روٹی

1۔ پارٹی میں سیٹھ درانی صاحب اپنے دوست کو بتا رہے تھے کہ ان کے سپلائی سنٹر میں کبھی پانچ ہزار سے کم آٹے کے تھیلے نہیں ہوئے۔ سیٹھ صاحب اعلیٰ پیمانے پر گندم کی سپلائی کا کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔!
2۔ قریب ایک چوک میں پھٹے پرانے کپڑے لگائے ایک فقیر صدا لگا رہا ہے، او خدا کے بندو۔۔غریب کی پکار سنو ۔۔۔ایک روٹی خدا کے نام پر دے دو ۔۔۔دو دن سے بھوکا ہوں۔گھروں میں بستروں میں گھسے ان سب لوگوں کو اس کی یہ صدا سنائی دے رہی ہے جنہوں نے اچھے طریقے سے سیر ہو کر کھانا کھایا ہوا ہے اور ان کے فریج کھانے سے بھرے ہوئے ہیں۔
3۔ اسی شہر میں ایک بچہ اپنی ماں سے بلک بلک کر ضد کر رہا ہے کہ آج اسے دوروٹیاں دیں کھانے کے لیے۔۔۔ایک روٹی سے پیٹ نہیں بھرتا۔ ماں اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہتی ہے کہ کل دو کھا لینا آج اسی پر گزارا کر لو۔۔۔تسلی دیتی ماں کی آنکھوں میں آنسودیکھ کر گھر کے درو دیوار بھی سوگوار ہیں۔ بچہ بلکتے بلکتے کچھ کھائے بنا ہی سو گیا اور ماں اس سوئے ہوئے کے منہ میں روٹی کے نوالے ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن بچے نے منہ اتنے زور سے بند کیا ہے کہ لقمہ تو دور کی بات پانی کا گھونٹ تک نہیں جا سکتا منہ میں!
4۔ اپوزیشن کے نقطہ اعتراض پر وزیر اعظم نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ افراط زر بڑھ گئی ہے، مہنگائی پر قابو پالیا ہے۔ ملک میں ترقی کا جال بچھا دیا ہے۔ بیرونی طاقتیں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ غربت کا خاتمہ ہو گیا ۔ پاکستان کا بہت جلد ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو گا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں ہمارے ہاں غربت ہے انہیں زمینی حقائق کا کوئی علم نہیں ہے!
5۔یہ مناظر دیکھ کر زمین اور آسمان دونوں خون کے آنسو رو رہے ہیں۔۔۔۔جن و مِلک حیران ہیں کہ بنی نوع آدم سے انسانیت کدھر گئی!!

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *