ہم سات ، ایک ساتھ , سفر نامہ(5)-زید محسن حفید سلطان

ہم بائیس  گھنٹے کا طویل سفر کر کے موجودہ عروس البلاد سے قدیم عروس البلاد تک پہنچ چکے تھے ، اور یوں ہمارا سندھ کے دارالحکومت سے لے کر پنجاب کے دارالحکومت تک کا سفر مکمل ہوا ، اور اب ہم نے پاکستان کے دل ، اور اہلیان دل کے شہر میں داخل ہونا تھا جو لوہ کوٹ ، لوہ پور اور لہاور سے ہوتا ہوا لاہور تک پہنچا تھا اور جسے اب لوگ “لور” بھی کہتے ہیں ، یہ وہ شہر ہے جس کی بنیاد ہندوؤں نے رکھی اور پھر ایک عرصہ ہندو حکومت کرتے رہے پھر بلآخر یہ محمود غزنوی کے ہاتھوں فتح ہو کر مسلمانوں کا نہ صرف شہر بن گیا بلکہ ایک زمانے تک غزنوی حکومت کا پایہ تخت بھی رہا ، یہاں پر محمود غزنوی نے اپنے مشہور غلام “ایاز” کو صوبیدار مقرر کیا ، یوں ایاز اس شہر کا پہلا مسلمان والی ہوا ، یہ وہی ایاز ہے جس کے حوالے سے اقبال کا شعر زبان زد عام رہتا ہے کہ:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا ، نہ کوئی بندہ نواز

اس کے بعد جب غزنوی حکومت کو زوال آیا تو خاندانِ غلاماں اور غوری خاندان کی حکومت رہی جس میں لاہور بھی زوال پذیر ہی رہا لیکن بالآخر امیر تیمور کا دور آیا اور یہاں سے لاہور میں خوشحالیوں کا ایک نیا باب شروع ہوا اور یہ ترقی کا سفر مغل بادشاہوں تک جاری رہا جنہوں نے یہاں پر خوبصورت عمارتیں تعمیر کروائیں ، سڑکیں بنوائیں اور بہت سی ترقیاں کی۔۔۔۔۔
اور اب ہم ایک ایسے دور میں ہیں جب سارے پاکستان میں لاہور کی خوبصورتی کے چرچے ہیں ، اور بہت سے لوگوں کے مطابق لاہور آج بھی ترقی کر رہا ہے کیونکہ “لور لور اے”

خیر ہم اسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر لاہور کے اسٹیشن سے نکلے اور فریش ہونے کیلئے چھوٹا سا کمرہ لے لیا ، ادھر سب نے باری باری نہانا شروع کیا ادھر میں اور عبید سب کے کپڑے اٹھائے استری کروانے کیلئے دے آئے ، جب ہم واپس کپڑے لینے گئے تو استری والے کے پاس بیٹھے چاچا نے بڑے غصہ سے مجھے بلایا اور پنجابی میں بولنا شروع ہوئے ، “اوئے توانو کوئی شرم آندی اے کے نئی؟” (اوئے ، تمہیں شرم آتی ہے یا نہیں) میں نے بھی اپنے تئیں پنجابی میں پوچھا: “ہویا کی اے” اور بھی کچھ بولنا چاہا جو مجھے خود سمجھ نہ آیا کہ کیا بولا ہے میں نے ، پھر چاچا نے میری ٹوٹی پھوٹی پنجابی کو بھانپتے ہوئے خود اردو میں بات کرنے کی کوشش کی اور کہا “آپ کو تیس چالیس روپے کی پڑی سی ، ہور ابھی تہاڈے دس ہزار روپے دا نصقان (نصقان ہی کہا تھا) ہو جاتا” میں نے کہا “خیریت؟ کیا کپڑے جل گئے” اتنے میں استری کرنے والے نے کہا “نہیں پائی جی ، آپ کے پیسے نکلے ہیں جیب سے” میں نے ایک دم حیران ہو کر پوچھا “کس جیب سے” اور پھر میں خود ہی جھینپ گیا ، کیونکہ میری ہی جیب میں پیسے رکھے ہوئے تھے ، جو الحمد للہ بچ گئے تھے ، اور یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا جس سے اندازہ ہوا کہ ابھی بہت سی اچھائی باقی ہے بلکہ بقول عبید “بہت سی اچھائی ہوتیں ہیں اسی لئے قومیں وجود رکھ پاتی ہیں ، اگر سراسر برائی ہی پھیل جائے تو پھر بربادی اور تباہی ساری قوم کو لپیٹ میں لے لیتی ہے” ، اس اچھائی کا بدلہ ہم نے چاچا کی میٹھی گرم کر کے ادا کیا اور پھر شکریہ کہتے ہوئے واپس کمرے کو لوٹ گئے ، جب سب نہا دھو کر تیار ہو لئے تو نمازوں کیلئے قریب ہی دالگراں والی مسجد کا رخ کیا اور نماز کے بعد کا پروگرام یوں بنا کہ سب تو چلے گئے لاہور گھومنے اور میں اور عبید چلے گئے میری پھوپھو کے گھر۔۔

ویسے لوگ لاہور جاتے ہیں تو مزاروں اور آستانوں پر بھی حاضری دیتے ہیں لیکن چونکہ ہم مزرات اور آستانوں سے دور ہیں اس لئے لاہور میں ہمارا آستانہ یہ پھوپھو کا گھر ہی ہوتا ہے ، جہاں حاضری دینا ہمارا لازمی فرض بنتا ہے ، اور یہ وہ واحد ٹھکانہ ہے جہاں ہم کسی کو میزبانی کی تکلیف دیتے ہیں ورنہ ہماری سارے سفر میں کوشش یہی ہوتی ہے کہ جہاں بھی رکیں ، جس بھی شہر میں جائیں کسی کیلئے بوجھ نہ بنیں ، بلکہ خود ہی گھومنے پھرنے پر اکتفا کریں اور ہوٹل وغیرہ میں رک جائیں ، لیکن میری طرف سے تو یہ حال ہے کہ اگر لاہور جاؤں اور پھوپھو کے ہاں حاضری نہ دے پاؤں تو اس پر نہ صرف پوچھ گچھ ہوتی ہے بلکہ ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ، اور یہی خوبصورتی ہوتی ہے رشتوں کی ، لوگ یونہی رشتوں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔

خیر جی ہم پھوپھو کے ہاں پہنچے ، خوب باتیں ہوئیں ، ہنسی مذاق ہوا اور پھر پر تکلف عصرانہ بھی پیش کیا گیا ، کھانے میں جہاں شاندار پلاؤ اور مزیدار چرسی کڑاہی تھی وہیں شیر خورمہ بھی ساتھ موجود تھا ، اور شیر خورمہ ہمیں یہ بتانے اور یاد دلانے کیلئے کافی تھا کہ آج عید کا تیسرا دن ہے جو ہم کسی دہلی والے کے ہاں منا رہے ہیں ، لذیذ کھانے سے فارغ ہو کر ہم نے عیدی وصول کی اور اجازت چاہی ، یوں اور ہم نے مغرب کے بعد “گریٹر اقبال پارک” کا رخ کیا جسے ہم کسی زمانے میں مینارِ پاکستان یا پھر بادشاہی مسجد کے نام سے یاد کرتے تھے۔۔۔۔لیکن آج اس کو ایک پارک بنا دیا گیا ہے ، جس کے احاطے میں بادشاہی مسجد ، مینارِ پاکستان ، شیش محل ، مقبرہ اقبال ، عجائب گھر اور گریٹر اقبال پارک سب کچھ ہی یکجا ہو گئے ہیں۔
میں اور عبید تو چلے گئے تو دوسری طرف ، باقی پانچ ساتھیوں کے ساتھ کیا ہوا ، بتاتے ہیں ہم ان کی کہانی ہمارے اسماعیل بھائی کی زبانی۔۔۔
(یہ باتیں اسماعیل بھائی نے مجھے بتائی تھیں جو کچھ کمی بیشی کے ساتھ حاضر ہے میرے ہی کی بورڈ سے)

ہم پانچوں نے کھانا کھایا اور پھر مینارِ پاکستان کی راہ لی ، لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو پتا چلا کہ صرف فیملی والوں کو اندر جانے دے رہے ہیں ، ہم نے سوچا کوشش کرتے ہیں شاید نکل جائیں ، لیکن کوشش نا کام نظر آئی ، پھر ہم نے فیملی والوں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ، اب کسی کی امی ساتھ لے جانے کو مان جائیں تو ابو انکار کر دیتے ، اور اگر کسی کے ابو مان جاتے تو امی انکار کر دیتیں ، اور بہت ساری فیملیوں سے تو کہنے کا ہمارا بھی منہ نہیں پڑا ، جب فیملیوں کی طرف سے بھی مایوسی ہوئی تو ابراہیم نے کہا “یار کوئی کڑی پکڑ لیتے ہیں ، اور باتیں کرتے ہوئے اندر نکل لیتے ہیں” لیکن سوال یہ تھا کہ “بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالے کون؟” سب ایک دوسرے کو آگے کرنے لگے لیکن بات یہی مناسب معلوم ہوئی کہ “جو بولے وہی کنڈی کھولے” ، یعنی ابراہیم ہی کوئی کڑی شڑی پکڑ لے اور باقی سب مفت میں پیچھے پیچھے چلے جائیں۔۔۔۔لیکن یہ کام ایسا تھا جو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا ، اب اس کو یہ کہہ لیں کہ “جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں” یا یہ کہہ لیں کہ “تربیت ایسے کاموں کی اجازت ہی نہیں دیتی” الغرض یہ والا پروگرام بھی وڑ گیا ، بلکہ اصل پروگرام تو ابھی باقی ہے جس کو سن کر مجھے احساس ہوا کہ وڑنا تو اسے کہتے ہیں ، ہوا یہ کہ ہم لوگوں کو کچھ لڑکے نظر آئے جو ایک جگہ جمع ہو کر کوئی پلاننگ وغیرہ کر رہے تھے ، میں تو دور ہی رہا لیکن شاید کچھ ساتھیوں نے سوچا کہ ان کے ساتھ نکل لیں گے اس لیے وہ بھی ان کے ساتھ جمع ہو گئے ، لیکن یہاں انہونی یہ ہوئی کہ پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا اور اس کی زد میں کوئی آیا نہ آیا ابراہیم ضرور آ گیا ، یوں ابراہیم کو دو ڈنڈے لگے جن میں سے ایک تو نیل بھی چھوڑ گیا۔

یہ بات توقع کے بر عکس ضرور تھی لیکن حوصلے ابھی بھی جوان تھے ، اور واپس نہ لوٹنے کا عزم جو کر لیا تھا اب اس کی تکمیل کرنی تھی ، جس کیلئے ایک راستہ تو یہ تھا کہ کسی پولیس والے کو فی بندہ پانچ سو روپے ادا کرو اور اندر چلے جاؤ ، (یہ آفر ہمیں پولیس والوں نے خود دی تھی) اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ سارے راستے چھوڑ کر کسی غیر متعلقہ جگہ سے رسائی حاصل کرو اور پیسے بھی بچا لو۔

یہاں پر ہم نے دوسرے راستے کو چنا اور کسی ایسے راستے کی تلاش میں نکل گئے جس کو راستہ نہ کہا جاتا ہو ، پارک کے ارد گرد چکر لگاتے ہوئے ایک سنسان سی گلی ہماری نظروں سے گزری ، جس پر ہم نے فیصلہ کیا اب ہم یہاں سے گزریں اور سنسانی کو کسی گھمسانی سے بدل ڈالیں ، ہم ڈرتے ڈرتے آگے بڑھنے لگے اور جتنا اندر جاتے رہے اتنی ہی لمبی چوڑی دیوار ہمارے سامنے آتی رہی ، یہ کسی قلعے کی دیوار تھی ، ہم قریب پہنچے ، ادھر ادھر دیکھا اور پھر قلعے کی دیوار میں کوئی شگاف تلاش کرنے لگے جس کے ذریعہ ہم اندر جا سکیں ، کوئی شگاف تو نظر نہ آیا لیکن ایک جگہ قلعے کی دیوار کچھ ٹوٹی پھوٹی سی محسوس ہوئی جو ہمارے لئے سیڑھی کا کام دے سکتی تھی ، بس پھر ہم نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور بسم اللہ پڑھ کر اوپر چڑھ گئے ، لیکن جب اوپر پہنچ کر دیکھا تو ہم پانچ کی بجائے چار افراد تھے ، “ارے یہ عبدالباسط کہاں ہے؟” اور پھر عبدالباسط کو لینے کیلئے ابراہیم کو ایک بار پھر نیچے آنا پڑا ، آخر اس طرح کا کوئی کام عبدالباسط نے زندگی میں پہلی بار جو کیا تھا۔

خیر ، یہ نہ ہی تو وہ پہلا کام ہے اور نہ ہی آخری جو عبدالباسط کی زندگی میں پہلی بار ہوا ، بلکہ پہاڑ چڑھنے سے لے کر کھیر کھانے تک اس طرح کے ہزاروں کام مل جائیں گے جن پر عبدالباسط نے یہ ڈائلاگ کہا کہ: “یار میں نے یہ کام زندگی میں پہلی بار کیا ہے” اور یہ جملہ اتنا زیادہ بولا گیا پریشان ہو کر کسی نے یہ ہی کہہ دیا کہ “زندگی میں عبدالباسط زندہ ہی پہلی بار ہو رہا ہے” ، اور یہ سب سفر کا حصہ ہے اور اسی لئے سفر کئے جاتے ہیں تاکہ کچھ نیا کرنے کو ملے ، بلکہ ابراہیم تو اکثر یہ کہتا ہے کہ “ہر کام زندگی میں پہلی بار ہی ہوتا ہے” اس لئے ڈنڈے کھانے سے لے کر قلعہ پھیلانگنے تک کے پہلی بار والے اس مشکل لیکن یادگار کارنامے میں سب سے آگے آگے ابراہیم ہی کا ذکر ملتا ہے۔

اندر داخل ہونے کے بعد کون سی جگہ کیسی تھی؟ اور اس کی کہ تاریخ کیا تھی ، وہاں پر لوگوں کے کیا حالات تھے ، یہ سب اور دیگر تفصیلات جاننے کیلئے ہمارا پچھلا سفر نامہ “سفر در سفر” ملاحظہ کیجئے ، جس میں آپ کو اس جگہ کی تاریخ بھی مل جائے گی اور اقبال کے شاہینوں کی دلچسپ حرکات بھی۔۔

عشاء کے قریب یہ پانچوں گھوم پھر کر جب باہر نکلے تو میں اور عبید ان کے انتظار میں پہلے سے موجود تھے ، اور یوں تھوڑی دیر وقفے کے بعد ایک بار پھر “ہم سات ، ایک ساتھ” ہو گئے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

زید محسن حفید سلطان
ایک ادنی سا لکھاریسیک ادنی سا لکھاری جو ہمیشہ اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply