گوشت کیوں نہیں گل رہا؟ ۔ زندگی (8) ۔۔وہاراامباکر

فرانسیسی سائنسدان ڈی ریاوٗموغ ایک بہت اچھوتے انداز میں نظامِ انہضام پر 1752 میں تحقیق کر رہے تھے۔ اس وقت خیال تھا کہ جانور خوراک کو مکینیکل پراسس سے ہضم کرتے ہیں۔ ڈی ریاوٗموغ نے دھات کا کیپسول گوشت بھر کر بند کر دیا۔ اس میں چھوٹے سے سوراخ تھے۔ جب یہ کیپسول عقاب سے باہر نکلا تو انہوں نے دیکھا کہ اس میں سے گوشت مکمل طور پر ہضم ہو چکا تھا۔ دھات کے کیپسول کے اندر گوشت پر کوئی مکینیکل ایکشن نہیں ہو سکتا تھا۔ گئیر، لیور اور گرائنڈر سے ہاضمے کی وضاحت نہیں ہوتی تھی۔

زندگی مکینیکس سے زیادہ کیمسٹری ہے۔ اگلی ایک صدی میں تجربات سے یہ بات ظاہر ہو چکی تھی۔ جرمن فزیولوجسٹ ولہلم کوہنے نے 1877 میں اس کام میں مدد کرنے والے اہم ایجنٹ کو انزائم کا نام دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانوروں میں عام پائی جانے والی ایک پروٹین کولاجن ہے۔ وہ تار جس کے ریشے ہماری ٹشو کے درمیان بُنے ہوئے ہیں اور گوشت کو پکڑ کر رکھتے ہیں۔ امینو ایسڈ کے سینکڑوں مالیکول ملکر پروٹین بناتے ہیں جو خاص شکل لیتی ہیں۔ جیسے کسی تسبیح پر دانے ہوں، ہر دانہ دوسرے سے پیپٹائیڈ بانڈ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک امینو ایسڈ کے کاربن کو اگلے کے نائیٹروجن سے جوڑتا ہے۔ پیپٹائیڈ بانڈ بہت مضبوط بانڈ ہیں۔

کولاجن بہت ہی مضبوط پروٹین ہے۔ اس کے ٹرپل سٹرینڈ ایک دوسرے سے ملکر رسی کی طرح کے ریشے بناتے ہیں۔ اس کے نیٹورک کو ایکسٹرا سیلولر میٹرکس کہا جاتا ہے اور یہ ہمیں باندھ کر رکھتا ہے۔

اگر آپ گوشت پکا رہے ہیں اور چولہے پر رکھا ہوا گوشت گلنے کا نام ہی نہیں لیتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بانڈ ٹوٹ نہیں رہا۔ یہ نہ ہو تو ہمارے پٹھے اور اندرونی اعضاء کسی جیلی کی طرح بن جائیں۔

اور اب یہاں پر ایک مسئلہ ہے۔

ایک عمارت یا روبوٹ اور ایک جاندار میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ جاندار نے وقت کے ساتھ بڑھنا ہے، اپنی شکل بدلنی ہے۔ اس کو سپورٹ کرنے والا فریم ورک مضبوط بھی چاہیے لیکن اس کو ری ماڈل بھی ہوتے رہنا ہے۔

اسی طرح اگر آپ کو کوئئ چوٹ لگی ہے، کوئی کٹ یا زخم لگا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹشو کو نقصان پہنچا ہے اور ساتھ ہی اس کو سپورٹ کرنے والی ایکسٹراسیلولر میٹرکس کو۔ اگر ایک گھر کو طوفان یا زلزلے سے نقصان پہنچے تو مرمت کرنے سے قبل ٹوٹے فریم ورک کو الگ کرنا ہوتا ہے، اس کے لئے اس جگہ سے کولاجن کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔ جسم جامد شے نہیں، اس نے مسلسل بدلتے رہنا ہے۔

ایک جاندار بڑھتا ہے تو اس میں تبدیلیاں آنی ہیں۔ اس وقت اس ایکسٹراسیلولر میٹرکس کو بدلنا ہے۔ ان ریشوں کو توڑنے کے لئے انہیں گھنٹوں چولہے پر رکھ کر ابال کر گلایا نہں جا سکتا۔ جسم کو کولاجن کو ہٹانے کے لئے کچھ چاہیے اور یہاں پر جو انزائم مدد کرتی ہے، وہ کولاجنیز ہے۔ یہ اسے کاٹ دیتی ہے۔ لیکن کیسے؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انیسویں صدی کے آخر تک انہیں پرسرار وائٹل فورس کا کارنامہ کہا جاتا تھا۔جرمن کیمسٹ ایڈوارڈ بوکنر نے پہلی بار دکھایا کہ خمیر کے سیل سے حاصل ہونے والے بے جان ایکسٹریکٹ بھی وہی کیمیائی تبدیلیاں لا سکتے ہیں اور یہ وائٹل فورس محض کیمیائی کیٹالیسس ہے۔

کیٹلسٹ (catalyst) وہ اشیاء ہیں جو عام کیمیائی ری ایکشن تیز کر دیتی ہیں اور کیمسٹ ان سے انیسویں صدی سے واقف تھے۔ بلکہ صنعتی انقلاب کے کئی کیمیائی ری ایکشن کیٹلسٹ کے محتاج تھے۔گندھک کے تیزاب نے زرعی اور صنعتی انقلابوں میں کردارا ادا کیا تھا۔ لوہے اور سٹیل کی صنعت میں، کپڑے اور فاسفیٹ کھاد کی صنعت میں۔ سرکے کی صنعت میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کیٹلسٹ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

بوکنر کے خیال کی تصدیق اگلی کچھ دہائیوں میں بائیو کیمسٹری میں ہونے والے کام نے کر دی۔ مثلاً، پنیر بنانے کے لئے کائیموسین کی انزائم پروٹیسس کی فیملی سے ہے جو اسی طریقے سے کام کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جانوروں، پودوں اور جراثیم کے جسموں نے لاکھوں اقسام کی انزائم ہیں۔ ہاضمے، تنفس، فوٹوسنتھسیز، میٹابولزم جیسے فنکنسن کی ذمہ دار۔ یہ ہمیں زندہ رکھتی ہیں۔ یہ زندگی کے انجن ہیں۔ لیکن کیا یہ صرف بائیولوجیکل کیٹلسٹ ہیں؟ ویسے جیسے گندھک کا تیزاب اور اس جیسے بہت سے اور صنعتی کیمیکل؟ اگر چند دہائیاں قبل آپ یہ سوال کسی بائیولوجسٹ سے کرتے تو وہ بوکنر کے خیال سے اتفاق کرتا کہ زندگی کی کیمسٹری کے پراسس کسی کیمیکل پلانٹ میں ہونے والے پراسس سے مختلف نہیں ہیں۔ لیکن پچھلی دو دہائیوں میں ہونے والے اہم تجربات نے ہمیں اس بارے میں سوچنے کا نیا انداز دیا ہے اور سمجھ کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ زندگی کے کیٹلسٹ سادہ کیمسٹری سے زیادہ گہرائی میں جاتے ہیں اور اپنے کام کے لئے کچھ خوبصورت کوانٹم کرتب استعمال کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیٹالسٹ کیسے کام کرتے ہیں؟ اس کے کئی مکینزم ہیں۔ زیادہ تر کو اس کی سادہ وضاحت ٹرانزیشن سٹیٹ تھیوری کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ دنیا میں پائے جانے والے عام کیمیکل ری ایکٹو نہیں ہوتے اور مستحکم ہوتے ہیں۔ نہ ہی ٹوٹتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ ملتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ عام نہ ہوتے۔ ان کے بانڈ توڑنے کے لئے کسی قسم کی توانائی کی ضرورت ہے۔ توانائی کی یہ دیوار انہیں حالت تبدیل کرنے سے روکتی ہے۔ جب انہیں یہ توانائی فراہم کر دی جائے (جیسا کہ حرارت کے ذریعے) تو یہ دیوار کود کر دوسری سمت جا سکتے ہیں۔ (یہی وجہ ہے کہ ہم کھانا پکاتے ہیں تا کہ حرارت کیمیائی تبدیلیاں لا سکے)۔

ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اس میں کیٹالسٹ کا اضافہ کر دیا جائے۔ یہ کیٹالسٹ خود اس کیمیکل ری ایکشن میں حصہ نہیں لیتے لیکن وہ دیوار نیچی کر دیتے ہیں جس سے کودا جا سکے اور یوں یہ ری ایکشن آسان اور جلد ہو جاتے ہیں جو ان کی غیرموجودگی میں نہ ہوتے۔

کولاجن توڑنے کے لئے کاربن اور نائیٹروجن کا پیپٹائیڈ بانڈ ٹوٹنا ہے اور اس میں درکار ایکٹیویشن توانائی بہت زیادہ ہے یعنی دیوار بہت بلند ہے۔ اس کو توڑنے کے لئے ساتھ والے پانی کے مالیکیول مدد کرتے ہیں۔ (یہ ہائیڈرولوسس کا عمل ہے)۔ لیکن پانی والے محلول میں بانڈ توڑنے کی ہاف لائف پانچ سو سال ہے۔ اور یہ ری ایکشن تیز کرنے کے لئے انزائم کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا انزائم کا کام کرنا ویسا ہی ہے جیسا کیٹالسٹ کا؟ اس کا جواب جاننے کے لئے ہمیں تھوڑا سا گہرائی میں جانا ہو گا۔ اور اس غوطے کے لئے ہمیں ایک چھوٹا سا سوال کنگھالنا ہے۔ مینڈک کی پیدائش کے وقت تو اس کے ساتھ ایک عدد دُم تھی۔ یہ جھڑ کیسے گئی؟

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *