نگاہ۔۔مختار پارس

نہ خواب میرے،نہ حقیقتیں۔۔ مگر دونوں کا دیکھنا فرض ۔ خواب نہ دیکھیں تو سراب تک دکھائی نہیں دیتا اورحقیقت سے آنکھیں چرائیں تو وقت کا سیلاب رہنے نہیں دیتا ۔ نہ سوال کی کوئی حیثیت ہے اور نہ جواب کی۔۔ مگر دونوں زیست کے لیے لازم۔ سوال نہ پوچھنے والوں کو منزل نہیں ملتی اور جواب نہ سننے والوں کو مقام۔ جو کر گیا اس کا کسی پر احسان نہیں،جو نہ کر سکا وہ کسی کا قرض دار نہیں۔ وقت کا سیل رواں کسی کا نہیں مگر ہر رونما، کبھی قطرہ، کبھی گہر، کبھی بادل کبھی کہر۔

لوگ ہیں کہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ زندگی میں اصرارکی گنجائش نہیں۔ جس کو جو نظر آتا ہے، وہی اس کا سچ ہے۔ کسی کا سچ شیشے کا اور کسی کا پتھر کا، مرد کی نشانی یہ ہے کہ وہ کسی آبگینے کو ٹوٹنے نہ دے۔ جو نہ تسلیم کرے اور نہ تصدیق، اس کے اظہار سے کوئی معانی نہیں نکلتے۔ وہ چاہے اپنے سچ کے پتھر سے کسی کا سر پھوڑ دے یا کسی طوفان کا رخ موڑ دے، حاصل کچھ نہیں ہو گا۔ ہمدم دیرینہ کی آنکھوں میں الفت دیکھنے کی تمنا ہے تو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، صرف اسی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے جو اسے ہمدم دیرینہ بناتی ہے۔ صرف نگاہ ہے جو انسان کی تعمیر بھی کرتی ہے اور انسان کو تسخیر بھی کرتی ہے۔

جو نظر آتا ہے وہ کافی نہیں ہوتا۔ بصارتوں کی حدود مقرر ہیں۔ کسی کو چار دیواری سے باہر دیکھنے کی اجازت نہیں۔ کسی نے اپنے گاؤں سے باہر کی دنیا نہیں دیکھی۔ کوئی ملک ہی کو اپنا خدا سمجھتا ہے۔ بصری حدود میں مقید لوگ کیا دیکھ سکتے ہیں اور کیا بتا سکتے ہیں۔ لوگ گندگی کے ڈھیر پر بیٹھ کر سمجھتے ہیں کہ یہی سنگھاسن ہے۔ جس آنکھ کو سوچنے کا ہنر نہیں آتا، وہ چاہے کچھ بھی دیکھے، سب جھوٹ ہے۔ سچ سوچنے سے ثابت ہوتا ہے اور سوچ اصرار نہیں انکار کرتی ہے۔ میرا قصور مجھے دیکھنے والوں کو نہیں، مجھے سوچنے والوں کو معلوم ہو گا۔

اگر مجھے شب ہجراں میں دود چراغ سجھائی نہیں دیتا تو اس میں چراغ جلانے والے کا کوئی قصور نہیں۔ اگر میں عالم فراق میں اٹھنے والی ٹیس سے واقف نہیں ہوں تو پھر محبت کا دعویٰ فضول ہے۔ مجھے اگر وہ نگاہ اٹھائے  بغیر نظر نہیں آتا، تو پھر میری نگاہ میں فتور ہے۔ محبت نظر اٹھا کر دیکھنےکی محتاج نہیں ہوتی۔ اندھیرے طاق دل میں رکھے دیے کہاں دیکھ سکتے ہیں۔ اندھیروں کو صرف اندھیرے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

مالک نے کچھ دیکھ کر ہی مجھے تقویٰ کے حصار سے نکالا ہو گا۔ میرا جام سفال میرے ہونٹوں سے چپک جاتا ہے۔نہ گردش دوراں کی پیاس بجھتی ہے اور نہ آتش لذت جان و جسم۔ راستہ ایسا دشوار ہے کہ دیکھ کر چلوں تو ایک قدم نہیں چل پاتا اور آنکھیں بند کر کےقدم اٹھاؤں تو رک نہیں پاتا۔ نہیں معلوم کہ کب تک مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ میں وہی ہوں جسے حکم سفر ملا تھا۔ فاصلے میری آنکھ سے نکل کر رستوں پہ بکھرتے جاتے ہیں اور میں خود گردِ راہ بن کر ذرا دیر کو اٹھ کر پھر اپنی ہی روح میں سمٹ جاتا ہوں۔ اگر کوئی یقین مجھے اس سفر کا نقیب بنا کر رواں رکھتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ جس نے مجھے اس سفر پر روانہ کیا ہے وہ دیکھ رہا ہے۔

وہ دیکھ رہا ہے کہ کس نگاہ میں کون محترم ہے اور کس ناظرنے اپنے انداز بصارت میں تیرگی کی تلواریں دھر رکھی ہیں۔ جو دل کی آنکھ سے دیکھ نہیں پاتا، اسے کیا حاصل؟ چشم خیال کا بھی اعتبار نہیں۔ لوگ دیکھتے ہوئے  احتیاط نہیں کرتے کہ نگاہ غلط انداز سے فصیلیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ آنکھوں میں نفرت کا ذرا سا احتمال عمر بھر کی ریاضت کو دھواں کر دیتا ہے۔ بےکس کی نگاہوں کی ایک جھلک پاؤں جکڑ لیتی ہے۔ مگر سوچ کے دروازے کھول کر اپنے باہر دیکھنے کا رواج نہیں رہا اور آنکھیں پڑھنے والے لوگ اب نہیں رہے۔ انسان کتنا ہی بڑا مفکر کیوں نہ ہو، آنکھیں جسم و جاں کا ساتھ نہ دیتی ہوں، تو کوئی ان پسِ مژگاں چھپی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتا۔

دامنِ دل تار تار ہو جائے گر فسانہ فسوں پر نظر اٹھا کر نہ دیکھے۔حکایات میں اگر کردار نہ ہوں تو پھر کہانی کس موڑ پر جا کر رکے اور کوئی اس سے کیا سبق سیکھے؟ داستان میں رنج و الم بہت ضروری ہے۔ یہ سچ ہے کہ کردار نظر نہیں آتا مگروہ راست کے نیزے پر سوار ہوتو نظر آتا ہے۔ ہزار سال کا سفر بھی اس نقطہء عمیق کو مرکز نگاہ بننے سے مانع کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ دور اندیش وہی کہلاتا ہے جو سورج کو اپنے اندر طلوع کر لیتا ہے اور اپنے ارد گرد اندھیرے نہیں ہونے دیتا۔ نہ جانے یہ نشیلی آنکھوں والے دور اندیش کیوں نہیں ہوتے۔ نہ جانے ان کے آنگن میں صرف چاند کیوں طلوع ہوتا ہے۔ چاندنی رات میں دور تک کہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

دور وہی دیکھ سکتا ہے جسے اپنے گمان پر یقین ہو۔ یقین مرنے نہیں دیتا اور بکھرنے نہیں دیتا۔ گمان کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا اور الجھنے نہیں دیتا۔ زندگی کو چلتے رہنے دینا ہی زندگی ہے۔ کوئی امید کا دیا جل اٹھے، کوئی مسکرا دے، کوئی سکون کا سانس لے سکے اور وجہ آپ ہوں تو یہ نگاہ ہے۔ جو کرامت کسی کے سر پر ہاتھ رکھنے سے ملتی ہے وہ ریاضتِ نیم شب سے بھی نہیں ملتی۔ سجدے میں سر جھکتا ہے تو آنکھیں چار ہوتی ہیں۔نگاہ یار میں جو التفات ہوتا ہے وہ کسی نظر میں نہیں ہوتا، وہ بیمار بھی کر دیتا ہے اور شفا بھی دے دیتا ہے۔ حاصل زندگی بس اک محبت ہے۔

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *