محبت۔۔محمد اسلم خان کھچی

سیاست پہ لکھتے لکھتے ایک تھکن کا سا احساس ہونے لگا ہے۔۔۔ وہی روز  کی فرسٹریشن ،وہی روز کی لعن طعن۔
سوچا کوئی اور موضوع تلاش کیا جائے۔ بہت سوچ بچار کے ایک ایسا موضوع تلاش کیا ہے جو میری اپنی زندگی کا مشق ستم رہا ہے ،” محبت ,عشق, جنون “۔۔محبت چونکہ ایک لافانی جذبہ ہے اسے بیان کرنا انتہائی مشکل ہے، لیکن پھر بھی انتہائی کوشش کی ہے کہ آپ کی سوچ کے معیار پہ پورا اتر سکوں۔
بابا بلھے شاہ نے کیا خوب فرمایا ہے
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی
رانجھا میں وچ ، میں رانجھے وچ ، ہور خیال نہ کوئی
میں نہیں اوہ آپ ہے اپنی آپ کرے دل جوئی
جو کوئی ساڈے اندر وسّے ، ذات اساڈی سو ای
ہتھ کھونڈی میرے اگے منگو ، موڈھے بھُورا لوئی
بلّھا ہیر سلیٹی ویکھو ، کتھّے جا کھلوئی
جس دے نال میں نیونہہ لگایا ، اوہو جیہی ہوئی
تخت ہزارے لے چل بلھیا ، سیالِیں ملے نہ ڈھوئی
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی

پاکستانی شاعر امجد اسلام امجد نے کسی وجدانی لمحے میں کیا خوب کہا ہے”جو کچھ بھی ہے سب  محبت کا پھیلاؤ ہے “۔
خدا محبت ہے اور اور محبت میں رقابت برداشت نہیں کی جا سکتی۔محبت کا ہر تجربہ خدا کے تجربے کا پیش خیمہ ہے،۔ آرٹ, موسیقی, شاعری میں انسان کا اعلیٰ  ترین سرمایہ محبت ہی کا ثمر ہے۔ ایک نظر محبت کے گیتوں ,ترانوں,فلموں,افسانوں ,شعروں اور محبت کی کہانیوں پہ ڈالیے تو یقین آ جائے گا کہ انسان محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

گود سے گور تک محبت ہی انسان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ سچی محبت کی طاقت کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جب سچی محبت جاگ اٹھتی ہے تو دراصل وہ آپ کی ملکیت نہیں ہوتی, آپ اسکی ملکیت ہو جاتے ہیں۔

محبت کو اس بات کی ضمانت درکار ہوتی ہے کہ محبوب کیلئے آپکی طلب دوسری ہر طلب سے بالاتر ہو۔ یہ محبت کی آزمائش کا اہم ترین پیمانہ ہے۔
اگر آپ محبت کو محسوس کر سکتے ہیں تو آپ اللہ رب العزت کی فطرت کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔اللہ رب العزت کو بھی کوئی رقیب پسند نہیں۔

محبت کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور اس آزمائش میں محبت کو ہر چیز پہ فوقیت دینی پڑتی ہے۔ محبت انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ اسکا اظہار انسانی رشتوں میں ہوتا ہے۔ اللہ کئی پہلوؤں سے ہماری زندگی میں شامل ہوتا ہے ۔وہ نظر آئے بغیر ہمیں تھامے رکھتا ہے۔ دانش کی انتہا بھی محبت ہی ہے جو معرفت عطا کرتی ہے۔ یہ عظیم الشان محبت کی کارفرمائی ہے۔

وکی پیڈیا محبت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے
“محبت گہری ذاتی وابستگی کا شدید جذبہ ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے محبت ایک انسانی قدر ہے جو انسان میں مروت اور شفقت کی خصوصیات کا اظہار کرتی ہے۔ مذہبی حوالے سے محبت محض ایک قدر ہی نہیں بلکہ وجود کی اساس اور قانون الہی کی بنیاد ہے۔
محبت کو ایک حیوانی جبلت کے طور پر بھی مانا جاتا ہے۔
آپ محبت کے تجربے کو تین مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں جو کہ تینوں آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ مراحل, ہوس, کشش اور لگاؤکے ہیں۔ محبت کیلئے فارسی میں”عشق” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ عشق دوستوں, اہلخانہ ,شوہر, بیوی ,محبوبہ سے ہوتا ہوا آخرکار عشق الٰہی تک جا پہنچتا ہے جو انسان کا مقصد حیات ہے۔

مسلمان صوفیا اپنی شاعری میں اکثر اللہ پاک کا ذکر تین طرح سے کرتے ہیں۔ عاشق, محبوب اور معشوق۔لیکن اسکے ساتھ ساتھ انسان کی جنسی جبلت پر شدید ترین پابندیاں بھی لگاتے ہیں۔
یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ” ہوس اور محبت” دراصل ایک ہی تسلسل کے دو نام ہیں۔ یہ ایک حقیقت کے دو انتہائی کنارے ہیں جنہیں دونوں طرف سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک انتہا پر جسمانی مشقت ہے تو دوسری انتہا پر ماورائے جسم آرزو, یا روحانی لگن۔ اس رشتے کی بنیادی تکمیل اگرچہ مرد و عورت کے جسمانی ملاپ سے ہوتی ہے لیکن اس راستے میں بیشمار تاثرات اور باہمی تعلق کے لاتعداد امکانات موجود ہیں۔ اس محبت کے تسلسل کے سب سے پست درجہ , جہاں محبت صرف جسمانی اظہار کا نام بن جاتی ہے۔ یہ عارضی, ناپائیدار, اور گمراہ کن ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ انسان کو ہوس کے راستوں کا شکار بنا دیتے ہیں۔ اس سلسلے کے  بلند مرتبےوہ ہیں جو جسم کی ضرورت سے بالاتر ہوتے ہیں۔

اعلیٰ  ترین محبت ابدی ہوتی ہے ،جو آرائش ذات اور تکمیل ذات کا سبب بنتی ہے۔ اصل میں محبت تکمیل ذات ہی ہوتی ہے۔ یہ اسکے انتہائی  مقامات یعنی مثبت اور منفی کناروں کا اظہار کرتی ہے۔ اس میں محض جسمانی سطح سے چمٹ جانا آپکی شخصیت کو داغدار کرتا ہے اور شخصیت کی نشوونما میں شدید رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

کوشش کیجیے کہ آپکی محبت تکمیل ذات کا سبب بنے ،ناکہ داغدار شخصیت کا موجب۔ ۔۔۔ تکمیل ذات کی محبت آپکو اللہ کا قرب عطا کرتی ہے، معرفت عطا کرتی ہے۔ محبت کیجیے لیکن محبت کی اصل معراج کو سمجھتے ہوئے۔۔ ۔ہو سکتا ہے کوئی ایک پل محبت کا آپکی محبت کو حقیقی محبت سے روشناس کر دے۔
اللہ رب العزت آپ سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔ آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *