” رب” کو کسی بھی طرح راضی کریں۔۔۔جمال خان

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل میں جارہے تھے ،انہوں نے ایک چرواہے کی آواز  سنی،وہ کہہ رہا تھا،”اے میرے جان سے پیارے خدا،تو کہاں ہے؟۔۔میرے پاس آ،میں تیرے سر میں کنگھی کروں،جوئیں نکالوں،تیرا لباس میلا ہوگیا ہے،اُسے دھوؤں،تیرے موزے پھٹ گئے ہیں ،انہیں سی دوں،تازہ تازہ دودھ پلاؤں،تو بیمار ہوجائے تو تیری تیمارداری کروں،اگر مجھے معلوم ہو کہ تو کہاں ہے،تو تیرے لیے روز گھی اور دودھ لایا کروں،میری سب بکریاں تجھ پہ قربان۔۔اب تو آجا!

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے قریب گئے  اور اس چرواہے سے دریافت کیا کہ تم کس سے باتیں کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنے اللہ سے مخاطب ہوں جس نے ہمیں پیدا کیا اور زمین اور آسمان تخلیق فرمائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم شرک بک رہے ہو ۔ اپنا منہ بند رکھوم، تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے ۔ وہ ایسی خدمت سے بے نیاز ہے۔ چرواہا یہ سن کر از حد نا دم ہوا ۔ اس نے اپنے کپڑے پھاڑے اور جنگل کی جانب بھا گ نکلا۔ا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور شکوہ کیا کہ تم نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کر دیا ہے۔ تجھے دنیا میں اس لیے بھیجا گیا تھا کہ تم ہمارے بندوں کو ہمارے ساتھ ملاؤ، لیکن تم نے ہمارے بندوں کو ہم سے جدا کرنے کا وطیرہ اپنا لیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کی ناراضی محسوس کی، تب وہ اس چراوہے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر چرواہے سے کہا کہ تمہیں اجازت ہے تم   جس طرح چاہو اس سے مخاطب وو، اس سے التجا کرو۔

دوستو!

ہمارا      رب ہم سے روٹھ گیا ہے ۔ہم نے اپنے رب کو شدید ناراض کردیا ہے۔ہمارا رب اتنا ناراض ہوگیا ہے کہ اس نے اپنے گھر کے دروازے ہی ہم پر بند کردیے۔ہم ا نے اسے اتنا ناراض کردیا کہ اس نے اپنے “گھر”خانہ کعبہ پر ہی تالا ڈلوا دیا ۔ہم سے عمرہ کی سعادت ہی چھین لی، مساجد کو ہی ویران کردیا ۔۔نماز کے لئے بلانے والے مؤذن کو اذان کی نعمت سے محروم کردیا ۔

ہماری دکھاوے اور نمود و نمائش کی جھوٹی عبادتوں ،دکھاوے کے نیکی کے کاموں پر آخر اس نے شدید ناراض تو ہونا ہی تھا ۔
ہم زمین پر اکڑ اکڑ کر چلنا شروع ہوگئے تھے ہم نے خدائی اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی ہم اس زعم میں مبتلا ہوگئے تھے کہ ” اب ہم بہت قابل ہوگئے ہیں ،ہم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ہمیں کسی ” خدا” کی ضرورت نہیں۔

ہم سانئس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اتنے آگے چلے گئے تھے کہ اب ہم خدا کی بنائی گئی کائنات میں بھی اپنی مرضی سے تبدیلیاں لانے لگے تھے اور اس خوش فہمی کا شکار ہو گئے تھے اب انسان ہی ” خدا “ہے ۔۔

ہم نے ظلم وستم اور درندگی کی وہ داستانیں رقم کیں کہ پوری کائنات لزر کے رہ گئی ۔
ہاں رب ناراض ہے ہم سب سے کہ ہم نے گناہوں کو ایک نئی جدت  دی، ہم نے کبیرہ گناہوں کی بڑے فخر سے پوری دنیا میں تشہیر کی ۔ہم نے شراب کباب عیش و عشرت زنا اور برائی کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرڈالے۔۔
رب ہم سے کیوں ناراض نہ ہو کہ ہم نے ان “دانشوروں پر تعریف وتحسین کے پھول برسائے جو کہتے ہیں ۔نعوذباللہ خدا تو مرچکا ہے ۔
کون سا خدا ؟ خدا کمزور ایمان اور عقیدوں والوں کے لئے ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ۔

آؤ ! اس سے پہلے کے خدا توبہ کے دروازے ہم سب پہ بند کردے ۔اس سے پہلے کہ ” صور”کی صدا بلند ہو ،آؤ !اس سے پہلے کہ خدا ہم نافرمانوں کو اس حالت میں میدان حشر میں جمع کرکے ہمارا اعمال نامہ ہمارے ہاتھوں میں تھما دے ،جس میں شرمندگی اور ذلت کے سوا کچھ نہ ہو ۔آؤ، اپنے رب سے صبح وشام اپنے تمام گناہوں کی معافی طلب کریں اس کے آگے گڑگڑا کر توبہ کریں ۔۔

آؤ! اس چرواہے کی طرح ہر وہ عمل کریں جس سے ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے، ہم سے خوش ہوجائے ۔۔ اپنی ذات کو چوبیس گھنٹے اس کی ذات کے ساتھ منسلک کردیں ۔

آئیں ! اسے اپنی ترجیح اوّل بنالیں ۔۔آئیں ایک نئی صبح کا آغاز کریں ۔آئیں آج سے اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ آئیں آج سے اس کی عبادت کا حق ادا کریں ۔  ۔کہ وہ ہمیں معاف کرکے ہماری مسجدوں مندروں گرجا گھروں کی رونقیں واپس لوٹادے، ہمارے مکہ مدینے کے دروازے کھول دے۔آؤ اس سے توبہ کریں کہ وہ ہمیں صبح سویرے پرندوں کی خوبصورت آوازوں سے دوبارہ نواز دے بلبل کی صدا پھر سے کانوں میں رس گھولنے لگے۔
آؤ!اسے راضی کریں کہ ہمیں اپنے بچوں کی صبح سویرے سکول جاتے وقت کی پیاری پیاری معصوم شرارتیں لوٹا دے،آؤ معافی مانگیں کہ صبح کے وقت رزق کی تلاش میں گھروں سے نکلنے والوں کے منظر سے یہ آنکھیں پھر سے آشنا ہوں۔
آؤ   اس سے رو رو کر معافی مانگیں کہ  دنیا کے نظام کو پھر سے جاری وساری کردے ۔
یارب ہم سے راضی ہوجا!
ہم ظالم! تمھاری ان آیات کو بھول گئے تھے۔
ترجمہ۔۔ ہمیں کیا پڑی ہے کہ کسی کو عذاب دیں تکلیف دیں۔۔۔اگر تم ہمیں یاد کرنے والے ہو اور ایمان رکھتے ہو ،ہم پر تو ہمیں کیا پڑی ہے کہ کسی کو عذاب دیں۔ اللہ تو یاد قبول کرنے والا ہے، علم والا ہے۔[ سُوۡرَةُ النِّسَاء: 147 ]

آؤ اس چرواہے کی طرح ہر وہ عمل کریں ۔۔اپنے سوہنے رب کے ساتھ دل کی باتیں کریں اسے لاڈ پیار سے معصوم بچوں کی طرح پکاریں اسے خوش اور راضی کرنے کے لئے ہر وہ کام کریں جو اسے  پسند ہے تاکہ وہ ہم سے پھر سے راضی ہوجائے اور آئیں رب سے التجا کریں کہ ہم صراط مستقیم پر چلنے کا عہد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں ،اپنے اعمال پر شرمندہ ہیں اور تیری ذات سے بخشش کی توقع رکھتے ہیں ۔۔ اے ہمارے رب ہمیں اس آزمائش سے نجات دلادے ۔۔پوری انسانیت ” رب کریم” آپ کے “کُن” کی منتظر ہے ۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *