اچھے رشتے کیوں نہیں ملتے/سیّد بدر سعید

گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر انتہائی سنگین مسئلہ کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 35 سال سے زائد عمر کی ایک کروڑ خواتین رشتے کی منتظر ہیں۔ ابھی تک ان اعداد و شمار کے پرائمری ریسورس کا علم نہیں ہو سکا۔ بنیادی طور پر یہ اعداد و شمار ایک رشتہ ایپ کے اشتہار میں ظاہر کیے گئے تھے لیکن اس مسئلہ کہ حساسیت اور سنگینی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اسے بے پناہ شیئر کیا گیا اور اس پر مختلف رائے سامنے آتی رہیں۔ اگر یہ تعداد ایک کروڑ نہ ہو تب بھی اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد رشتہ نہ ہونے کے مسائل کا شکار ہے۔ ان مسائل کا احساس اسی گھر کو ہو سکتا ہے جو اس کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اعداد و شمار میں خواتین کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو اب مرد بھی ایسے مسائل سے دوچار ہیں۔

اللہ نے نکاح میں برکت رکھی ہے لیکن ہمارے یہاں اس برکت کو نکاح سے پہلے تلاش کیا جاتا ہے۔ رشتے کے لیے لڑکے والے ہی نہیں بلکہ لڑکی والوں کی خواہشات بھی غیر حقیقی ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 6 ہندسہ تنخواہ والے مردوں کا کیریئر چند ہزار کی تنخواہ سے ہی شروع ہوتا ہے۔ گاڑی عموماً “مڈ کیریئر” میں پہنچ کر ملتی ہے۔ اپنا گھر بننے تک کم از کم کنپٹی کے بال سفید ہو جاتے ہیں۔ کنواری بہنوں کی شادیوں تک لڑکا میچور ہوتا ہے۔ اور جب یہ سب ہوتا ہے تب تک لڑکا شادی کر چکا ہوتا ہے۔ عمر بھی 50 کے قریب ہو چکی ہوتی ہے۔

دوسری جانب لڑکی والے چاہتے ہیں کہ لڑکا لاکھوں روپے کماتا ہو، اچھا عہدہ ہو، گھر میں کنواری بہن نہ ہو، اپنی گاڑی بھی ہو، اپنا گھر ہو اور لڑکی کے نام بھی گھر یا پلاٹ لے کر دے، حق مہر لاکھوں میں لکھے، الگ گھر میں رکھے اور سب سے اہم یہ کہ لڑکے نے ابھی تازہ تازہ تعلیم مکمل کی ہو اور لڑکی سے عمر میں زیادہ بڑا نہ ہو۔ اسی لیے اکثر رشتوں کے وقت والدین کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ استخارہ ٹھیک نہیں آیا۔

غیر حقیقی خوابوں کی اسیر صرف لڑکی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے گھر والے بھی ایسے ہی خواب دیکھنے لگتے ہیں اور ہر مناسب رشتے کو انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر کہیں رشتہ ہو جائے تو بھی اکثر انہی غیر حقیقی خوابوں کی وجہ سے بہت جلد نوبت لڑائی جھگڑوں سے ہوتی ہوئی طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسے واقعات بھی بے پناہ ہیں کہ خوابوں کے شہزادے کے انتظار میں عمر اتنی گزر گئی کہ پھر کسی اوسط درجے کے مرد کی دوسری اہلیہ بننا بھی قابل قبول ہوگیا۔

ہمیں یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ نکاح صرف لڑکی ہی نہیں بلکہ لڑکے کی بھی عملی زندگی کا آغاز ہے۔ دونوں نے مل کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ اس عمر میں کیریئر شروع ہوتا ہے اور اگر شریک سفر حوصلہ اور ساتھ دینے والا ہو تو انسان بہت تیزی سے ترقی کرنے لگتا ہے۔ مرد کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں اس کی شریک سفر کا بہت ہاتھ ہے۔ زندگی اور ترقی کا سفر مرحلہ وار ہی طے ہوتا ہے۔ جو لڑکا آج بیروزگار ہے وہی کل ملازمت پر اور چند سال بعد اچھی پوزیشن پر نظر آتا ہے۔ ترقی اور کامیابی کا سفر طے کرنے کے لیے اسے دس پندرہ سال کا وقت درکار ہے۔ اگر لڑکی گریجوایشن کے بعد شادی کر رہی ہے تو اس کا ہم عمر لڑکا بھی گریجوایشن کے بعد ہی اپنا کیریئر شروع کر رہا ہوگا۔

دوسری طرف حالات یہ ہیں کہ اگر کوئی مرد شادی کا ارادہ کر لے تو بیوہ اور لیٹ میرج والی خواتین کی جانب سے بھی ایسی ایسی شرائط سامنے آتی ہیں کہ انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے دو انسانوں کے نکاح سے زیادہ کوئی ایسی بزنس ڈیلنگ ہونے والی ہے جس میں فریقین کو سو فیصد نقصان کا اندیشہ ہے اور دونوں جانب سے ہی مستقبل کے ممکنہ نقصان کو پورا کرنے کے لیے پیش بندی کی جا رہی ہے اور مستقبل کے اس ممکنہ نقصان کے چکر میں اپنا حال خراب کر بیٹھتے ہیں۔ انسان کا مستقبل اور کامیابی یا ناکامی کا علم صرف اللہ کو ہی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے کیریئر کے آغاز میں بہت کامیاب نظر تے ہیں لیکن ان کی کامیابی کا یہ سفر جلد ہی کسی ایک نقطہ پر پہنچ کر رک جاتا ہے، اسی طرح بہت سے لوگ ابتدا میں اوسط درجے پر نظر آتے ہیں لیکن ساری عمر مسلسل ترقی کرتے جاتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

رشتہ کے حوالے سے جہاں لڑکے لڑکی کو حقیقت پسند ہونا چاہیے وہیں والدین کو بھی حقیقت پسندی کا سامنا کرنا چاہیے۔ لالچ رشتوں کو تباہ کرتا ہے۔ مستقبل میں کچھ ہو جانے کے خوف سے “سکیورٹی” کی ڈیمانڈ مزید خرابی کا باعث بنتی ہے کہ چند لاکھ روپے کبھی پُرسکون رشتے کا نعم البدل نہیں ہوتے۔ اگر والدین حقیقت پسند بنیں تو خود پریشان ہوں اور نہ ہی بچے ان مسائل کا شکار ہوں۔ شادی کے لیے غیر ضروری ڈیمانڈز اور غیر حقیقی خوابوں نے ہماری نوجوان نسل کو کتنا متاثر کیا ہے اس پر بھی کوئی تحقیق ہو تو شاید صورت حال مزید واضح ہو جائے۔

Facebook Comments

سيد بدر سعید
سب ایڈیٹر/فیچر رائیٹر: نوائے وقت گروپ ، سکرپٹ رائیٹر ، جوائنٹ سیکرٹری: پنجاب یونین آف جرنلسٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply