سماج (4) ۔ ارجنٹائن چیونٹی/وہاراامباکر

اگر ایک ارجنٹائن چیونٹی کو سان فرانسسکو سے پکڑا جائے اور سینکڑوں کلومیٹر دور میکسکو کی سرحد کے دوسری طرف چھوڑ دیا جائے تو اسے کچھ نہیں ہو گا۔ یہ ایک طرح سے اپنے گھر میں ہی ہو گی۔ یہاں کی چیونیٹیوں کی سرحدی فوج اسے اپنی قوم کا حصہ سمجھے گی۔

Advertisements
julia rana solicitors

لیکن اگر اسے درمیان میں سان ڈیاگو کے مضافات چھوڑ دیا جائے؟ اب اس کے لئے بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں تو پتا نہیں لگے گا لیکن اس کی زندگی جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ اسے یہاں کی سرحدی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ لاشوں کے ڈھیر میں ایک اضافہ ہو جائے گی۔ لوگوں کے گھروں کے لان سے لے کر قطار در قطار سرحدی فوج ہر روز دس لاکھ سے زائد چیونٹیوں کو مارتی ہے جو کہ ان کی اپنی قوم کی نہیں ہیں۔ یہ شاید دنیا میں سب سے بڑا جنگ کا میدان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس جنگ کے بارے میں اور ان کی سرحدوں کی نوعیت اور چیونٹیوں کے رویے سے پردہ اس وقت اٹھا جب محققین نے دو الگ جگہوں سے چیونٹیوں کے sample اکٹھے کئے۔ اتفاقی طور پر یہ دو الگ سپرکالونیوں کا حصہ تھے۔ سائنسدانوں کے لئے حیران کن یہ تھا کہ جب انہیں اکٹھا رکھا گیا تو ان کے درمیان جنگ پھوٹ پڑی جن میں سے کئی چیونٹیاں ماری گئیں۔ یہ توقعات کے برخلاف تھا۔ اور اس نے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کی کہ قدرت میں معاشرے کیسے بنتے ہیں۔ جنگ و جدل اور قتل و غارت گری اس کا لازم حصہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ بڑے دماغ والے فقاریہ جانور عام طور پر چند درجن افراد سے بڑی سوسائٹی نہیں بنا پاتے۔ جبکہ چیونٹی، جس کا نیورل ٹشو چھوٹا سا ہے، ان کے مقابلے میں بے پنا بہتر طریقے سے یہ کر لیتی ہے؟ لیف کٹر چیونٹی کی کالونی دس لاکھ افراد پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ ارجنٹائن چیونٹی کی سلطنت کا سائز دماغ چکرا دینے والا ہوتا ہے۔
اور یہاں پر ایک بڑا فرق ہے۔ ایک بھیڑیا یا چمپنیزی اپنی سوسائٹی کے ہر فرد کو جانتا ہے۔ لیکن کیڑوں کے ساتھ ایسا نہیں۔ چیونٹی یا شہد کی مکھی اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی فرد کے طور پر نہیں پہچانتے۔ چیونٹیوں کے درمیان تعلقات غیرشخصی ہیں۔ چیونٹیوں میں اپنی شخصیت کے فرق ضرور ہوتے ہیں۔ مثلاً، کئی مزدور چیونٹیاں دوسروں سے زیادہ محنتی ہوں گی۔ لیکن ان “اچھی” چیونٹیوں کی اس اضافی محنت کو سوسائٹی میں پہچانا نہیں جاتا۔ کسی ایک کا کسی دوسرے سے خاص دوستی یا تعلق نہیں ہوتا۔ یہ کسی فریق سے اتحاد نہیں کرتی یا اس سے رقابت نہیں رکھتیں۔ چیونٹی کیلئے فرد نہیں، بلکہ سوسائٹی کی اہمیت ہے۔
اور یہ وجہ ہے کہ ارجنٹائن چیونٹی کو اگر اپنی سپرکالونی میں کسی بھی جگہ پر چھوڑ دیا جائے (خواہ یہ سینکڑوں کلومیٹر دور ہو) تو یہ اپنا کام ویسے ہی کرنا شروع کر دے گی جیسا کرتی رہی ہے۔ اسے کوئی دلچسپی نہیں کہ اس کے ساتھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ اپنی موت کے وقت تک اس نئی جگہ میں گھومتی پھرتی رہے گی۔
چیونٹیاں ایک دوسرے کیلئے ہمیشہ کیلئے اجنبی ہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر یہ اپنی سوسائٹی اور دوسری میں تفریق کیسے کر لیتی ہیں؟
(جاری ہے)

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply