ہانیہ کا والد ایک سرکاری دفتر میں بڑے عہدے پر کام کرتا تھا۔ہانیہ تراش خراش سے خاصی فیشن ایبل اور نئے خیالات کی لڑکی تھی۔زویا کو موبائل کے لئے اسی نے راغب کیا تھا۔ایک دن بریک کے دوران کینٹین سے برگر بوتل لیکر دونوں باسکٹ بال کورٹ کے ساتھ پڑی سیمنٹ کی بنچ پر جاکر بیٹھ گئیں۔ہانیہ نے دائیں جانب بیٹھی زویا کےکندھے کو دبایا اور کہا،سناؤ جانِ  من! تیرا جوائے بکس کیسا چل رہا ہے۔
ہانیہ کے چہرے پر بھولپن کا چھینٹا پڑ گیا۔کونسا بکس یار؟اس نے حیرانی سے پوچھا۔
میں موبائل کی بات کر رہی ہوں پگلی!اسے استعمال کرتی بھی ہو یا ایسے رکھ دیا ہے الماری میں؟
ہاں!بس ضرورت کے وقت استعمال کرلیتی ہوں۔کبھی کبھار کوئی  سونگ سن لیا یا پھر تم سے چیٹ کرلی۔اور میں نے کیا کرنا ہے اس کا۔آج کل اکثر سوچتی ہوں اس عام سی چیز کے لئے خواہ مخواہ ابو کو اتنا تنگ کیا۔
عام نہیں بہت کام کی چیز ہے میری جان!تم بور اس لیے ہو رہی ہو کیونکہ تمہارے پاس کوئی کھلونا نہیں ہے کھیلنے کے لئے۔
کھلونا مطلب ؟
اچھا اب زیادہ بنو مت۔
خیر! تمہارے لئے یہ پہیلی اور آسان کر دیتی ہوں۔چلو! یہ بتاؤ آج تک ان جھیل سی آنکھوں کو کوئی  اچھا لگا؟سچ سچ بتانا تمہیں میری قسم!ہنی نے جھٹ سے اس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوئے استفسار کیا:
کیسا بے تکا سوال ہے یار! اب بھلا اس بات کا موبائل کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے۔بات کو کہاں سے کہاں لے کر چلی گئیں  تم۔
تعلق ہے میری جان! تم نہیں سمجھو گی۔بس اب سب سچ سچ بتاؤ۔
ہاں! ایک ہے,مگر تمہیں کیوں بتاؤں؟
مجھے تو تیرا باپ بھی بتائے گا۔ابھی قسم نہیں اٹھائی  میرے سر کی,نہیں بتایا تو تیری اس پیاری سی سہیلی کو کچھ ہو جائے گا۔جلدی بتاؤ۔
یہاں کوئی  میڑک کی لڑکی ہےثمینہ  ۔اس کا بڑا بھائی  ہے۔ ۔بلال نام ہے اس کا۔بہت خوبصورت ہے قسم سے۔اس کی آنکھوں کو دیکھ کر جان نکلنے لگتی ہے میری۔ بہن کو بائیک پر چھوڑنے آتا ہے تو اکثر ہمارا کالج کے گیٹ پر آمنا سامنا ہو جاتا ہے۔میں دیکھتی ہوں تو نظریں چرانے لگتا ہے۔بس کہیں سے اس کا اور اس کی بہن کے نام کا پتہ چلا لیا۔اس سے آگے کچھ نہیں۔
ہائے ہائے میری چھمک چھلو!تم تو بڑی چھپی رستم نکلی۔اتنا بڑا کھلونا ہے کھیلنے کے لئے اور پھر کہتی ہو میرے پاس فون استعمال کرنے کا مقصد نہیں۔
مجھے اس کی بہن کی شکل دکھا دینا بس!آگے کا کام میرا۔دیکھنا تیری یہ دوست کرتی کیا ہے۔
اور ہاں! سیانے کہتے ہیں آج کا کام کل پر نہیں چھوڑتے بریک ختم ہونے میں ابھی دس منٹ ہیں۔لیٹ بھی ہوگئے تو میم عمارہ کو سنبھالنا میرا کام۔چلو میٹرک بلاک چلتے ہیں۔ثمنیہ سے ملنے۔
نہیں یار! مجھے ڈر لگتا ہے۔کسی کو پتہ چل گیا تو بہت بد نامی ہوگی۔
لو! بدنامی کس بات کی۔ہم نے کونسا ڈھنڈورا پیٹنا ہے اس بات کا۔ویسے بھی اتنا بڑی بات دل میں لئے پھرو گی تو بدنام ہونے سے زیادہ بیمار ہو جاؤ گی۔
تھوڑی دیر بعد دونوں میڑک بلاک میں تھیں۔ہانیہ نے زویا کو نیچے گراؤنڈ فلور پر ہی رکنے کو کہا اور خود میٹرک کلاسسز والے کوریڈور کی طرف چلی گئی۔کچھ ہی دیر بعد وہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
لو میری ہیر تمہارے رانجھے کا نمبر۔
ارے واہ! اتنی جلدی کیسے پہنچی اس تک؟اور نمبر کیسے ملا؟
کیوں بتاؤں۔تم آم کھاؤ پیڑ مت گنو۔وہ میرا کام تھا میں نے کرنا تھا سو کر دیا۔آج اپنے کمرے میں اوندھے منہ لیٹ کر اچھا اور رومینٹک سا پر فیوم لگا کر رابطہ کرنا اس کے ساتھ۔بس! پر فیوم اتنا رومینٹک ہو کہ خوشبو اُس تک جانی چاہیے۔
تم بھی ناں! جو کچھ منہ میں آتا ہے بولتی ہی چلی جاتی ہو۔اچھا دو نمبر جلدی سے,بریک ختم ہونے والی ہے۔
کیوں دوں نمبر۔اب تو میں خود بات کروں گی اُس سے۔ جیسا نقشہ تم نے اس کا کھینچا ہے,مجھے وہ خود اچھا لگنے لگا ہے۔
دفعہ ہو کمینی !خبردار اگر ایسی ویسی بات کی تو۔تمہارا تو وہ بھائی  ہے۔ہانیہ نے زور سے قہقہہ لگایا اور دونوں میٹرک بلاک سے باہر آ گئیں۔
رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ سب گھر والوں کے ساتھ بڑے کمرے میں بیٹھنے کے بجائے کل کے ٹیسٹ کی تیاری کا کہہ کر اپنے روم میں چلی گئ۔کچھ دیر تک اس نے فیس بک پر اس کی آئی  ڈئی  سرچ کرنے کی کوشش کی۔مگر پروفائل نا مل سکا۔اسی نمبر کا وٹس ایپ کنٹیک تلاش کرنے کا جتن کیا مگر وہ بھی نا مل پایا۔آخر اس نے بلال کو ایک ٹیکسٹ میسیج بھیجا۔
ہیلو!آپ کیسے ہیں؟
کچھ دیر انتظار کے بعد ،  بستر پر لوٹنے کے بعد اس کا جوابی پیغام آ گیا۔
جی میں ٹھیک۔۔آپ کون ؟
میں زویا!
کون زویا۔۔میں تو کسی زویا کو نہیں جانتا۔
جان بھی جائیں گے۔در اصل میں ثمینہ کے سکول میں پڑھتی ہوں۔سیکنڈ ائیر میں ہوں۔
او!اچھی بات ہے۔میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں۔ثمینہ سے بات کرنی ہے کیا ؟
نہیں۔۔بات آپ سے ہی کرنی ہے۔
جی کیجیے بات۔
آپ بہت خوبصورت ہیں۔
دیکھیں آپ جو کوئی  بھی ہیں۔میرے لیے قابل احترام ہیں۔میں خواتین کا بے حد احترام کرتا ہوں۔آپ مجھ سے اس طرح بات نہ کریں پلیز!
دیکھیں میرے جیسی لڑکی کے لئے کسی سے یہ بات کہنا بہت مشکل ہے,با خدا میرا یہ پہلا چانس ہے۔ایکچوئلی
میں آپ کو پسند کرتی ہوں۔آپ ثمینہ کو چھوڑنے آتے ہیں تو چوری چھپے دیکھتی رہتی ہوں آپ کو۔مجھے آپ کی آنکھیں بےحد پسند ہیں۔
“میرے لئے آپ کی سب باتیں حیران کن ہیں۔آپ برا مت منائیے گا۔مجھے یہ سب پسند نہیں۔یہ سب غلط ہے۔ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی اور نا محرم ہیں۔ہمیں اس طرح اپنے والدین سے چھپ کر انہیں چیٹ کرکے کسی بھی اجنبی سے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیں۔
مجھے اُمید ہے آپ میری باتوں کا برا نہیں منائیں گی اور انہیں مثبت لیں گی۔خدا حافظ ”

یار! کوئی  اتنا کھڑوس کیسے ہو سکتا ہے۔یہ تو ایک دم مولوی ٹائپ کا لڑکا ہے۔وہ کالج کینٹین کے سامنے سموسے کی پلیٹ ہاتھ میں پکڑے ہانیہ سے بات کر رہی تھی۔
تم فکر مت کرو میری جان!ایسے لڑکے شروع شروع میں اسی طرح ایٹیٹیوڈ شو کرتے ہیں۔آگے دیکھنا کس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلے گا۔مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے ان لڑکوں کو۔اس سے مسلسل رابطہ کرتی رہو خود بخود دلچسپی لینے لگے گا۔
تجھ میں کس چیز کی کمی ہے, ایٹم بم ہو قسم سے۔ایک بار دیکھے گا تو دیوانہ ہو جائے گا کمینہ۔بس آج رات پھر بات کرو اس سے اور ملنے کا پلان بناؤ۔
شب نو بجے کے قریب زویا کے ہیلو کے جواب میں اُس نے کچھ دیر بعد السلام علیکم! کہہ کر جوابی پیغام بھیجا۔
کیا آپ چاہیں گے کہ میں مر جاؤں اور اس کا الزام آپ پر لگے۔
تقریباً دس منٹ کے قیامت خیز انتظار کے بعد اس کا جواب کچھ یوں تھا۔اگر اتنا ہی شوق ہے تو مر جائیں۔ میں کیا کر سکتا ہوں۔
آپ اتنے خود غرض اور سخت دل کیسے ہو سکتے ہیں۔
سخت دل نہیں اُصول پسند ہوں۔مجھے جو بات اچھی نہ لگے اُسے برا کہنا اچھا لگتا ہے۔بس اتنی سی بات ہے۔
اس کا مطلب میں آپ کو اچھی نہیں لگتی؟
آپ کا کسی کو اچھا لگنا یا نہ  لگنا میرا مسئلہ نہیں ہے۔آپ یقیناً ہوں گی اچھی! لیکن مجھے اس سے کیا غرض ہو سکتی ہے۔
آپ اتنے بے رحم کیسے ہو سکتے ہیں۔کسی کے جذبات کی زرا قدر نہیں آپ کے دل میں۔میرے جیسی لڑکی کسی بھی لڑکے کا خواب ہوتی ہے۔
اچھا اس چیز کو تھوڑا آسان کر دیتے ہیں۔مجھ سے دوستی کرکے آپ کو کیا ملے گا۔شادی ہماری ہو نہیں سکتی۔نہ ہی کوئی اور شرعی یا جذباتی تعلق قائم ہو سکتا ہے۔پھر اتنا جتن کرنے کا کیا فائدہ؟
کیوں بھئ!شادی کیوں نہیں ہو سکتی۔آپ کیا اللہ میاں کو بتا کر آئے ہیں کہ میں نے زویا نام کی کسی لڑکی سے شادی نہیں کرنی؟
بتاکر تو نہیں آیا البتہ پتہ ضرور ہے کہ شادی میری ترجیح نہیں رہی کبھی بھی۔مجھے اپنی فیملی کے لئے بہت کچھ کرنا ہے ابھی۔ایسی باتوں کے متعلق سوچنے کے لئے وقت نہیں ہے میرے پاس۔آپ اپنا وقت ضائع کر رہی ہیں۔میں سچ میں آپ کے قابل نہیں ہوں۔امید ہے اب آپ رابطہ نہیں کریں گی۔

ہنی یار! یہ تو بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔کسی بھی طور پر ڈھب پر نہیں آرہا۔اس نے بلال کے آخری میسیج کے جواب میں ہانیہ کو پیغام بھیجا۔
ہمم تو یہ بات ہے۔عجیب سنکی آدمی ہے,حُسن دروازے پر دستک دے رہا ہے اور وہ دروازہ کھولنے کے لیے تیار نہیں۔ خیر!جتنی بات ہوئی  وہ یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ تم میں انٹرسٹ  لے رہا ہے۔بس سونے سے پہلے اُسے یہ آخری میسج کر دینا کہ کل ثمینہ کو چھوڑتے وقت کالج کے مین گیٹ کے سامنے تمہارے انتظار میں کھڑی پنک ڈوپٹے والی لڑکی کو ایک بار ضرور دیکھ لینا۔ہو سکتا ہے تم اپنی سوچ بدلنے پر مجبور ہو جاؤ۔

پنک ڈوپٹے والی لڑکی۔۔کیا مطلب۔۔کون کھڑی ہو گی وہاں؟
تم ہوگی اور کون۔ڈوپٹہ میں لے آؤں گی بیگ میں رکھ کر۔ بس! اچھی سے لپ سٹک لگا کر آنا۔پھر دیکھنا بھائی  صاحب کیسے لٹو ہوتے ہیں۔
صبح ساڑھے سات بجے دونوں کالج کے مین گیٹ پر کھڑی بلال کا انتظار کر رہی تھیں۔کچھ ہی دیر میں اس کی بائیک مین گیٹ کے سامنے آکر رُکی,اس نے جلدی سے ثمینہ کو گیٹ پر اتارا اور نظریں چرا کر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔زویا نے ساتھ کھڑی ہانیہ کو ہاتھ پر چٹکی کاٹی اور کہا: کہاں گیا تمہارا تجربہ میڈم!
اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر ہماری طرف نہیں دیکھا۔
کوئی  بات نہیں پریشان نہیں ہوتے۔اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔تمہارے رات والے میسج کا ری ایکشن ہے۔آج وہ ہماری طرف دیکھتا تو سیدھا سیدھا پیغام جاتا کہ وہ تمہارے حوالے سے سوچ رہا ہے۔ابھی بھی اٹیٹیوڈ چل رہا ہے۔ڈونٹ وری ہو جائے گا ٹھیک۔
بس اب تم نے اسے دو دن کوئی  میسیج نہیں کرنا۔اگر وہ کھیل کھیل رہا ہے تو ہمیں بھی کھیلنا چاہیے۔
دو دن کے بعد دیوار پر لگے کیلنڈر پر تاریخ بدلی تو اس نے ہنی کو میسج کیا۔
یار وہ بہت زیادہ ٹیڑھا ہے۔مجھے پتہ تھا اس نے مجھ سے رابطہ نہیں کرنا۔اس کمینے کی آنکھیں اتنی پیاری نہ  ہوتیں تو میں اس کے لئے اتنا بے تاب کبھی بھی نہ ہوتی۔
آنکھوں میں کیا رکھا ہے۔میری مانو تو چلتا کرو اُسے۔ دیکھ میرے والے کی تو آنکھیں بھی کچھ خاص نہیں پھر بھی میرا کام چل رہا ہے۔تم کالج کے گیٹ پر کوئی  اور پسند کرلو یامیں نمبر دے دیتی ہوں کسی کا۔یہ والا تیرے ہاتھ نہیں آنے والا۔
چل جا!ایسے مشورے اپنے پاس رکھ۔پہلے وہ صرف میری پسند تھا اب میری ضد بن چکا ہے۔اتنی جلدی اس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔تھوڑا انتظار اور صبر کر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اچھا بائے
ہائے بلال!اس نے اپنی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے اس رات اُسے میسج  کیا۔
کچھ دیر بعد اس کا جوابی پیغام آیا۔
وعلیکم السلام! جی فرمائیے۔
آپ سے ایک بات پوچھوں بُرا تو نہیں منائیں گے۔
اگر بات برا منانے والی نہ  ہوئی  تو ہرگز نہیں مناؤں گا بُرا۔
آپ اتنے کھڑوس کیوں ہو ؟
ہاہاہاہا بالکل بھی نہیں۔۔اُصول پسند آدمی کڑوا ضرور ہوتا لیکن کھڑوس نہیں۔۔خیر شکل سے ایسا لگتا ہوں کیا ؟
شکل سے تو نہیں۔۔عقل سے لگتے ہیں۔
اچھا آپ کو گھر میں سب سے زیادہ کون پیارا ہے۔
یہ کیسا سوال ہے بھئ۔۔جو کوئی  بھی پیارا ہے یہ میرا ذاتی معاملہ ہے آپ کو کیوں بتاؤں۔
دیکھا میں کہتی تھی نا آپ ہو کھڑوس۔۔بھلا ایسے جواب کی کوئی  تک بنتی ہے۔جو پوچھا ہے وہ بتا دیں بات ختم۔
مجھے میری امی !جان سے بھی زیادہ پیاری ہیں۔
اچھا !ان کے لئے کیا کچھ کر سکتے ہو آپ؟
جب کہہ دیا کہ جان سے زیادہ پیاری ہیں تو اندازہ لگا لو کہ کیا کچھ کر سکتا ہوں۔
اگر یہ بات ہے تو پھر آپ کو آنٹی کی قسم مجھ سے دوستی کرلو۔۔پلیز پلیز پلیز۔۔انکار  مت کرنا۔
آپ نے امتحان میں ڈال دیا مجھے۔۔دل کر رہا ہے آپ کے ساتھ بد تمیزی کروں مگر میری تربیت اجازت نہیں دیتی خیر بتاؤ کیا کرنا ہوگا اس دوستی میں مجھے ؟
مجھ سے شادی کرنا ہوگی اور کیا۔۔
یہ کیا بکواس ہے۔۔
اوہ سوری سوری۔۔بھول ہوگئی ۔۔ یہ بات تو کرنی ہی نہیں۔۔ پتہ نہیں کیسے بھول گئی۔
اچھا سیدھی سی بات ہے دوستی مطلب دوستی۔۔ ویری سمپل۔۔
مطلب ؟
ہممم مطلب مجھ سے روز رات کو بات کرنی ہوگی۔اور غصہ بالکل نہیں کرنا۔۔اور۔۔اور اپنا وٹس ایپ پہ اکاؤنٹ بنانا ہے۔۔اور ہاں فیس بک پہ بھی۔۔اور۔۔کچھ نہیں۔
باقی سب ٹھیک ہے۔بس روز بات نہیں کر پاؤں گا۔لیکن جب بھی فری ہوا ہماری بات ہو جائے گی,مگر صرف میسج پر۔۔
اور وٹس ایپ۔۔
ہاں وہ میں بنا لوں گا۔فی الحال نئے موبائل کے لئے پیسے نہیں ہیں۔
اچھا اب خدا حافظ!مجھے نیند آ رہی ہے۔
پلیز پلیز۔۔ایک بات رہ گئی  وہ کرلوں پھر سو جانا۔۔منڈے کو کالج گیٹ پر ثمینہ کو چھوڑتے وقت ایک نظر میری طرف دیکھ لینا۔۔پلیز۔۔نہیں تو آنٹی کی قسم دوں گی۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی آپ یہ سب کیوں کر رہی ہو۔۔خیر ٹھیک ہے۔میں پونے آٹھ تک پہنچ جاؤں گا۔لیکن میں آپ کو پہچانوں گا کیسے۔۔
ہاں یہ بھی ہے۔ ہمم۔۔اچھا میں میرون شال میں آؤں گی۔اور ہاتھ سے آپ کو اشارہ بھی کروں گی۔ بس ایک بار رج کے دیکھ لینا۔
اس دن کا سورج معمول سا تھوڑا روشن اور گرم تھا وہ اور اس کی سہیلی مین گیٹ کی ساتھ والی دیوار کے ساتھ دھوپ میں کھڑی ہو گئیں۔
اسی اثنا  میں وہ ہوا کے بگولے کی طرح وہاں آیا ایک لمحہ نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا,اور کھڑے پاؤں واپس پلٹ گیا۔زویا نے ہاتھ کے اشارے سے ہائے بولنے کی کوشش کی مگر وہ بغیر دیکھے وہاں سے واپس پلٹ گیا۔
رات کے سائے پھیلتے ہی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی  اور ہینڈ فری لگا کر ایک انڈین گانے سے حظ اٹھانے لگی۔
گانے کے ابتدائی  بول ہی سن پائی  تھی کہ وٹس ایپ میسج کی ٹون نے اس کی سماعتوں میں دخل اندازی کی۔اس نے چیک کیا تو وہ میسیج بلال کا تھا۔
آپ نے فون لے لیا؟زویا نے بغیر کوئی  لمحہ ضائع کیے اس سے پوچھ لیا۔
ہاں!کل سیلری ملی تھی اس سے کچھ پیسے بچا کر قسطوں پر لیا ہے موبائل۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ویسے ہے ناں حیرانی کی بات۔اتنے دن ہوگئے میں نے آپ سے یہ تک نہیں پوچھا کہ آپ کرتے کیا ہیں۔؟
شریف آدمی ہوں کوئی  نا کوئی  شرافت والا کام ہی کرتا ہوں گا۔
وہ تو آپ ہیں۔لیکن پھر بھی۔۔ابھی آپ نے سیلری کی بات کی کہاں جاب کرتے ہیں آپ۔
ایف ایس سی کے بعد پڑھائی  چھوڑ دی تھی۔ابو کی وفات کے بعد گھر کا سارا بوجھ میرے کاندھوں پر آن پڑا,اس لئے پڑھائی  جاری نہیں رکھ پایا۔ابھی ایک بھلے آدمی کے پاس ملازمت کرتا ہوں بہت خیال کرتے ہیں وہ میرا۔
سو سوری!انکل کا سن کر بہت افسوس ہوا۔اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔مجھے آپ پر فخر ہو رہا ہے کہ آپ اپنی فیملی کے لئے اتنا کچھ کر رہے ہیں۔
گھر میں سب سے بڑا ہوں,میں نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا۔
اچھا آج آپ نے پہلی بار مجھے دیکھا۔۔تو ؟
تو کیا ؟
تو کاطلب۔۔۔کیسی لگی میں ؟
پہلے تو یہ کہ میں نے آپ کو آج پہلی بار نہیں دیکھا۔میں پہلے بھی کئی  بار آپ کو دیکھ چکا ہوں,ثمینہ کو چھوڑنے آتا تھا تو رکشے سے اترتےوقت اکثر بے خیالی میں نظر پڑ جاتی تھی۔ہاں آج اتنا کنفرم ہوگیا کہ آپ وہ ہیں جس کو میں شکل سے جانتا ہوں۔رہی بات اچھا لگنے کی تو یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔میں نے کسی بھی لڑکی کے حوالے سے کبھی ایسا نہیں سوچا کہ وہ کیسی دکھتی ہے۔ویسے آپ بہت خوبصورت ہیں ماشا اللہ
ارے واہ! بڑے چھپے رستم نکلے۔چھپ چھپ کر جناب دیکھا کرتے تھے مجھے۔یہ تو میں جانتی ہی نہ تھی۔
اچھا !آج میں اتنی ہی بات کر سکوں گا میں نے امی کو کلینک پہ لے کر جانا ہے۔اس نے یہ آخری پیغام بھیج کر باتوں کے تسلسل کو توڑا۔
دن گہری نیند کے خواب کی طرح آئے گئے ہو گئے۔اس دن جب وہ ہانیہ کے ساتھ مین کینٹین کے سامنے سیمنٹ بینچ پر بیٹھی باتیں کر رہی تھی تو اس وقت اس کے اور بلال کے تعلق کو تین ماہ ہوگئے تھے۔وہ اس تعلق کو لیکر کچھ زیادہ مطمئن نہیں تھی اس کے نزدیک اس طرح کے ریلیشن شپ میں وہ مزہ  وہ تھرل اور وہ سسپنس نہیں تھا جو کہ موویز میں ہوتا ہے۔یہ تعلق پھیکا پھیکا سا اور ہر طرح کے جذبات و احساسات سے عاری تھا۔

ہاں زویا!کیسے چل رہی ہے تیری لو سٹوری۔ہانیہ نے اپنا دایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
بس ٹھیک ہی ہے یار!
بس ٹھیک ہے کا کیا مطلب؟تم اس کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہوکیا۔
کمفرٹیبل ہونا کوئی  بڑی بات نہیں ہے۔تین ماہ ہوگئے ہیں اب تک کہیں نا کہیں بندہ ہو ہی جاتا ہے کمفرٹیبل۔
یار! وہ بندہ ضرورت سے زیادہ نیک بننے کی ایکٹنگ کرتا ہے میرے ساتھ۔!آج کل کے دور میں ایسا کہاں ہوتا ہے کہ ایک خوبصورت جوان لڑکی ایک بندے پر دل و جان سے فدا ہو رہی ہے اور وہ آگے سے نخرے پہ نخرہ کر رہا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کے پیچھے مارے مارے پھرتے سنے تھے مگر یہاں تو دن رات میں اس کے پیچھے ہوں۔
اس کا ایک حل ہے میری جان۔۔تم اسے چھوڑ دو۔فضول کی پریشانی پال رکھی ہے تم نے۔
نہیں یار!میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی۔۔پتہ نہیں کیوں ہنی! وہ اس سب کے باوجود مجھے کچھ خاص برا نہیں لگتا۔۔ایک انس سا ہو گیا ہے اس کے ساتھ۔میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی,بس اتنا چاہتی ہوں وہ تھوڑا بے تکلف ہو جائے مجھ سے۔
لو! یہ کونسا مشکل ہے۔اس کا ایک حل ہے میرے پاس۔اسے ڈیٹ کی آفر کرو۔۔اگر مان جائے تو پھر دیکھنا کیسے ہوتا ہے تیری زلفوں کا اسیر۔۔
وہ نہیں مانے گا یار! میں جانتی ہوں اسے۔وہ اس ٹائپ کا نہیں ہے۔
تمہیں کیا پتہ لڑکوں کی ٹائپ کیا ہوتی ہے۔مجھ سے پوچھو یہ ٹائپ شائپ کے چکر۔ پتہ نہیں کتنوں کو نچایا ہے ان انگلیوں پہ۔تم آگ ہو آگ۔۔آگ موم کے پاس جائے گی تو بتاؤ کیا ہوگا۔۔
مجھے کیا پتہ کیا ہوگا۔
موم پگھلے گا میری جان!
اچھا میرے پاس ایک پلان ہے۔اس فن فئیر پہ تم اسے اپنی سالگرہ پہ بلاؤ۔۔پھر دیکھو کیسے دھماکا کرتے ہیں ہم لوگ۔لیکن 14 فروری کو تو میری برتھ ڈے نہیں ہے۔اس بات کا صرف تمہیں اور مجھے پتہ ہے اُسے تو نہیں۔اور ویسے بھی ہم کونسا سچ مچ برتھ ڈے منانے جا رہے ہیں۔
امی ابو اور بھائی  فن فئیر والے دن دادا جی کی برسی پر گاؤں جا رہے ہیں۔میں فن فئیر کا بتا کر نہیں جاؤں گی۔ابو مجھے کالج کے گیٹ پر چھوڑ کر گاؤں چلے جائیں گے اور۔۔اور کیا ؟
آگے کا پلان بہت ایڈونچرس ہے۔میں شرجیل کو کالج کے گیٹ پر آنے کا کہوں گی اس کے پاس گاڑی ہے۔وہ ہم دونوں کو گیٹ سے پک کرے گا اور ہم پندرہ منٹ میں میرے گھر پہنچ جائیں گے۔تم اپنے والے کو سیدھا گھر پر ہی بلا لینا۔پھر مزے ہی مزے۔ایک کمرہ تمہارا اور ایک میرا۔اس ویلنٹائن ڈے پر رومانس کے دریا بہا دیں گے۔
اُف میرے خدا!تم کتنا آگے کا سوچتی ہو۔اتنا رسکی کام میں نہیں کر سکتی۔سوری۔کسی کو پتہ چل گیا تو قیامت آ جائے گی۔
کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا یار۔ہمارے گھر والوں کو یہی معلوم ہوگا کہ ہم کالج ہیں۔باقی ہماری لیونگ ایک پوش سوسائٹی میں ہے وہاں سب کو اپنی پڑی ہوتی ہے کسی کو کچھ خبر نہیں ہوتی کون آرہا ہے اور کون جا رہا ہے۔وہاں ٹپیکل محلہ سسٹم نہیں ہے۔سب بہت ہائی  فائی  ہے۔
اب مزید کچھ نا بولنا۔بس! کل کالج آتے ہی مجھے خوشخبری سناؤ کہ تمہارے والا مولوی صاحب مان گیا ہے۔
صبح کالج کے گیٹ سے اندر آتے ہی گیٹ کے ساتھ بنے چھوٹے سے باغیچے میں بنچ پر بیٹھی ہانیہ نے زویا کو آواز دے کر اپنے پاس بلا لیا۔
چل اب جلدی سے مجھے خوشخبری سُنا۔مجھے ہاں کے علاوہ اور کچھ نہیں سننا۔
خوشخبری نہیں سُنا پاؤں گی یار! لاکھ جتن کئے مگر وہ نہیں مانا۔
واقعی؟؟چل کھا ماں کی قسم۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔
اگر اپنی قسم دیتی تو کھا بھی لیتی اب ماں کی بات کر رہی ہو تو پھر۔یسسس۔اُس نے بایاں بازو فضا میں لہراتے ہی اچھل کر ہانیہ کو گلے لگا لیا۔
تم سچ کہہ رہی تھی,تیری قسم وہ پورا پورا مولوی ہے۔ میں جانتی ہوں یا میرا خدا کہ میں نے اسے کس طرح منایا۔پوری رات منتیں کیں,قسمیں دیں تب جا کر حامی بھری اس نے۔
تین دن انہوں نے انگاروں پر لوٹتے ہوئے گزار لئے۔ 14 فروری کا دن قیامت کا انتظار بن کر آ ہی گیا۔سب کچھ پلان کے مطابق ہوا۔ہانیہ اور زویا اپنے اپنے وقت پر کالج پہنچیں۔کچھ دیر فن فئیر میں ہلہ گلہ کیا۔ہنی کا بوائے فرینڈ شرجیل گاڑی  لیکر آیا اور پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد تینوں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں قائم ہانیہ کے گھر پہنچ گئے۔
زویا نے رابطہ کرنے پر بلال کو وہاں کی لوکیشن بھیجی اور ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ اپنی پرانی سی موٹر سائیکل پر وہاں پہنچ گیا۔ہانیہ نے اسے گھر کے دروازے سے ریسیو کیا اور گائیڈ کرتے ہوئے گھر کے فرسٹ فلور پر لے آئی  جہاں ایک دلکش کمرے میں موجود زویا اس کے انتظار میں ایک ایک پل مشکل سے کاٹ رہی تھی۔
لال سکرٹ اور نیوی بلیو جین میں ملبوس اس وقت وہ ہر لحاظ سے ایمان شکن لگ رہی تھی۔کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ بیڈ کے ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر خاموش بیٹھے ادھر اُدھر دیکھنے کے بعد بولا:سالگرہ کی تقریب کب شروع ہوگی زویا؟
مجھے دکان سے صرف ایک گھنٹے کی چھٹی ملی ہے۔تقریب بس ابھی شروع ہو جاتی ہے۔وہ یہ بولتے ہوئے دھیرے دھیرے اس کے قریب آئی  اور اس کو گردن سے پکڑ کر اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔بلال نے خود کو سنبھالتے ہوئے اسے پیچھے کی جانب دھکیلا تو وہ بے توازن ہوکر بیڈ پر گر گئی  ۔
یہ کیا کر رہی ہو تم۔بند کرو یہ گھٹیا حرکتیں۔وہ اس کی جانب دیکھ کر چلایا۔
کیوں بند کروں نامرد ہو کیا؟ جب دیکھو خود کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہو۔میں جوان ہوں,خوبصورت ہوں,بتاؤ کیا کمی ہے مجھ میں۔وہ غصے سے بے قابو ہو رہی تھی۔
شرم و حیا کی کمی ہے تم میں۔۔وہ حیا جو ایک عورت کا اثاثہ ہوتی ہے۔اس کے والدین کا مان ہوتی ہے آج وہ مجھ جیسے دو ٹکے کے لڑکے پر لٹا رہی ہو۔وہ یہ سنتے ہی ایک دم بیڈ پر سے اٹھی اور کسی بھوکی شیرنی کی طرح اس پر لپک پڑی,اسے شرٹ کے کالر سے پکڑ کر بیڈ پر گرا لیا, اپنی دائیں ٹانگ اس کی ران پر رکھ کر دبوچنے لگی۔وہ خود کو سنبھال کر اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش میں تھا کہ اسی دوران اس کے سر کے پاس پڑے موبائل فون نے پھڑ پھڑانا شروع کر دیا۔غصے سے جھلائی  ہوئی  زویا کی نظر جب اس کی موبائل سکرین پر پڑی تو سامنے نظر آنے والے منظر نے اسے چکرا کر رکھ دیا اور بے ساختہ اس کے منہ سے صرف یہی لفظ نکل پایا۔
“ابو”
وہ جھٹ سے اس کے اوپر سے اتری اور اس کا گریبان پکڑ کر ہواس باختہ سی ہوکر چلائی ۔تم ابو کو کیسے جانتے ہو؟ ان کی کال کیوں آرہی ہے تمہیں؟
ابو؟حمید صاحب تمہارے ابو ہیں؟اس نے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے اس سے پوچھا:
ہاں!مگر تم انہیں کیسے جانتے ہو۔تمہارے پاس ان کا نمبر اور تصویر کہاں سے آئی ؟
اگر سننے کی ہمت ہے تو سنو۔وہ روہانسا ہو کر گویا ہوا:
محسن ہیں وہ میرے۔کام کرتا ہوں میں ان کے پاس۔
جان پہچان نہ  ہونے کے باوجود مجھے کام پر رکھا انہوں نے,آج اگر میرے گھر کا چولہا جل رہا ہے,ثمو شہر کے مہنگے سکول میں پڑھ رہی ہے اور امی کا علاج چل رہا ہے تو صرف ان کی وجہ سے۔مجھے صدمہ ہے اتنا قیمتی آدمی ایک دو ٹکے کی بیٹی کا باپ ہے۔تمہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔میں غریب اور بے آسرا ضرور ہوں مگر بے غیرت نہیں۔وہ خود کو سنبھالتے ہوئے وہاں سے اٹھا, دروازے کی کنڈی کھولی اور تیزی کے ساتھ سڑھیاں اتر گیا۔

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *