اختصاریئے    ( صفحہ نمبر 62 )

مبینہ گستاخ کی گرفتاری

چترال: نماز جمعہ کے بعد مسجد میں مبینہ طور پر گستاخانہ الفاظ کی ادائیگی پر ایک شخص ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا،مشتعل افراد کا تشدد،امام مسجدنے پولیس کے حوالے کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق :پختونخوا کے ضلع چترال میں نماز←  مزید پڑھیے

سو لفظ: مجبور قانون

اوئے تم تو پکڑے گئے تھے! اُسے آزادانہ پھرتے دیکھ کر میں نے حیرانی سے پوچھا۔ ہاں! لیکن چھوٹ کیسے گئے؟ بس یہی تو کمال ہے! پر کیسے؟ بھئی قانون میں کئی راستے ہوتے ہیں۔ تم نے قانون پڑھا ہے؟←  مزید پڑھیے

حاضر حاضر لہو ہمارا

شہر کی مشہور شاہراہوں پر بڑے بڑے بینر آویزاں تھے۔ بینرز پر قائد کی بڑی تصویر کے نیچے قائد کے جانثاروں کی تصویریں بھی چھپی ہوئیں تھیں۔ جان نثاروں کی طرف سے اپنے قائد کے ساتھ وفاداری کا نعرہ بھی←  مزید پڑھیے

قوم کا نوحہ

میں نوحہ لکھوں بھی تو کس کے لیئے؟۔۔۔ میں آہ و زاری کروں بھی تو کیوں ؟۔۔ یہاں قوم نے بے شرمی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔اسے مارا جائے،زندہ درگور کیا جائے ،اس کےحقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے ، لوٹا←  مزید پڑھیے

منی ٹریل بتائیں

منی ٹریل بتائیں۔۔ مائی لارڈ۔۔"اللہ کے فضل و کرم "سے موٹر وے۔۔اسے چھوڑیں منی ٹریل پلیز۔۔۔ میرے موکل نے" اللہ کے فضل و کرم "سے میٹرو۔۔۔ اسے چھوڑیں منی ٹریل بتائیں۔۔۔ مائی لارڈ،"اللہ کے فضل و کرم "سے میرے موکل←  مزید پڑھیے

بیانیہ بدلو قانون بدلو

ماڈل ٹائون میں ماورا ئےعدالت دسیوں لوگ مارے گئے.کسی نے بھی ریاست کا بیانیہ بدلنے کی بات نہیں کی، نہ ہی قانون بدلنے یا ختم کرنے کی.ایسے ہی لاہور میں ایک غریب مزدور نوجوان کے عیسائیوں کے ہاتھوں ماورائے عدلت←  مزید پڑھیے

گھڑی اور وقت

اس کی کلائی پر گھڑی صبح کے نو بجا رہی تھی، جب کہ دیوار کی گھڑی پر رات کے نو بجے تھے۔ درحقیقت جب وہ سفر سے واپس آیا تو اس نے اپنی گھڑی درست نہیں کی۔۔ پہلی نظر میں←  مزید پڑھیے

غفلت ہی وجہ ء پشیمانی ہے

پچھلے دو دن سے کچھ خاموش خاموش ہوں ،کہیں دل نہیں لگ رہا۔ طبعیت میں عجیب سا اضطراب ہلکورے لے رہا ہے۔ جی جناب دو دن پیچھے میری سال۔گرہ تھی میں تیس سال کا ہوگیا ہوں۔ ۔یعنی کے آدھی زندگی←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ احتیاط

اس کے اشارہ کرنے پر میں نے بائیک روکی بھائی۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اگلے اسٹاپ تک ڈراپ کردیں مجھے جلدی ہے۔۔۔۔۔۔ ہاں بیٹھو۔۔۔۔۔۔ بھائی جان ایک بات کہوں وہ گویا ہوا۔۔۔۔۔ ہاں بولو ۔۔۔۔۔۔؟ سر ایسے کسی انجان کولفٹ نہیں دینی چاہیے←  مزید پڑھیے

معصوم بھکاری بچے

پاکستان میں بھکاریو ں کی بڑھتی شرح نا ممکن حد تک جا رہی ہے۔ ہر سگنل پر آٹھ دس بھکاری نظر آئینگے۔ گلی کوچوں بازاروں میں گھومتے پھرتے بھکاریوں کا تو کوئی شمار نہیں ۔ اور تو اور چھوٹے چھوٹے←  مزید پڑھیے

سو لفظ: دوا

دوا باقاعدگی سے لے رہے ہیں۔ جی ڈاکٹر صاحب! اس کے منہ سے بس یہ ہی نکل سکا۔ آپ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ پھل، یخنی اور نرم غذا کھائیں۔ جی ڈاکٹر صاحب! کھانسی مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ←  مزید پڑھیے

تیسری طرف سے

وہ کتاب خریدتا ہے۔اس کا عنوان اور سرورق دیکھ کر صفحات گنتا ہے۔ کتاب کھولنے سے قبل وہ عنوان، سرورق اور صفحات کی تعداد کے سانچے میں ایک کہانی سوچتا ہے۔ پھر وہ کتاب کھول کر پڑھتا ہے اور اپنی←  مزید پڑھیے

روٹی

1۔ پارٹی میں سیٹھ درانی صاحب اپنے دوست کو بتا رہے تھے کہ ان کے سپلائی سنٹر میں کبھی پانچ ہزار سے کم آٹے کے تھیلے نہیں ہوئے۔ سیٹھ صاحب اعلیٰ پیمانے پر گندم کی سپلائی کا کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔!←  مزید پڑھیے

گستاخ رسول صلعم کی سزا,سر تن سے جدا

(انور جھوکیو) سر تن سے جدا ۔۔۔بالکل درست، لیکن بھائیو سزا سے پہلے کیس اور گواہان کا چلنا ضروری ہوتاہے پھر استغاثہ کا ثابت ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور یہ اختیار آپ کے پاس نہیں ہے۔ یہ کورٹ کا←  مزید پڑھیے

میڈیا

مدرسوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔ بظاہر تو ان کی گذر بسر کا کوئی اسباب نظر نہیں آتا۔ کس طرح اپنا اور طالبِ علموں کا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ میں نے بیان دیا۔ میڈیا کے سبھی حلقوں میں مجھےکافی پذیرائی←  مزید پڑھیے

’’ڈیل‘‘ (سو لفظوں کی کہانی )

چاچے بوٹے کی بانو نے پرائمری پاس ہونے پرکے ایف سی ڈیل مانگی تھی ۔ کے ایف سی کاونٹر سے بوٹے نے بروشر لیا، اور بیٹی سے کہا۔ ’’کونسی ڈیل ۔۔۔؟‘‘ ’’ابا۔۔۔! یہ ڈیل تین سو میں آجائے گی، تصویر←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی ۔ درندے

تمھیں شوق تھا انسان دیکھنے کا ۔وہ آپس میں باتیں کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔ یہ کس کو ما رہے ہیں۔۔۔۔؟ شاید کسی انسان کو۔۔۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔۔؟ معلوم نہیں۔۔۔۔۔ کیا یہ اسے کھانے والے ہیں۔۔۔؟ نہیں انسان انسان کو نہیں کھاتا۔۔۔۔۔ تو←  مزید پڑھیے

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

کچھ عرصہ پہلے تک ہر ماں صبح اٹھ کر بچوں کو یہ سوچتے ہوئے اسکول بھیجتی تھی کہ یہ ٹھکانے لگے تو میں بھی اطمینان سے گھر کے کام نمٹا لوں ، لیکن 16 دسمبر 2014 اے پی ایس (آرمی←  مزید پڑھیے

’’ تھر کے پھول‘‘(سو لفظوں کی کہانی )

ڈی سی صاحب رونق افروز تھے۔ تھر سے آئے ہوئے لوگ ان سے دبے محسوس ہو رہے تھے۔ ’’ بھئی سناؤ ،تھر کے موروں کا ، کیسا دلفریب منظر ، جب مور رقص کرتے ہیں، اور تھر کے فنکار آواز←  مزید پڑھیے

سو لفظ: جوتے

باؤ سائیڈ تے لا ۔۔۔لائسنس وکھا؟ گھر ہے صاب! تے گڈی دے کاغذ؟ وہ بھی صاب! گھر بچے دے رے نے! غلطی ہو گئی صاب! بچے غلطی دی سزا وی ہوندی اے! معاف کر دو صاب! اچھا فیر ہور کج←  مزید پڑھیے