تیسری طرف سے

وہ کتاب خریدتا ہے۔اس کا عنوان اور سرورق دیکھ کر صفحات گنتا ہے۔
کتاب کھولنے سے قبل وہ عنوان، سرورق اور صفحات کی تعداد کے سانچے میں ایک کہانی سوچتا ہے۔
پھر وہ کتاب کھول کر پڑھتا ہے اور اپنی سوچی ہوئی کہانی سے مصنف کی کہانی کا تقابل کرتا ہے۔
اس کا خود پر اور مصنف پر اعتماد جاتا رہتا ہے۔ پھر وہ لکھتا ہے، ایک ایسی کہانی جو تیسری طرف سے ہوتی ہے۔
سوچی اور پڑھی ہوئی کہانی سے بالکل مختلف۔

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *