خط۔۔محسن علی

ہاں مجھے یاد ہے وہ وعدے سارے کہ کہیں پہاڑوں پر ہم لکڑی کا گھر بنائیں گے ، مجھے یاد ہے جو نقشہ ہم نے  ترتیب دیا تھا، ٹیرس میں دو کُرسیاں و میز جس پر شام میں چائے پیتے لُطف اندوز ہوں گے،بالکل یاد ہے میں اُس کشتی کے ساتھ دوُر سے تمہارے پاس  آیا تھا اور کشتی دیتے ہوئے تمہاری انگلیوں کا لمس محسوس کیا تھا، فکر اس لئے تھی کیونکہ تمہیں  پہلی بار دیکھتے ہی محبت کی شدت پیدا ہوگئی تھی ،ایک جھلک میں مگر کشتی اُٹھا کر دینے میں جس  وقت تُم پر نگاہ پڑی تو سمجھو میری  آنکھوں میں تمہاری وہ تصویر کلک کر گئی ،کیمرے کی مانند وقت بیت گیا، افسوس کہ بالوں میں سفیدی آگئی،میں نہ  لوٹ سکا ۔۔ہاں ایک سال کے اندر بال گرنے  لگے ۔۔یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میں پہلا مرد تھا، شراب و موسیقی کا شوق، روزگار کے  چکروں   میں  یہ خواب شرمندہ ء  تعبیر نہ ہوسکا ،اب تک ، ہاں مجھے  پراندے ،کنگن و ساڑھی دینے تھے ،مگر تمہیں  نہیں پسند اور اب میں شاید چاہ کر بھی نہ دے سکوں ، تُم درست کہتی تھیں  ،ظالم سماج نے ہم دونوں کو جُدا کرڈالا ،ہاں جیسے جسم کے اندر سے روح نکال کر بے جان کردیا ہو ، دوست کہتے ہیں کہ جو تم ہنستے ہو، تُم جھوٹے لگتے ہو محسن۔۔ تُم کھوکھلی ہنسی ہنستے ہو، تم  وہ  نہیں ہو جو ظاہر کرتے ہو ۔

ہاں، میرے نوحے کی سمجھ کیسے آئیگی، نوحہ تو اب تمہاری آنکھوں میں ٹھہر گیا ہے ۔تُم بھی ٹھیک کہتی ہو سب ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا ۔

تم اب بھی خواب میں آتی ہو، درد سناتی ہو ،کبھی ہنساتی ہو، میں نے دیکھا ہے میرے شانے پر سر رکھ کر جب تم روتے سے مسکراتی ہو ، تمہاری اَنا تمہیں روکتی ہے ،میرا راستہ ایک اس نے ہی روکا و جدا کیا تھا، سماج کے درمیان ایک تلوار کی مانند ، یہاں بادل نہیں گرج رہے ،یہاں گرمی ہے ،شاید یہ گرمی تمہاری  آنکھوں میں صحرا کی تپش کی طرح میرے جسم کو لگتی ہے اور جب کبھی موسم اچھا ہو یا پھوار ہو ہلکی سی، تمہاری یاد بہت شدت سے آتی ہے، کاش کہ تم پاس ہوتیں ایک ساتھ ہم بھیگتے  اور آئس کریم بھی کھاتے۔

تمہارے خط کا جواب طویل نہیں ہوا مگر تمہیں  خط لکھتے لکھتے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، زندگی رہی تو ملاقات ہوگی ،اُس لکڑی کے گھر میں جو ہمارا سپنا ہے ۔ اب تو سارے رنگ بے معنی بے وقعت لگتے ہیں ،تمہاری دوری سے شاید لال رنگ میں ملنے کی آرزو لیے دُنیا سے رخصت ہوجانا ہے، مگر لکڑی کے گھرمیں چائے کی چُسکی کے خواب کو شاید پورا کرجاؤں ۔۔

فقط

تمہارا۔۔۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *