احمد شمیم کی وجہء شہرت۔۔ساغر جاوید

آزادی کے ان ساٹھ برسوں میں شاعری پر جو باتیں ہوئی ہیں ان میں جس نظم کو ادبی مباحث میں سب سے زیادہ  جگہ ملی، اس کے لکھنے والے ترقی پسند نظم نگار تھے اس کی واضح وجہ یہ بھی تھی کہ ترقی پسندی  ہماری زبان کی تخلیقی سرگرمیوں کے ایک بڑے عرصے پر محیط رہی دوسرے غزل کے مقابلے کو بطور ہیئت مقبول بنانے کی جس تحریک کا آغاز محمد حسین آزاد اور مولانا حالی کے لیکچر اور تحریروں سے ہوا تھا، ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر وہ نظم نگاری اپنے عروج پر پہنچ گئی، یہ نظم اگر ایک طرف اپنے ہیتی  تجربوں کی بنا پر اپنے خدوخال کی صورت گری میں مصروف تھی تو دوسری طرف اپنے موضوعات اور اظہار کےمختلف پرائے بھی اپنا رہی تھی۔

ادبی تاریخ میں زندہ رہ جانے کی توثیق پانے کی حسرت لیے کتنے ہی ادیب پیوندِ خاک ہو گئے لیکن ان کا یہ پیوندِ خاک ہو جانا بھی کبھی کبھی ادب کی اگلی فصلوں کے لئے کھاد کا کام کرتا ہے۔ایک قابلِ ذکر عرصہ گزرنے کے بعد کسی کتاب یا ادب پارے کے بارے میں مشہور کردیئے گئے یا رائج کر دیئے گئے کلشے سے ہٹ کر معروضی انداز میں اس سے متعلق تجزیاتی بحث میں حصہ لینا چاہیے اگر ہم شاعر احمد شمیم کی سرگرم سیاسی اور ادبی عملی زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے پہلے مجموعہ “ریت پر سفر کا لمحہ” کی ترقی پسند ادب کر مروجہ ادبی نظریے اور ہدایتوں کو نظر انداز کرنے کا ردِ عمل کہنے پر اصرار کرتے ہیں

احمد شمیم۳۱ مارچ ۱۹۲۷ کو ہندوستان کے شہر سری نگر میں پیدا ہوئے۔اُن کے والد کا نام زرگار اور والدہ کا نام زینب زرگار تھا اپنی ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول سری نگر میں ہی حاصل کی۔پرتاب کالج سری نگر سے ایف۔ایس کی اور قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔راولپنڈی میں قیام کیا اور گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم۔اے کیا۔ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے اور پھر ۱۹۵۶،میں محکمہ اطلاعات میں انفرمیشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔بعد میں اس محکمے کے ڈائریکٹر بھی بنے۔

ادب سے لگاؤ اور لکھنے کا شوق طالبِ علمی کے زمانے سے ہی تھا۔اپنے اندر پلنے والے جذبات کو احسن انداز میں تحریروں کی شکل دی۔احمد شمیم کا نام جدید اُردو نظم کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے۔
احمد شمیم نے جس صنفِ سخن کو برتا خوب برتا۔ہر جگہ ان کا خوبصورت شائستہ اسلوب نمایا ہے۔بقول سجاد حیدر ملک
“شمیم نے اتنا پڑھ رکھا تھا کہ کئی کتابیں ان کے اندر جذب تھیں یونانی، دیو مالائی داستانیں، یورپی ادب، لوک ادب، پاکستانی کشمیری اور مشرقی وسطی کے مقالات و جدوجہد یہ سب کچھ ان کے شعور میں رچا ہوا تھا”۔

احمد شمیم کا شمار چند ان ادبی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے بیک وقت دو یا دو سے زائد زبانوں میں شاعری کی۔احمد شمیم کی وجہ مقبولیت اُن کی نظم گوئی بنی۔زندگی کے نشیب و فراز میں جو حالات درپیش آئے اُن کو اپنی نظموں میں قلم بند کیا۔

احمد شمیم اپنی والدہ بے حد محبت کرتے تھے لیکن اپنی والدہ سے جدا ہونے کے بعد پھرکبھی اُن سے نہ مل سکے۔احمد شمیم اپنی نظم “جیون کا دُکھ دیکھ لیا” میں کہتے ہیں کہ والدہ کے میکے کے سبھی افراد مکان گرنے سے ہلاک ہو چکے تھے اور کشمیر کی آزادی کے لئے شمیم کی سیاسی سرگرمیاں آئے دن سری نگر میں اُن کی گرفتاری کا سبب بنی رہتیں۔ جس کی وجہ سے احمد شمیم کی  والدہ چپ چاپ اور سہمی ہوئی رہتی۔۱۹۴۸،میں مسلسل پولیس تشدت اور پے در پے جیل بھیجے جانے سے مجبور ہو کر سری نگر میں اپنی والدہ اور دیگر گھر والوں کو خیر آباد کہا اور اکیس سال کی جواں عمر میں ہجرت کر کے پاکستان میں کشمیر کی آزادی کےلئے میڈیا کے ذریعے جدوجہد کرنے چلے آئے۔وہ اپنی والدہ کو پھر کبھی نہ مل پائے اور والدہ پندرہ طویل برس بیٹے کی جدائی سہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ والدہ کی وفات نے احمد شمیم کو بہت متاثر کیا۔اپنی والدہ کی یاد میں “ریت پر سفر کا لمحہ” جیسی خوبصورت نظم کہی۔جو ان کی مقبولیت کی وجہ بنی۔ وہ نظم کچھ یوں تھی۔۔۔۔۔
کبھی ہم بھی خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی!
بہت سے اَن کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دُور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دُور تھے لیکن ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دن کی مسافت
جب کِرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھے… امی!
تتلیوں کے پَر بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے’ جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے’ جگنوؤں کے دیس جانا ہے!

احمد شمیم گورڈن کالج راولپنڈی کے عقب میں واقع قیصر ہوٹل کے ایک کمرے میں کئی سالوں سے مقیم تھے اور جس لڑکی کے عشق میں مبتلا تھے اُس سے جدائی میں ہوٹل کا وہ کمرہ اُنہیں قید خانہ لگتا تھا جس کو وہ خانہء زنجیر کہتے تھے۔احمد شمیم اُس دور کے لکھے اپنے محبت کے خطوط (ہوا نامہ بر ہے: خطوط) میں کہتےہیں کہ کمرے میں اُس لڑکی کا خیال ستاتا رہتا تھا اور باہر سڑکوں پر جانے سے پہ تمام لوگ اجنبی لگتے تھے اور پھر احمد شمیم ۱۹۵۰ء میں جامعہ مسجد روڈ راولپنڈی میں رہنے والی بوڑھی اور نیک خاتون مان جی کے گھر کرایے پر رہنے لگے۔مان جی مسجد میں لڑکیوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھیں۔احمد شمیم کو مان جی کی ایک طلبہ منیرہ بھا گئیں اور شمیم نے ۱۹۵۶ء میں منیرہ سے شادی کر لی۔احمد شمیم کی والدہ کے بعد منیرہ جی اُن کی زندگی کاس ب سے اہم حصہ تھیں۔منیرہ احمد شمیم “ہوا نامہ بر ہے” (احمد شمیم کے مجموعہ خطوط)کے پیش لفظ”یادوں کے زخم”میں لکھتی ہیں

“اپنے دامن میں گئے دنوں کی خوشبو لئے۔۔۔۔۔۔۔ہماری ملاقات کا وہ پہلا لمحہ میری زندگی کے اندھیروں میں روشن ستارے کی طرح آج بھی چمک رہا ہے”۔مال روڈ پر لوگوں کا ہجوم تھا۔میں اور احمد شمیم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اپنی نئی دنیا تخلیق کر رہے تھے اچانک خاموشی کی لہر توڑتی ہوئی ایک آواز میری روح تک اُتر گئی۔ وہ کہہ رہے تھے

منوّ!یوں لگتا ہےتم میرے اندر سے نکل آئی ہو۔ ہر آدمی لا شعوری طور پر اپنا ایک خواب متعین کرتا ہے۔ میرا بھی ایک خواب تھا کہ مجھے ایک ایسی لڑکی مل جائے جو اندر سے دُکھ اُٹھانے کی بہت استعداد رکھتی ہو۔ میں نے تمہیں دیکھا عقل نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن عقل سے پرے جو حس ہوتی ہے اُس نے تمہیں فوراً اندر لے لیا۔ منوّ!۔۔۔۔میں تمہیں اپنی محبوبہ کی طرح تمہیں دل سے چاہتا ہوں اور اپنی ماں کی طرح تمہارا احترام کرتا ہوں۔ خدا جانے میں تمہارے اندر محبوبہ یا بیوی سے زیادہ ماں کیوں تلاش کرتا ہوں۔ کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ میں نے تمہارے اندر اپنی ماں کا پرتو دیکھ لیا یا اس لئے کہ میری ماں کی طرح تم بھی میرے دُکھ میں جلتی ہو۔۔؟
کیا اس لئے کہ تم بھی راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر میری سلامتی کے لئے دعائیں مانگتی رہتی ہو۔

احمد شمیم اپنی زندگی میں خدمت و ایثار کے پیکر، دیندار، متشّرع اور روشن خیال انسان تھے۔ ان کا احساس کسی کو دکھ درد میں مبتلا دیکھ کر تڑپ اُٹھتا۔ ان کی نظم گوئی میں فکر انگیزی اور رفعتِ تخیل کے ساتھ ساتھ بامحاورہ زبان کا بے ساختہ اظہار بھی ملتا ہے۔ احمد شمیم کی نظم “کبھی ہم خوبصورت تھے” ٹی وی ڈرامہ “تیسرا کنارہ” میں پاکستانی گلوکارا نیرہ نور کی خوبصورت آواز میں گائی جانے والی یہ نظم ان کی شاعری میں عظمت کی دلیل اور ان کی پہچان بنی۔

اس سے پہلے احمد شمیم کی چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی، ڈرامے، ادب و ثقافت کے شعبوں میں اعلیٰ کارگردگی پر احمد شمیم نے بڑی تعداد میں ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ جن میں صدارتی ایوارڈ، تمغہ حسن ، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ احمد شمیم کا ذکر اور کام ہمارے درمیان اور ہمارے بعد آنے والی نسلوں کے لئے کارآمد ثابت ہو گا۔ انہوں نے انسانیت کے لئے لکھا، آزادی کے لئے لکھا، محبت کے لئے لکھا اور یہ وہ کردار ہیں جو کبھی نہیں مرتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *