سماج (21) ۔ پندرہ ہزار سال کا تجربہ/وہاراامباکر

آج سے پندرہ ہزار سال قبل کی دنیا میں انسانی آبادیاں مختصر تھیں۔ سادہ معاشرت تھی جس میں مختصر گروہ (band) اکٹھے رہا کرتے تھے جس میں ہر کسی کی ہر کسی سے واقفیت تھی۔ شکار کرنے اور خوراک اکٹھے کرنے والے گروہوں کے ٹھکانے مستقل نہ تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب انسان نے پہلی بار امریکہ میں قدم رکھا۔ یہ چھوٹے جتھوں پر مشتمل پیلیوانڈین تھے، جن کے کلووس کلچر سے ہم واقف ہیں۔ موسم بدلے، سمندر کی بلند ہوتی سطح کے بعد ان کے روابط باقی دنیا سے کٹ گئے۔ اور اگلے پندرہ ہزار سال دونوں اطراف میں انسانی معاشرت ایک دوسرے سے بالکل جدا اپنی الگ ڈگر پر چلتی رہی۔
جب ملاحوں نے بحرِاوقیانوس پار کر کیا اور ان دونوں اطراف کی ملاقات ہوئی تو یہ انوکھا تجربہ تھا۔ مورخ رائٹ لکھتے ہیں۔
“سولہویں صدی میں ایک غیرمعمولی چیز ہوئی جو کہ نہ پہلے کبھی اور اور نہ آئندہ ہو گی۔ دو الگ علاقوں میں الگ تہذیبیں پندرہ ہزار سال تک الگ رہیں تھیں۔ ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ یہ آمنے سامنے آئیں تھیں۔ جب کورٹیس میکسیکو پہنچے تو انہیں سڑکیں، نہریں، شہر، محل، سکول، عدالتیں، بازار، آبپاشی کے کام، بادشاہ، مذہبی راہنما، تاجر، یادگاریں، کھیل، تھیٹر، آرٹ، موسیقی اور کتابیں ملیں۔ الگ تہذیبیں جن کی تفصیل میں فرق تھا لیکن اپنی ہیئت میں بنیادی طور پر ایک ہی جیسی تھیں۔ زمین کی الگ اطراف پر پنپنے والی تہذیبوں نے بڑی حد تک ایک ہی راستہ لیا تھا۔
اس قدر مماثلت کو ہر لحاظ سے حیرت انگیز کہا جا سکتا ہے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان سماجی جاندار ہے جس کی بڑے گروہ بنا لینے کی بڑی منفرد صلاحیت نے اسے دنیا پر غلبہ دیا ہے۔ لیکن اجتماعیت کے اپنے اطوار اور مسائل ہیں۔ بڑے مسائل کیلئے پیچیدہ حل کئے جاتے ہیں۔ ریاست کی تنظیم ان مسائل کو حل کرتی ہے اور اس وجہ سے ان کی ساخت کے اہم فیچر بنتے ہں۔ ممبران کی حفاظت اور دیکھ بھال، ریاست کے تصور سے وفاداری۔ حقوق و فرائض کے گنجلک۔ ان سے کوتاہی برتنے والوں سے نمٹنے کے طریقے۔ ان میں ناکامی معاشرے کے لئے تباہ کن ہوتی ہے۔ اور اگر اس میں کامیابی ہو جائے تو پھر ریاست کی مستحکم صورت ابھرتی ہے۔ یہ آبادی کے مراکز پر بنی بڑی تہذیبیں ہوتی ہیں۔ اور اپنی اساس میں بڑی حد تک یکسانیت رکھتی ہیں۔ جب ریاست اور شہر پھیلتے ہیں تو زمین کے استعمال کے سٹرکچر، ادارے، علمی مراکز، پولیس ۔۔۔ ان میں صراحت آتی جاتی ہے۔ نئے کاروبار بنتے ہیں، ملازمت کے مواقع بھی۔ اور یہ انسانوں کو اکٹھا کرنے لگتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
اور ان کے ساتھ سکیل کی اکانومی بھی آتی ہے۔ معاشرے کے ارکان کے لئے خوراک اور رہائش کی دستیابی سستی ہو جاتی ہے اور اس کا مطلب یہ کہ معاشرہ فوج، سائنس، آرٹس، کھیلوں جیسی سرگرمیوں پر خرچ کر سکتا ہے۔ تاج محل، اہرامِ مصر، ہبل ٹیلی سکوپ، پانامہ نہر، ماچو پیچو، لارج ہیڈرون کولائیڈر، دیوارِ چین جیسے عجوبے وجود میں آتے ہیں جن میں چیونٹیوں کی طرح کی محنت اور تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔
(جاری ہے)

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply