سماج، - ٹیگ

مارکسزم کا سماجی تبدیلی میں کردار /حبیب کریم

مارکسزم کے حوالے سے میری اس راۓ سے آپ کا متفق ہونا بالکل بھی ضروری نہیں، لیکن، اتنی گزارش ضرور کرونگا کہ علمی موضوعات پر آپ کو اتفاق یا اختلاف چاہے میرے یا کسی اور کے نقطہء نظر سے ہو←  مزید پڑھیے

سماج (25) ۔ علیحدگی/وہاراامباکر

پچھلی ایک صدی میں زیادہ تر جنگیں کسی ریاست کی توسیع کیلئے نہیں ہوئی بلکہ ان کو توڑنے کی کوشش میں رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں خانہ جنگی جنگ کی عام ترین صورت ہے۔ ایسی خانہ جنگی کے پیچھے←  مزید پڑھیے

سماج (24) ۔ توسیع/وہاراامباکر

جھوٹے جتھے قبائل بنے۔ سرداری نظام قبائل کو نگل گیا، اور ساتھ چھوٹے جتھوں کو۔ پھر ریاستیں بنی اور سلطنتیں۔ پیٹرن ایسا ہی رہا ہے، لیکن بالکل یکساں نہیں۔ یہ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر کی صورت میں نہیں رہا۔ ہر←  مزید پڑھیے

سماج (22) ۔ تنظیم/وہاراامباکر

قبائل اور ریاست جیسی جدتیں بڑی آبادی کو رہائش اور خوراک فراہم کرنے کے لئے بھی لازم تھیں اور معاشروں کے قیام کیلئے بھی۔ اور جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان نظاموں کا قیام انسان کی فطرت کا لازم←  مزید پڑھیے

سماج (21) ۔ پندرہ ہزار سال کا تجربہ/وہاراامباکر

آج سے پندرہ ہزار سال قبل کی دنیا میں انسانی آبادیاں مختصر تھیں۔ سادہ معاشرت تھی جس میں مختصر گروہ (band) اکٹھے رہا کرتے تھے جس میں ہر کسی کی ہر کسی سے واقفیت تھی۔ شکار کرنے اور خوراک اکٹھے←  مزید پڑھیے

سماج (20) ۔ ریاست/وہاراامباکر

سوسائٹی کا ٹوٹ جانا بڑی تبدیلی ہے۔ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ ویسا ہوتا ہے جیسے ازدواجی رشتے میں طلاق ہو جائے۔ اس سے واپسی نہیں ہوتی۔ اور بندھنوں کے ٹوٹ جانے کے بعد رویے بدل←  مزید پڑھیے

سماج (19) ۔ سماجی تنوع/وہاراامباکر

رومی سلطنت جب انحطاط پذیر ہوئی تو یہ الگ ٹکڑوں میں بٹ گئی جو ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اندلس میں طائفے الگ ہو جانے کے بعد طوائف الملوکی کا دور بھی رومی سلطنت کے خاتمے کی طرز کا تھا۔←  مزید پڑھیے

سماج (16) ۔ جنگجو/وہاراامباکر

شمالی سوڈان میں جبل الصحابہ کے مقام پر قدیم مدفن میں قدیم انسانوں کے متشدد رویے کی گواہی دیتا ہے۔ تیرہ سے چودہ ہزار سال پہلے کئے گئے قتلِ عام میں 58 مرد، خواتین اور بچے مارے گئے تھے۔ اور←  مزید پڑھیے

سماج (14) ۔ سماجی ذہن/وہاراامباکر

ہمارے سماج میں وہ جو سب سے الگ ہے، اس کے لئے زندگی آسان نہیں رہتی۔ اور یہ رویہ جانوروں کے سماج میں بھی نظر آتا ہے۔ اس میں بھی “عجیب” کی گنجائش زیادہ نہیں۔ یہاں تک کہ وہ انواع←  مزید پڑھیے

سماج (11) ۔ سماجی گوند/وہارا امباکر

جھنڈے، ملی نغمے، قومی دن، ماضی کے ہیرو یا قومیت کے واضح نشان ایسے چند طریقے ہیں جو سوسائٹی بناتے ہیں۔ لیکن یہ نشان بہت سے ہیں اور بہت سے وہ ہیں جو شعوری طور پر تخلیق کردہ نہیں۔ کئی←  مزید پڑھیے

سماج (10) ۔ بازار میں اجنبی/وہاراامباکر

اجنبیوں سے بھرے بازار میں ٹہلتا شخص ۔۔۔ یہ معمولی لگنے والا منظر غیرمعمولی ہے اور زمینی زندگی کے نقطہ نظر سے ایک بڑا عجوبہ ہے۔ ہم ایسے لوگوں کا سامنا کرتے ہیں جنہیں جانتے بھی نہیں۔ پہلے کبھی نہیں←  مزید پڑھیے

سماج (4) ۔ ارجنٹائن چیونٹی/وہاراامباکر

اگر ایک ارجنٹائن چیونٹی کو سان فرانسسکو سے پکڑا جائے اور سینکڑوں کلومیٹر دور میکسکو کی سرحد کے دوسری طرف چھوڑ دیا جائے تو اسے کچھ نہیں ہو گا۔ یہ ایک طرح سے اپنے گھر میں ہی ہو گی۔ یہاں←  مزید پڑھیے

سماج (3) ۔ کیڑے/وہاراامباکر

زمین پر پہلے سماج کس نے قائم کئے؟ ہو سکتا ہے کہ کیڑوں نے کئے ہوں گے۔ لیکن ایک بات ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں۔ آج کے سماجی کیڑے (social insect) سوسائٹی بنانے کے ماسٹر ہیں۔ اس کے باوجود←  مزید پڑھیے

سماج (2) ۔ معاشرے/وہاراامباکر

آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال۔ سماج آخر ہے کیا؟ سماج افراد کے گروہ ہیں جو نسل در نسل ساتھ رہتے ہیں۔ کسی سماج کا ممبر ہونا انتخاب نہیں۔ کسی بیرونی ممبر کے لئے اس میں داخلہ مشکل سے ہوتا←  مزید پڑھیے

سماج (1) ۔ گروہ/وہاراامباکر

زمانہ قدیم سے انسانی سماج موجود رہے ہیں۔ اور انسان ایسے چند ایک جانداروں میں سے ہے جو اتنے بڑے گروہ بنا سکتا ہے۔ اور کسی فرد کے لئے یہ تعلق اسے طاقت بھی دیتا ہے اور شناخت بھی۔ اور←  مزید پڑھیے

خیر و شر کی جدلیاتی کشمکش موجودہ سیاسی تناظر میں۔۔زاہد سرفراز

خیر و شر کے اسی جدل کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستانی عوام دو واضح قوتوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک طرف خیر کی نمائندگی ہے، تو دوسری طرف شر کے پیروکار۔ خیر کی نمائندہ قوتیں لوگوں کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے میں لگی ہیں←  مزید پڑھیے

بنجر آنکھیں کبھی خواب نہیں دیکھ سکتیں۔۔آغر ؔندیم سحر

بنجر آنکھیں کبھی خواب نہیں دیکھ سکتیں۔۔آغر ؔندیم سحر/معاشرے کی عمارت اخلاقیات،برداشت،رواداری اور بھائی چارے کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جب یہ اعلیٰ قدریں رخصت ہو جائیں تو سماج تباہی کی جانب سفر شروع کر دیتا ہے۔پاکستانی معاشرے کو بھی اسی گھمبیر صورت حال کا سامنا ہے←  مزید پڑھیے

صارفیت ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سماج کو پیروی کیلئے ایک مثالی پیکر درکار ہوتا ہے، ایک وقت تھا جب مثالی شخصیت ایسی ہستیاں ہوا کرتی تھیں جو علم و ہنر میں ید طولی رکھتے تھے، آج ارب پتی افراد کو مثالی سمجھ کر ان کی←  مزید پڑھیے

نارمل سماج کی ابنارمل باتیں ۔۔علی انوار بنگڑ

نارمل تو سماج تب ہوگا جب یہ بتانا نہ پڑے کہ میں نے بیٹی پیدا ہونے پر بھی ویسی ہی خوشی منائی ہے جیسے بیٹے کے لیے منائی تھی۔ لڑکا پیدا ہوا ہے بس یہ جملہ سننے پر اگلا بندہ یہ جان جاتا ہے کہ اسے خوشی ہوئی ہے اور یقیناً اس نے خوشی منائی ہوگی۔←  مزید پڑھیے

بونوں کے سماج میں اقرارالحسن جیسے لوگ۔۔نذر حافی

سانحہ تلمبہ ابھی بالکل تازہ تھا۔ مقتول کا کفن بھی میلا نہ ہوا تھا۔ اس کی کٹی ہوئی انگلیوں سے خون رِس رہا تھا۔ میرے کالم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ گذشتہ کالم کو ابھی چند گھنٹے←  مزید پڑھیے