سماج (11) ۔ سماجی گوند/وہارا امباکر

جھنڈے، ملی نغمے، قومی دن، ماضی کے ہیرو یا قومیت کے واضح نشان ایسے چند طریقے ہیں جو سوسائٹی بناتے ہیں۔ لیکن یہ نشان بہت سے ہیں اور بہت سے وہ ہیں جو شعوری طور پر تخلیق کردہ نہیں۔
کئی نشان ایسے ہیں جن کی ہم ہر وقت نمائش کرتے ہیں۔ لباس کے انداز، اقدار، روایات، خیالات۔۔۔ کئی نشان ایسے ہیں جو ہمیں ساتھ رکھنے پڑتے ہیں۔ مثلاً، پاسپورٹ۔ جبکہ کئی دوسرے ہیں جن پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔ مثلاً، جلد کی رنگت یا چہرے کی ساخت۔ کئی جگہیں، ماضی کی کہانیاں، رسومات یا اشیا بھی سوسائٹی کو اکٹھا کرتی ہیں۔ اور کئی بار بہت جلد کوئی واقعہ یا شے شناخت کی بڑی وجہ بن جاتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کئی بار یہ نشان باہر والوں کو معمولی یا عجیب لگتے ہیں۔ ہاتھ سے چاول کھانے کا طریقہ، یا تھائی لینڈ میں چوپ سٹک کے بجائے چمچہ استعمال کرنا۔ پیوبلو قبائل کا برتنوں کے باہر سیاہ رنگ کے نقش و نگار بنانا۔۔۔
کسی کو جیسا بھی نظر آئے لیکن جو ان نشانوں کو استعمال کرتے ہیں، ان کے لئے یہ عین منطقی ہیں۔ گنجا عقاب اور ریچھ ماہر شکاری ہیں۔ یہ امریکہ اور روس کیلئے نشان ہیں۔ اور ان سے وابستگی معاشی گوند کا کام کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے کئی نشان ہیں جن کا تعلق بائیولوجی سے بھی ہے۔ کئی بار کوئی میوٹیشن آبادی میں پھیل جاتی ہے اور ایک آبادی کو کچھ مختلف کر دیتی ہے۔ آج سے ہزاروں سال قبل مویشی سدھائے جا رہے تھے تو ایک بہت مفید میوٹیشن نے یہ ممکن کیا کہ بالغ لوگ دودھ میں پایا جانے والا لیکٹوز ہضم کر سکتے تھے۔ یہ بہت سی آبادیوں میں پھیل گئی لیکن سب میں نہیں۔ تنزانیہ میں چرواہوں کے قبائل بارابیگ کو دودھ مزیدار لگتا ہے اور ان کی خوراک کا بڑا حصہ ہے۔ ان کے قریب رہنے والے شکاری قبائل ہاڈزا کو ڈیری مصنوعات سے متلی ہوتی ہے۔ خوراک کی یہ خلیج فزیکل اور کلچرل علیحدگی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان میں زیادہ تر نشان بصارت اور سماعت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ذائقے کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ چینی محاورہ ہے کہ “حب الوطنی ان لوگوں کے ساتھ محبت ہے جن کے ساتھ کھانوں میں آپ کا مزاج ملتا ہے”۔ چین میں کنکھجورے، جاپان میں بھِڑ کا اچار، کولمبیا میں فرائی چیونٹیاں، نمیبیا میں کچی دیمک، گابون میں چوہوں کے تکے، تھائی لینڈ میں مویشیوں کی جنین ۔۔۔ کسی کے لئے لذت بھرے اور کسی کے لئے ابکائی لانے والے۔ دونوں گروہوں کے لئے ایک دوسرے کا رویہ حیران کن ہو سکتا ہے۔
ایسے بہت سے نشان کلچر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہ نسل در نسل چلنے والی خاصیتیں ہیں۔ کسی کے لئے عام، کسی کے لئے عجیب۔ یہ سوسائٹی کے شہری ہونے کی حیثیت سے ہم سیکھتے ہیں اور معمول کے طور طریقوں کے توقع ان سے آتی ہے۔
اور پھر اخلاقی اقدار اور ضابطہ حیات۔ کیا درست ہے، کیا غلط، کیا معقول ہے، کیا قابلِ قبول ہے۔ سخاوت، ہمدردی، ہمارے یقین اور رویے۔ یہ سب وہ سماجی گوند ہے جو ہمیں اپنی سوسائٹی سے باندھتی ہے۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply