غفلت ہی وجہ ء پشیمانی ہے

پچھلے دو دن سے کچھ خاموش خاموش ہوں ،کہیں دل نہیں لگ رہا۔ طبعیت میں عجیب سا اضطراب ہلکورے لے رہا ہے۔ جی جناب دو دن پیچھے میری سال۔گرہ تھی میں تیس سال کا ہوگیا ہوں۔ ۔یعنی کے آدھی زندگی جی چکا ہوں، مگر میں اس تیس سالہ زندگی کو جینے سے یکسر انکاری ہوں۔ ابھی میری کونسی شادی ہوگئی ہے، کونسے تین چار بچے ہیں، کونسا میں نے اپنی جمع پونچی سے ماں باپ کو حج کروادیا۔ میں آدھی زندگی جینے کا اقرار کیسے کرلوں؟؟ یہ بات سچ ہے کہ وقت کسی کے لیے رکتا نہیں ہے، آگے ہی بڑھتا جاتا ہے مگر میں تو زندگیکی سڑک پر تھکا بھی نہیں۔۔ پھر کیسے اتنا عرصہ بیت گیا؟؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا یہ فریب ہے۔تیس سال گزار کر جس طرح میں اس زندگی سے انکاری ہوں بالفرض ساٹھ سال کی عمر میں جب موت کا فرشتہ روح قبض کرنے آئے گا تو تب بھی میرا ری ایکشن کم و بیش یہی ہوگا کہ” جناب ابھی میں جیا ہی کتنا ہوں کہ مر جانے کے لیے کمر کس لوں؟؟ انسان سو سال بھی جیے تو وہ پھر بھی شاید اس زندگی کے جینے سے انکاری ہی ہوگا اور تشنہ بھی۔
میں آئینے کے سامنے بیٹھا اپنے چہرے پر تیس سالہ زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں تیس سال کدھر گئے؟ کچھ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں شاید یاد آ جائے۔ اللہ والوں کی بھلائی میں گزرے؟؟؟ نہیں بالکل نہیں، مسجد میں ؟ نہیں۔۔۔ تو پھر گئے کدھر؟ پریشانی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ عمر کی یہ ریل گاڑی کہیں پر رکنے کا نام نہیں لے رہی اور مسلسل آگے سے آگے نکلتی جا رہی ہے، آدھی زندگی بیت گئی، تادم تحریر اس پل سے لیکر ساٹھ سال تک موت کا کسی بھی ٹائم بلاوہ آ سکتا ہے۔ ایسی کیا بات ہوسکتی ہے جو میرا اضطراب و پشیمانی کم کرے؟۔۔ جی جناب ایسا فقط اللہ کے احکامات، رسول پاک ﷺ کی سنت پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔ زندگی نے جو چار دن کی مہلت دی ہے وہ تو گزر ہی جائے گی چاہے اسے آپ شراب و شباب میں گزارنا چاہیں یا مسجد کے محراب میں۔ اصل چیز موت کے وقت موت کے لیے تیار ہونے کی ہے۔ اگر اپنی زندگی میں حقوق العباد ، احکامِ الٰہی کا خیال رکھا گیا ہو تو موت کو یقیناً خوشی خوشی گلے لگایا جائے گا۔ اگر غفلت میں زندگی کاٹی ہوگی یہی حال ہوگا سو سال جی کے بھی کم لگے گا اور اللہ سے شکوہ کناں ہوں گے کہ اللہ پاک! ابھی میں جیا ہی کتنا ہوں، ابھی میرے ہاتھ سے تیری مخلوق کو خیر پہنچی ہی کہاں ہے؟ ابھی میں نے تجھے راضی ہی کہاں کیا ہے ؟

احسان اللہ خان
احسان اللہ خان
عام شہری ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *