• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زرداری کی گرفتاری ۔اب میں بولوں کہ نہ بولوں۔۔۔۔عبیداللہ چوہدری

زرداری کی گرفتاری ۔اب میں بولوں کہ نہ بولوں۔۔۔۔عبیداللہ چوہدری

یہ جوکرپشن کرپشن۔۔ کا راگ الاپتے تھکتے نہیں۔۔۔ میں ان سے بنی گالا میں ۳۰۰ کینال کی جھونپڑی۔ علیمہ خان کی اربوں کی جائداد، علیم خان اور اعظم سواتی کے قارون نما خزانوں کا راز۔ جہانگیر ترین کی آف شور کمپنیوں، اس کے ملازمین کے جعلی بنک اکاؤنٹس ، اور اس کی “حق حلال کی چھوٹی سی کمائی” فیصل واڈا کے لندن میں نصف درجن سے زائد فلیٹس کا بالکل نہیں پوچھوں گا۔ جو بھی کرپٹ ہے وہ زرداری ہو یا نواز شریف ، جج ہو جرنلسٹ ہو افسر ہو اور یا پھر کوئی جرنیل سب کو پکڑو۔۔۔ جیل میں ڈالو۔۔ اور پیسے واپس آنے تک روز ان کی پیٹھ پر ۱۰۰ کوڑے لگاؤ۔ مگر کوئی ڈیل نہ کرنا۔ مگر عوام کو ریلیف تو دو ۔

میں یہاں عمران کی ذاتی زندگی کا بھی ذکر نہیں کروں گا۔ میں تو چیئرمین نیب کی اخلاقیات پر بھی بات نہیں کروں گا۔ میں یہ سوال بھی نہیں اٹھاؤں گا کہ مولانا سمیع الحق کے دل دہلا دینے والے قتل کی انکوائری رپورٹ کہاں گئی؟ میں خادم حسین رضوی کے عروج  ، پھر اس کی زبان بندی پر بھی بات کرنا پسند نہیں کروں گا۔ میرے نزدیک تو پی ٹی آئی کے ایم کیو ایم اور ق لیگ سے الحاق پر بھی بات کرنا   فضول ہے۔ ۴۰ ، ۴۰ مشیروں کی فوج ، صدا بہار ٹیکنوکریٹس ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے جنوبی پنجاب محا ذ  اور نیب کے نام پر ادھار لی گئی آدھی وفاقی کابینہ پر بھی بات کرنے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔

ڈالر کی قیمت ، پٹرول، گیس، بجلی کی قیمتیں، روز بروز بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی پر تو بات کرنا گناہ ہے ۔ میں کیسے اس گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہوں۔

شیخ رشید کی شیریں بیانی تو صرف بادشاہ سلامت کی دلجوئی ہے؟ بد زبان اور بد کردار تو مریم نواز ہے، بلاول بھٹو ہے، منظور پشتین ہے، مولانا فضل الرحمن ہے۔ بلکہ حکومت مخالف سارے لوگ جاہل ہیں، غدار ہیں ان کو پکڑو ۔۔ جیل ڈال دو۔۔ پھانسی پر چڑھا دو۔۔۔مگر پکڑو کرپشن پر اور ثابت بھی کرو۔ پکڑو غداری پر مگر ثابت بھی کرو۔پر سیاست نہ  کرو۔

ایک بات یاد رہے۔ماضی میں بھی جس جس نے عوام کو دھوکہ دیا ۔۔۔ عوام اسے آج تک نہیں بھولی۔ اور جس جس نے عوام کا خیال کیا وہ آج بھی زندہ ہیں ۔ اب ان شور کرنے والوں کو کون بتائے کہ گدھے پر کالی لائنیں لگانے سے وہ کبھی زیبرا نہیں بن سکتا۔ عوامی قہر کی ہلکی سی  بوندا باندی نے ہی سب رنگ اڑا دینے ہیں۔پھر میں سوچتا ہوں ۔ اس وقت کون کون کہاں کہاں بھاگے گا! اور کون کون کس کس فریب میں پناہ تلاش کرے گا؟

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *